پیسہ

ثناء اور حنا دونوں بہت اچھی دوست تھیں۔ ایک ساتھ اسکول آتی جاتیں۔ ثناء کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا، اس کے والد کلرک تھے۔ اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں جبکہ حنا کے والد ایک ادارے میں افسر تھے ان کے یہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ اس لیے حنا کو تعلیم حاصل کرنے سے دلچسپی نہ تھی جبکہ ثناء اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے گورنمنٹ جاب حاصل کرنا چاہتی تھی تاکہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکے۔ نویں جماعت میں فیل ہونے کی وجہ سے حنا نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ جب ثناء نے اس سے پوچھا تو اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ ”تعلیم میں کیا رکھا ہے، میرے والد کے پاس پیسہ ہے۔ مجھے پڑھ کر کیا کرنا ہے، میں جب چاہوں ، ڈگری بنواسکتی ہوں۔”

ثناء نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، بی اے کے بعد اس نے نجی اسکول میں نوکری کرلی۔ ایک دن گورنمنٹ اسکول ٹیچر کی آسامی کے لیے اشتہار دیکھا اور دیئے ہوئے پتہ پر پہنچی۔ اس نے وہاں حنا کو دیکھا، ثناء کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ”تم نے آٹھویں پڑھ کر چھوڑ دیا تھا۔”

وہ بولی ۔” ہاں تم نے ٹھیک کہا۔ میں نے آٹھویں کے بعد چھوڑ دیا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ میں نے انٹر کر لیا ہے۔ یہ دیکھو میرا سرٹیفیکٹ۔”

ثناء نے کہا ۔” مگر یہ تو جعلی ہے۔”

” مگر سچ یہ ہے کہ میں انٹر پاس ہوں۔” حنا نے اسے بتایا۔

” تم نے سر ٹیفیکٹ کہاں سے اور کیسے حاصل کیا۔” ثناء نے پوچھا۔

”یہ سب تو پیسے کا کھیل ہے۔” وہ مسکرا کر بولی۔ کچھ دنوں بعد انٹر ویو تھا، وہاں حنا بھی تھی اور ثناء کو دیکھ کر مسکرائی اور بولی۔ ”میں یہ نوکری حاصل کر لوں گی جبکہ تم رہ جائو گی۔”

انٹرویوکے بعد ثناء گھر آگئی۔ وہ راستے بھر حنا کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی۔ کئی ماہ گزر گئے مگر اسے تقرری کا خط نہ ملا۔ وہ سمجھ گئی کہ رشوت اور سفارش کے بل پر جن کو جاب ملنی تھی، مل گئی۔ اس نے اسی جاب کو جاری رکھا اور ایم اے کرنے لگی تاکہ اچھی جاب حاصل کر سکے۔ ایک دن اسکول جاتے ہوئے اسے حنا مل گئی۔ اس نے ثناء سے کہا۔ ”مجھے گورنمنٹ اسکول میں نوکری مل گئی۔”

”کیا۔۔۔۔۔ کہیں تم مذاق تو نہیں کر رہیں؟” وہ بے یقینی سے بولی۔

” اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے، یہ سب پیسے کاکمال ہے، مجھ آٹھویں پاس کو نوکری مل گئی اور تم بی اے پاس پرائیویٹ اسکول میں نوکری کرنے پر مجبور ہو۔” حنا نے کہا۔

” کیا تم سچ کہہ رہی ہو۔” ثناء نے پوچھا۔

”ہاں یہ سچ ہے۔” حنا بولی۔

”مگر یہ سب کیسے ہوا؟” ثناء نے سوال کیا۔

” میرے وا لد کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں، میں نے پیسے کے بل پر یہ نوکری حاصل کی ہے جبکہ تم اسی جگہ موجود ہو۔” یہ کہہ کر حنا چلی گئی۔

ثناء کو اس کی باتیں حقیقت لگیں ، کیونکہ جہاں رشوت اور سفارش عام ہو وہاں قابلیت کی کیا اہمیت اور حیثیت۔ نہ جانے ملک میں کیسا ٰا نصاف ہے اور کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آخر کب تک میرے جیسے لاکھوں باصلاحیت اسی طرح ٹھوکریں کھاتے رہیں گے، اس نا ا نصافی کا ذمہ دار اور قصور وار کون ہے؟ کیا اسی طرح ہماری حق تلفی ہوتی رہے گی۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟