عقل مند بادشاہ

وہ دونوں اطمینان سے گھوڑے دوڑاتے اپنے وطن جا رہے تھے۔ خوشحالی ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ وطن جانے کی خوشی میں وہ گھوڑوں کو سر پٹ دوڑاتے چلے جارہے تھے جب انہیں احساس ہوتا کہ ان کے وفادار جانور تھک چکے ہیں تو انہیں سبزہ زاروں میں پھرنے کے لیے چھوڑ دیتے اور پھر سفر شروع کردیتے۔

ان میں سے ایک کی عمر چالیس سال تھی جبکہ دوسرا اپنی عمر کی اٹھائیس بہاریں دیکھ چکا تھا، دونوں آپس میں سگے بھائی تھے۔ تلاش روزگار نے انہیں وطن سے بے وطن کر دیا تھا اور اب یہ پورے سات سال بعد اپنے گھر جا رہے تھے۔۔۔۔۔ ایک شہر سے گزرتے ہوئے انہوں نے ایک فقیر کی عجیب و غریب صدا سنی۔۔۔۔ جو کہہ رہا تھا۔
‘ کوئی ہے جو میرے ہاتھ پر تھوڑی دیر کے لئے دولت رکھ دے تا کہ میں دولت سے کچھ دیر لطف حاصل کر سکوں۔۔۔۔۔۔’
دونوں بھائیوں نے جب یہ صدا سنی تو انہوں نے اپنی جمع پونجی فقیر کے ہاتھ پر رکھ دی۔ جب تھوڑی دیر بعد وہ اپنی دولت فقیر سے لینے لگے تو فقیر نے شور مچا دیا کہ یہ دونوں میری دولت مجھ سے چھیننا چا ہتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا لوگ اکھٹے ہو گئے اور دونوں بھائیوں اور اس بھکاری کو بادشاہ کے پاس لے کئے۔
بادشاہ نے بھکاری اور دونوں بھائیوں کی بات سنی بھکاری کا کہنا تھا کہ یہ اس کی دولت ہے اور یہ دونوں بھائی اس سے چھیننے لگے کہ اس نے شور مچا دیا اور یوں معاملہ آپ کے پاس آگیا۔ دونوں بھائیوں کا کہنا تھا کہ وہ دونوں روزی کمانے نکلے تھے اور قصاب کا کام کرتے تھے اور اب اپنے وطن واپس جا رہے تھے کہ راستے میں اس فقیر کی صدا سنی کہ میں دولت کا مزا حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی میرے ہاتھ پر تھوڑی دیر کے لئے دولت رکھ دے۔ ہمیں اس پر ترس آگیا۔ ہم نے اپنی دولت اس کے ہاتھ میں دے دی، جب ہم نے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس نے شور مچا دیا۔
بادشاہ نے دونوں کی بات سنی اور فوراً حکم دیا۔ ‘ ایک برتن میں گرم پانی لائو۔۔۔۔۔۔’
سب حیران رہ گئے کہ بادشاہ نے بجائے فیصلہ سنانے کے یہ کیا حکم دے دیا۔ ادھر دونوں بھائی الگ خوفزدہ کہ اب بادشاہ نہ جانے ہمیں کیا سزا دے۔
بادشاہ نے فقیر سے تمام دولت لے کر گرم پانی میں ڈال دی، ان دنوں اشرفیاں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ سونے اور چاندی کے سکے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بادشاہ نے تمام دولت دونوں بھائیوں کو دے دی اور بھکاری کو قید خانے میں ڈلوادیا۔
تمام دربار حیران تھا۔ بادشاہ نے کیسے فیصلہ کر دیا۔ آخر ایک درباری نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔ بادشاہ سلامت آپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا۔۔۔۔۔؟ بادشاہ نے کہا۔۔۔۔۔ چونکہ دونوں بھائی قصاب ہیں۔ گوشت کاٹتے اور بیچتے ہیں ان کے ہاتھوں سے گوشت اور چکنائی کے ذرات اشرفیوں پر لگ کر جم گئے تھے ۔ گرم پانی میں گوشت اور چکنائی کے ذرے الگ ہو کر تیر نے لگے۔ بس میں نے ااندازہ لگا لیا کہ بھکاری جھوٹ بولتا ہے اور دونوں بھائی سچے ہیں۔