دہلیز بقا – صفحہ نمبر 4

صفحہ نمبر 3 پڑھیں

ایک دن زمینوں کی دیکھ بھال دیکھنے کے بعد گھر واپس جا ر رہی تھی کہ ایک خوبرو جوان کی نظر اس پر پڑ گئی ۔ وہ نوجوان شہر سے گائوں چھٹیاں گزارنے آیا تھا۔بہت ہی حسین اور دل موہ لینے والا چہرہ تھا ۔ اونچا قد گلابی رنگت چوڑا سینا اور دلنشین لب و لہجا ۔ ایک نظر زلیخاں کا دیکھنا تھا کہ وہ اسکا گرویدہ ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا زلیخاں کی دہلیز اور وہ نوجوان، ہر وقت لب پر بس ایک ہی دعا رہتی تھی یا خدا کبھی کسی بہانے بس ایک جھلک دیکھنے کو مل جائے ، ،،،،،،، کبھی کبھار مل بھی جاتی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ زلیخاں کو شک ہو گیا ، حویلی کے ملازموں نے بھی کئی مرتبہ شکایت کی، ایک دن زلیخاں نے حکم دیا اور حویلی کے ملازموں نے جوان کو پکڑ کر خوب مارا اتنا کہ زخموں سے چور ہو گیا۔ مگر طلب انتہا کی تھی جب چلنے کے قابل ہوئے تو پھر اُسی دہلیز پر موجود، ملازموں نے پھر دیکھا پھر مارا اور یہ سلسلہ شروع ہو گیا ۔ جوان جیسے ہی چلنے کے قابل ہوتا آموجود ہوتا زلیخاں کی دہلیز پر اُسکی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر ، آخر یونہی دو (2) سال گزر گئے۔

آغاز ! انجام سے نا واقف تھا، سو کون پہچانتا کے ایک عورت کے پیچھے خود کی ہستی کو مٹا دینے والا کب کس کے روبرو ہو گیا یہ تو مالک جانتے ہیں۔

ایک دن جب جوان زلیخاں کی دہلیز پر پہنچا تو عجیب سی کیفیت تھی زلیخاں کو بھی شاید اس پر ترس آ گیا انکی ظاہر ی حالت دیکھ کر، اپنے ملازموں کو روکا اور خود جوان کے پاس چلی آئی!

کیا چاہتا ہے تو؟ بہت ڈھیٹ ہے اتنی مار کھا کر بھی عقل نہیں آئی جب دیکھو تو اس دہلیز پر پڑا رہتا ہے۔ آجا اندر اور اس کونے میں بیٹھ جا، مجھے دیکھنے سے ہی مطلب ہے نا تو بیٹھ جا ، بیٹھا دیکھی جا ۔ جوان بولا معاف کرنا بی بی میں تیرے دیدار کا متمنی نہیں ہوں میں نہیں جانتا تجھے نا پہچانتا ہوں۔

تو کیا لینے آیا ہے؟

میں تو اس دہلیز کو چومنے آیا ہوں جو میرے لیے بقاء کا باعث بنی ۔ جا تو اپنا کام کر اور مجھے میرا کام کرنے دے میری عبادت میں خلل نا ڈال پھر اس دہلیز کو چوما اور نظریں آسمان پر ٹکائے واپس چل دیئے ۔

بس وہ دن تھا تب سے زلیخاں سرکار کے پیچھے پیچھے اور سرکار آگے آگے، تھکتی تھی زخموں سے چکنا چور ہو جاتی تھی سرکار اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرتے مگر جب وہ ان سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو پوچھتے بی بی کون ہے تو؟ میں نا ہی تو تجھے جانتا ہوں اور نہ ہی تمنا ہے جا اپنے محلوں میں واپس چلی جا فقیر کے ساتھ رہے گی تو یونہی زخموں سے چور رہے گی۔

بس بیٹا وہ چوٹیں جو سرکار نے سہیں اور بار بار سہی انہوں نے نفس کو نکال باہر کیا۔ اور جب قطرہ خوک کی پہچان کر لیتا ہے نا بیٹا تو وہ کُل کسے ملے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر وہ وصل مانگتا ہے، فرمایا کرتے تھے اب میری حالت گھڑے کے پانی کی مانند ہے اور گھڑا سمندر میں تیر رہا ہے۔

فرماتے تھے میرا وجود اب رکاوٹ ہے مجھے سمندر سے ملانے میںجس دن یہ گھڑا ٹوٹ جائے گا مجھے وصل مل جائے گا ۔

اپنا آپ نکل جائے نا بیٹا تو پیچھے پھر اس کے سوا اور کچھ نہیں بچتا، کیونکہ بقاء تو صرف اُس سوہنے رب کو ہی ہے سو جوخود کو اُس کی راہ میں فنا کر دے تو وہ سوہنا رب خود ہی آبیٹھتا ہے اسکے دل میں۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ماں جی کیا آپ جانتی ہیں زلیخاں کو؟ کچھ دیر خاموشی کے بعد پھر وہی سوال دہرایا گیا ( ماں جی کیا آپ ہی زلیخاں ہیں؟)

اب وہاں ایک دفعہ پھر مکمل خاموشی تھی، وہی چھتری کی مانند جھکا ایک درخت مگر اب وہاں دو قبریں تھیں۔ ایک قبر کی گیلی مٹی سے ابھی تک اگر بتیوں کا دھواں اٹھ رہا تھا ۔ اور ایک نوجوان اپنا سر اپنی دونوں ٹانگوں میں دبائے ہوئے بیٹھا تھا۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے