کام کی باتیں

چودہ سو سال پہلے
دانشور تو کہتے ہیں کہ ہمیں چودہ سو سال پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ لیکن ہم تو اسے اپنی خوش بختی خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں چودہ سو سال پہلے کا معاشرہ کہیں سے لا دے۔
ہم باز آئے میڈیا کی ترقی سے، ہماری توبہ اس جدید نظام سے، ہم ان ساری ایجادات سے مرحوم بھلے، ہم ان سے دستبردار ہوتے ہیں۔ تہذیبِ حاضر ہم سے اپنی بجلی چھین لے، گرامو فون واپس لے لے، ہوائی جہاز ضبط کرلے، ایٹمی صلاحیت اپنے پاس رکھ لے، مواصلات کا نظام معطل کر دے۔ ہمیں یہ سب منظور ہے۔ مگر ہمیں کسی طرح ہمارا کھویا ہوا سکون واپس مل جائے۔ بھائی چارہ دستیاب ہو جائے، اپنے پرائے کی پہچان نصیب ہو جائے، خوفِ خدا اور آخرت کا ڈر عطا ہو جائے، قناعت کی دولت اور سادگی کی لذت کہیں سے ہاتھ آجائے اور اس کے لیے ظاہر ہے ہمیں چودہ سو سال پیچھے جانا پڑے گا۔

خاموشی
خاموشی ایک زبان ہے، جسے ہر کوئی اپنے ڈھنگ سے بولتا ہے۔ خاموشی بولتی ہی نہیں بلکہ چیختی بھی ہے، پکارتی اور لتاڑتی بھی ہے، محبوبہ خاموش رہے تو ناراضی۔۔۔۔ محبوب خاموش رہے تو بزدلی۔
والدین خاموش رہیں تو مجبوری۔۔۔۔ اولاد خاموش رہے تو سعادتمندی۔
انسان خاموش رہے تو بے بس۔۔۔۔ انسانیت خاموش رہے تو بے حسی۔
قوم خاموش رہے تو مظلومیت۔۔۔۔ اور حکمران خاموش رہے تو سیاست۔
یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔ جب بھی رائج ہو جاتی ہے تو کسی کو خرید لیتی ہے، یا کسی کو بیچ دیتی ہے، لیکن ۔۔۔۔ یہ ہمیشہ نہیں رہتی۔ خاص موقعوں اور خاص وقت پر استعمال کی جاتی ہے۔

حاصل خواری
ایک لڑکی پیدائش سے اپنی طبعی عمر کو پہنچنے تک مختلف حیثیتیں اور پہچان اپناتی ہے، مثلاً بیٹی، بہن، کزن، ماں، خالہ، بہو اور ساس وغیرہ اور ہر حیثیت کے بعد دوسری قبول کرتی جاتی ہے۔ مگر ساس بننے کے بعد پھر کبھی ماں، بیٹی، بہن، بہو میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
اپنے ماں باپ کی آخری یا اکلوتی اولاد بیٹا شادی ہو جانے کے بعد کبھی یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس کی ذہنی اذیت اور پریشانی میں اس کی بیوی کا کردار اور حصہ زیادہ ہے یا اس کی ماں کا۔
دو سوکنیں یا ساس بہو اگر ایک دوسرے کے گن گائیں اور ایک ساتھ ہنسی خوشی رہنے کا دعوٰی کریںتو انہیں اگر جھوٹا نہ بھی سمجھو تو مجبور ضرور سمجھنا چاہیے۔ دعوٰی خواہ عملی ہو یا زبانی۔
کنوارا پن میں ماں باپ، بہن بھائیوں سے جو جو زیادتیاں اور بد لحاظیاں روا رکھی جاتی ہیں۔ شادی کے بعد ایک ایک کرکے ان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

چاند کی چاہ
وہ سمندر کے کنارے بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ کاش وہ بھی چاند کی طرح ہوتی۔ بہت خوبصورت اور روشن۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے اپنے اس خیال سے وہ ڈر گئی کہ اگر وہ چاند کی طرح ہو گئی تو وہ بالکل اس کی طرح اکیلی ہو جائے گی کیونکہ اتنے بڑے آسمان پراتنے ڈھیر سارے تاروں کے درمیان چاند بالکل اکیلا ہوتا ہے، خوبصورت اور روشن ہونے کے باوجود وہ تنہا ہے۔ یہ سوچ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔