اپنا کام وقت پر کرو

ایک دفعہ ایک چوہدری شہر گیا۔ وہاں اس نے ایک وکیل کی بہت زیادہ شہرت سنی۔ وہاں کے لوگ کہہ رہے تھے کہ وہ وکیل ایک اشرفی کے بدلے ایک بات بتاتا ہے۔ چوہدری نے سوچا ! کہ کیوں نہ میں بھی وکیل سے کوئی بات سیکھوں ۔ وہ وکیل کے گھر گیا۔ اس نے وکیل سے کہا وہ کوئی بات سیکھنا چاہتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ میں ایک اشرفی کے بدلے ایک بات بتاتا ہوں۔ چوہدری نے وکیل کو ایک اشرفی دی۔ پھر وکیل نے چوہدری کو ایک صفحے پر ایک مصرعہ لکھ کر دیا۔

‘آج کا کام کل پر مت چھوڑو’ پھر جب چوہدری واپس اپنے گائوں پہنچا تو اس کے کھیتوں کے مزدور اپنی مزدوری مانگنے کے لیے آئے۔ انہوں نے جب چوہدری سے اپنی مزدوری مانگی تو چوہدری نے کہا کہ پہلے فصل کو گودام میں رکھو تب ہی مزدوری ملے گی۔ مزدوروں نے کہا کہ ہم فصل کو کل گودام میں رکھ دیں گے، ویسے بھی سارے گائوں کی فصل باہر پڑی ہے لیکن چوہدری نے کہا کہ میں نے آج یہی بات سیکھی ہے کہ’آج کا کام کل پر مت چھوڑو’ ۔ اس لیے تم سب فصل کو گودام میں رکھو تب ہی تمہیں مزدوری ملے گی، مجبوراً مزدوروں کوفصل گودام میں رکھنا پڑی۔ پھر اسی رات گائوں میں ا س قدر بارش ہوئی کہ تمام لوگوں کی فصل یا تو خراب ہو گئی یا انہیں کیڑا لگ گیا۔ لیکن چونکہ چوہدری کی فصل محفوظ رہی تھی توجب اس نے اپنی فصل کو فروخت کیا تو اسے بہت فائدہ ہوا۔ اس طرح چوہدری کو ایک اشرفی کے بدلے بہت فائدہ ہوا۔