بدعت کیا ہے؟

جب کسی کام کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے۔ جب کہ اس کام کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور تبع تابعین کے مبارک زمانے میں وہ کام کسی نے نہ کیا ہو، یعنی اس کام کا کوئی وجود نہ ہو تو ایسے کام کو بدعت کہا جائے گا۔

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “بدعت اصل میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جو چیز بغیر کسی سابقہ مثال اور نمونے کے ایجاد کی گئی ہو۔ بدعت سنت کے مقابلے میں گھڑی جاتی ہے۔ لہذا وہ بری چیز ہی ہوگی۔” فتح الباری 219/4

مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “بدعت ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو یعنی قرآن مجید اور احادیث میں اس کا ثبوت نہ ملے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس کا وجود نہ ہو اور اسے دین سمجھ کر کیا جائے۔ تعلیم الاسلام 22/4

حضرت مولانا عبدالشکور لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شریعت کی رو سے بدعت اس چیز کو کہتے ہیں جسے دین کا کام سمجھا جائے اور کسی شرعی دلیل سے اس کا ثبوت نہ ہو۔ وہ اللہ کی کتاب سے، نہ احادیث سے، نہ محدثین کے اجماع سے، نہ قیاس شرعی سے ثابت نہ ہو۔ علم الفقہ 231/3

اے مسلمانوں ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائو مرنے کے بعد قل کرنا، چالیسواں کرنا یہ بھی بدعتیں ہیں۔ ذرا غور کرو ہندو بھی مرنے والے کے تیسرے دن تیجا مناتے ہیں۔ کیا یہ بات سمجھنے کے لیے کافی نہیں کہ ہمارے اندر یہ رسومات ان لوگوں سے آئیں ہیں جن کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اللہ تمام مسلمانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین