کُچھ لوگوں کے بال گُھنگریالے کیوں ہوتے ہیں؟

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بعض لوگوں کے بال سیدھے ہوتے ہیں اور بعض کے گھنگریالے ہوتے ہیں۔ بالوں کی یہ ساخت ایسی کیوں ہوتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جلد بظاہر ہموار نظر آتی ہے لیکن خوردبین سے دیکھا جائے تو یہ کسی کٹے پھٹے پہاڑی سلسلے کی طرح دکھائی دیتی ہے، جس کی کھائیوں میں بال اُگے ہوتے ہیں۔ یہ کھائیاں یا گڑھے فولیکل (Follicles) کہلاتے ہیں اور انہی کی بدولت بال سیدھے یا گھنگریالے ہوتے ہیں۔ سیدھے بال گول فولیکل سے اُگتے ہیں اور لہردار بال بیضوی شکل سے اور بے حد گھنگریالے بال چپٹے فولیکل سے اُگتے ہیں۔

بالوں کی ساخت یا بناوٹ کا انحصار فولیکل کی شکل پر ہوتا ہے جسے خوردبین سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیدھے بال گول شکل کے ہوتے ہیں اور لہردار قدرے بیضوی ، جبکہ گھنگریالے بال چپٹے ہوتے ہیں۔ بال جتنے زیادہ چپٹے ہو ں اتنے زیادہ گھنگرالے ہوتے ہیں۔ بالوں کی تعداد کا انحصار ان کے رنگ پر ہوتا ہے۔ بیشتر سنہری بالوں والے سر پر اوسطاً 1,40,000 اور سرخ بال اوسطاً 90,000 جبکہ سیاہ یا بھورے بال اوسطاً 1,10,000 کی تعداد میں ہوتے ہیں۔
بالوں کے بیشتر فولیکل میں ایک تیل والا غدود ہوتا ہے جسے شحمیہ غدود (Sebaceous Gland) کہتے ہیں۔ یہ غدود تیل یا روغنی مادہ پیدا کرتا ہے جو جلد اور بالوں کو چکنا کرتا ہے اور اس سے بال نرم رہتے ہیں۔
عمر بڑھنے پر زیادہ تر لوگوں کے بال سرمئی یا سفید ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روغنی مادہ جسے میلانن (Melanin) کہتے ہیں، بننا بند ہو جاتا ہے۔ اسی مادے کی وجہ سے بالوں کو ان کا قدرتی رنگ ملتا ہے۔