کبھی ہم خو بصورت تھے

یہ دیکھو! یہ اس وقت کی بات ہے، جب ہم اکثر زمین پہ جاتے تھے اور انسانوں کے مختلف کام آتے تھے۔ ان کی مدد کرتے تھے مگر اکثر ہم لوگ خود ہی ان سے متاثر ہو جاتے تھے کیونکہ اللہ نے انسان کو تما م مخلوقات سے افضل بنایا ہے۔ انسان کے اندر وہ خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں کہ ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ”نیلم پری نے کہا۔ ستارہ اور گل پری بہت اشتیاق اور حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں ۔ ایک کے بعد ایک منظر بدل رہا تھا، ستارہ کا جوش و خروش بھی بڑھتا جا رہا تھا۔” دیکھا! میں نہیں کہتی تھی کہ ” انسان” کتنے اچھے ہیں۔” ستارہ پری نے جذباتی ہو کر کہا۔

”ٹھہرو ! ستارہ پری ! اتنی جلدی کسی چیز کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے! جلد بازی انسانی فطرت ہے۔ کسی پری کی نہیں۔ انسان فطرتاً جلد باز، جھگڑالو اور ناشکرا ہے مگر ٹھہرو تمہیں یہ اس طرح سمجھ میں نہیں آئے گا۔”

نیلم پری نے آگے بڑھ کر دوسرے آئینہ پہ ہاتھ پھیرا تو وہ بھی روشن ہر گیا۔اب منظر بدل گیا تھا۔

جہاں پہلے آئینہ میں سکون نظر آرہا تھا۔ دوسرے آئینہ میں اتنا ہی شور اور ہنگامہ تھا۔ ” یہ کیا؟ کیا یہ بھی انسانوں کی طرح کی مخلوق ہے۔” ستارہ پری نے حیران ہو کرسوال کیا۔

نیلم پری دھیرے سے ہنس دی۔” تم بہت سادہ اور معصوم ہو۔ اچھا پہلے تم یہ بتائو کہ دونوں میںسے کس دنیا میں جانا پسند کرو گی۔”

”پہلی والی دنیا میں!” ستارہ پری نے جلدی سے کہا۔

” کیوں دوسری والی دنیا میں کیا مسئلہ ہے۔” نیلم پری نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

” نہیں ! مجھے تو اتنا شور اور ہنگامہ دیکھ کر ہی ڈر لگ رہا ہے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں، تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ مجھے نہیں جانا یہاں۔” ستارہ پری نے ڈرتے ہوئے کہا تو گل پری نے بھی اس کی تائید کی۔

” یہ دونوں دنیائیں ایک ہی ہیں، اور یہ دونوں انسان ہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پہلے کا دور ہے اور یہ شور ہنگامہ آج کا انسانی دور ہے۔ ” نیلم پری نے اطمینان سے کہا تو ستارہ پری اور گل پری کے منہ حیرت سے کھل گئے۔ ” حیران مت ہو! یہی سچ ہے!”

” مگر کس طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو زمین وآسمان کا فرق ہے ان میں۔” گل پری نے حیران ہو کر پوچھا۔

” ہاں! یہ بات پہلے میری بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ جن” انسانوں” کی بہادری ، جرات ، ایمانداری اور سچائی ہم کو حیران کر دیتی تھی۔ آج وہ اس طرح کیوں ہو گئے ہیں؟”

” پہلے ہم اکثر زمین پر جاتے تھے۔ ہمیں زمینی ماحول بہت اچھا لگتا تھا۔ رشتوں میں خلوص تھا، اتفاق تھا، آپس میں پیار تھا۔ اپنے اقدار کی قدر تھی۔ اپنی روایات کا پاس تھا۔ برائی اس وقت بھی تھی مگر تب اچھائی کی روشنی ہر طرف تھی۔ مگر آج تم لوگوں نے دیکھا ہی ہے کہ انسان کتنی تیزی سے پستی کی طرف جارہا ہے۔ انسان، اپنے ” مقام ” سے نیچے بہت نیچے جارہا ہے۔ ” انسان” جو اشرف المخلوقات ہے وہ اپنی پہچان بھول کر، صرف اپنے ” نفس” کی پیروی کر رہا ہے۔ آج زمین میں قتل وغارت عام ہے۔منافقت ، ریاکاری، بے حسی ، لا تعلقی کا دور دورہ ہے، رشتوں کو رشتوں کی پہچان نہیں رہی۔ خون کے رشتے ہی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ عجیب نفسانفسی کا عالم ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ” انسان” کس طرف جا رہا ہے۔ نیلم پری نے افسردگی سے کہا۔

” کیا سارے انسان اتنے برے ہیں؟” ستارہ پری نے ڈرتے ہوئے سوال کیا۔

” اگر سارے انسان اتنے برے بن جاتے تو دنیا ختم نہ ہو جاتی؟ دیکھو جہاں برائی ہے، وہاں اچھائی بھی ہوتی ہے۔ فیری مدر نے زمین کے حالات دیکھ کر تو سب پریوں کو ” انسان” سے فاصلہ رکھنے کا حکم دیا تھا تا کہ اُن سے ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔”

نیلم پری نے وضاحت سے بتایا۔” انسان کو سمجھنا کافی مشکل ہے یا یوں کہہ لو کہ انسان بذات خود ” مشکل پسند ” ہے، وہ مشکلات کو خود دعوت دیتا ہے۔ اس کے مزاج میں سر کشی ہے۔ اسی خود پسندی اور سر کشی کی وجہ سے وہ خود اپنا ہی دشمن بن بیٹھا ہے ۔”

نیلم پری نے گہری سانس بھر کر دونوں کو دیکھا ، جن کے چہرے پر خوف کے ساتھ ساتھ دکھ کی بھی پرچھائیاں تھیں۔

” خیر ! اب تم لوگ ڈرو مت، جب تک تم اپنی حدود کے اندر رہوگی، کوئی چیز تم لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ستارہ پری کو بہت تجسس تھا۔ اب تجسس ضد میں ڈھلتا جا رہا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ تمہیں ہر چیز کا اندازہ ہو تا کہ تم دوبارہ زمین پہ جا کر انسانوں سے ملنے کی تمنا نہ کرو۔ اب تم لوگ جائو۔”

نیلم پری نے سنجیدگی سے کہا۔

” میں آپ سے معذرت چاہتی ہوں، اگر میری اس ضد سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو۔” ستارہ پری نے نادم لہجے میں کہا۔ ” نہیں ! مجھے خوشی ہے کہ تم نے جاننے کی جستجو کی، جو کہ ہم پریوں کی فطرت میں نہیں ہے۔ ہم صرف ” حکم” مانتے ہیں مگر خیر! تم لوگ بہت معصوم ہو۔ جائو شاباش ! جا کر اپنے فرائض انجام دو۔”

نیلم پری نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ستارہ پری اور کل پری ہنستی مسکراتی ہوئی چلی گئیں۔ ان لوگوں نے آج وہ کچھ دیکھ اور جان لیا تھا جو کہ ان کی عمر کی کسی پری کو نہیں پتا تھا۔ وہ دونوں بہت پرُ جوش تھیں، اپنی سب دوستوں کو انسانوں کے قصے سنانے کے لیے۔

سفید محل میں اپنے ” آئینہ خانہ ”میں نیلم پری گہری سوچ میں گم تھی۔ اس کی نظر منظر بدلتے آئینوں پر تھی۔

”آج کا انسان کتنا بدل گیا ہے، کاش اسے معلوم ہوتا کہ اس نے اپنا کتنا نقصان کر لیا ہے۔ ہم پریاں بھی ان کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ کاش ” انسان” کو اندازہ ہو تا کہ اپنی بے حسی کی وجہ سے اس نے اپنے سچے دوستوں کو کھو دیا ہے۔”

نیلم پری نے گہری آہ بھری اور آئینہ پہ ہاتھ پھیرا تو وہ پھر سے سادہ ہو گیا۔ نیلم پری اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔ اندر آئینہ خانہ میں خاموشی تھی، سکون تھا۔

ستارہ پری اور گل پری ہنستے ، مسکراتے ہوئے رنگ اور خوشبو بکھیر رہی تھیں۔ ان کی زندگی اتنی ہی پرسکون اور خوشیوں سے بھر پور تھی۔ کاش کہ ہم انسانوں کی بھی زندگی ایسی ہی ہوتی۔ رنگوں اور خوشیوں میں بسی! بھر پور زندگی!!!!