ٹرین کا سفر

ہم اوکاڑہ میں اپنی نانی اماں کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لئے آئے تھے، اب واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک جانے کے عین وقت ہم بچوں کو ٹرین میں جانے کا خیال آگیا اور ہم اپنے ماما پاپا کو ٹرین میں واپس ملتان جانے پر آمادہ کرنے لگے ، یوں ہمارے ماما پاپا مان گئے اور ہم اوکاڑہ سے ساہیوال گاڑی میں آئے اور آگے ٹرین میں بیٹھ گئے، یہ بھی بتاتی چلوں کہ ہم بہن بھائی ٹرین میں پہلی دفعہ سفر کر رہے تھے۔ بہت شوق تھا ٹرین میں سفر کرنے کا اور آج وہ شوق پورا ہو رہا تھا۔

اب ہم ٹکٹیں لے کر ٹرین کا انتظار کرنے لگے ۔ جب ٹرین آئی تو ہم سب جلدی جلدی ٹرین میں چلے گئے ۔ چلے کیا گئے ! گھس گئے ، اتنا رش جو تھا، اب آگے سیٹ کا مسئلہ ۔ ساری ٹرین مسافروں سے بھری ہوئی تھی، اب ہمیں ایک فیملی نے جگہ دی جو کراچی جا رہی تھی۔ ہم نے شکر ادا کیا کہ چلو جگہ تو ملی، بیٹھنے کے لئے ۔۔۔۔۔ نہیں تو ہمیں بھی دوسرے چند لوگوں کی طرح کھڑے ہونا پڑتا۔ اس دوران ٹرین چل پڑی اور ہم نے کھڑکی سے دیکھا کہ چند حضرات نماز پڑھ رہے تھے اور ٹرین چلنے پر وہ نماز توڑ کر بھاگنے لگے کہ کہیں ہماری ٹرین نہ چھوٹ جائے ۔ ہم یہ منظر دیکھ کر بڑے حیران ہوئے ، ہم نے سو چا کہ اگر انہیں پتہ تھا کہ ٹرین نے صرف چند منٹ رکنا ہے تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ نماز گھر جا کر قضا پڑھ لیتے ، توڑنے سے تو بہتر تھا۔

ہم نے دیکھا کہ ایک عورت بیچاری اپنے بچے کو گود میں لئے ٹرین میں زمین پر بیٹھی ہے، کوئی جگہ بھی دیتا تو کیسے سب گھس گھس کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارا دل چاہا کہ جگہ دے دیں پر ہمیں خود کسی نے جگہ دی تھی۔ اب اوپر سے مختلف کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے آگئے اور وہ اپنی سریلی آواز میں چیزیں بیچنے لگے، وہ سریلی آواز بھی کیا تھی جو ہر کسی کے کان کھا رہی تھی اور سر درد پیدا کر رہی تھی ، اب اوپر سے میرے چھوٹے بھائی جان کہنے لگے کہ مجھے بھوک لگی ہے، ان کو میرے پاپا نے بریانی کی ایک پلیٹ لے کر دی، جس کو ہم سب دیکھ کر ناک منہ چڑھانے لگے،وہ بریانی بھی کیا تھی ، یوں لگ رہا تھا جیسے دس دن پہلے کسی شادی کی بچی ہو، وہ ہم نے ویسے ہی پلیٹ واپس کر دی اور پیسے تو دینے ہی تھے کیونکہ اب وہ ہمارے نام جو ہو چکی تھی۔ ہم نے پیسے بھی دیئے اور کچھ کھایا بھی نہیں اور اوپر سے ٹرین میں کیا خوشبو آرہی تھی۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے ٹرین کے ہرڈبے میں ڈھیروں چوہے مرے پڑے ہوں۔اب ہمیں ہماری ماما کی ڈانٹ بھی سننی تھی جن کے لاکھ منع کرنے پر بھی ہم نے ٹرین کی ضد چھوڑی نہ تھی اور اب ہمیں اس کا انجام تو سہنا ہی تھا جو کام ہم کر چکے تھے۔ اور ڈانٹ ہمیں گھر جا کر سننی تھی یہ ہمیں پتہ تھا۔ اس لئے ہمیں فی الحال ڈانٹ کی فکر نہ تھی۔ اب ہم ملتان سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر تھے کہ میرے چھوٹے بھائی جان میرے پاپا کو کہنے لگے کہ مجھے واش روم جانا ہے، میرے پاپا ان کو واش روم لے گئے اور اب ان کو یہ بھوت بنگلے نما واش روم پسند نہ آیا اور بغیر واش روم گئے واپس آگئے ، اب ہم چند منٹ میں ملتان پہنچ گئے اور اسٹیشن پر اترتے کے ساتھ ہی ہم نے گھر کا رخ کیا اور آئندہ سے ٹرین میں سفر کرنے سے توبہ کر لی اور اپنی ماما کی بھی خوب ڈانٹ سنی۔