دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 3

صفحہ نمبر 2 پڑھیں

پر ماں جی میں تو دو مئواں ہوں۔ میرے تو دو سِرے ہیں۔

چڑھتے وقت سب دو موئوے ہی ہوتے ہیں، لیکن پانے کی چاہ میں گر گر کر ایک سرے والے ہی رہ جاتے ہیں۔ تو بھی جب گرے گا بار بار تو دو کی بجائے ایک سرا ہی بچے گا ۔

کیا مطلب ماں جی؟

بیٹا جب تیرے نفس کو ٹھیس پہنچے گی بار بار اور تو وہ کرے گا جو اس کے خلاف ہے ۔ تو ایک نا ایک دن یہ مر ہی جائے گا۔ نفس ایک منہ زور گھوڑا ہے ۔ اس پر قابو تب ہی ممکن ہے جب اس کی مرضی کے خلاف چلا جائے ۔ اور پہلا قدم تو تجھے ہی اُٹھانا پڑے گا۔جب اتنی پاکی آ جائے گی تو مہمان خود ہی آ بیٹھے گا ۔ اور وہ جسے ہم مہمان گردان رہے ہیں یہ تو گھر ہی اُس کا ہے۔

جب تک ْمیں ہے ْ تو نہیں آئے گا۔ جب ْمیں نہیں ہو گا تب صرف ْ تو ہو گا اور پھر جب صرف ْ تو آجائے تو ْ میں تو دور اس بات کا احساس بھی نہیں رہتا کہ ْمیں ہو ں کہ نہیں۔

دیکھ بیٹا فضول واویلا نا مچادینا ۔ جو شور مچاتے ہیںکہ میں نہیں میں نہیں وہ تو اصل ْ میں میں ہیں۔ کیونکہ احساس باقی ہے ْمیں کا شور ڈالنے سے کام نہیں بنتے بیٹا ، کام تو خوشی اور عاجزی سے سر جھکا دینے سے بنتے ہیں۔ جو سر جھکتا ہے ہار بھی اسی گلے میں ڈالا جاتا ہے، اکڑے سروں میں ہار نہیں ڈالے جاتے بیٹا۔

اماں جی آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟ یہ صاحبِ مزار کون تھے؟ کیا آپ ان کو جانتی تھی ؟ کیا انکی حیات سے جُڑی کوئی داستان آپ جانتی ہیں؟

میں یہاں بیٹھی ہوں بیٹا کیونکہ میں باندی ہوں سرکار کی اور غلاموں کا کام ہے اپنے مالکوں کے قدموں میں اپنی ساری زندگی گزارنا سو گزار رہی ہوں ۔ باقی رہی سرکار کی حیات کی بات تو بات تو بہت مختصر ہے۔مالک کی رنگ ہیں کس کو کس طرح اپنا سراغ دے دے یہ تو اسی کی مرضی ہے۔ مالک تو بڑا ہی سوہنا ، بڑا ہی کارساز، بڑا ہی بے پرواہ اور بڑا ہی کریم ہے اور کریم تو بیٹا ہمیشہ ہی کرم فرماتے ہیں سو ان پر کرم کا طریقہ کچھ الگ ہی تھا۔

کیا ہوا تھا ماں جی؟

کہانی تو بہت سادہ سی ہے بیٹا، پہلے دو سال تک سرکار زلیخاں کے پیچھے تھے اور زلیخاں آگے آگے ، پھر سرکار آگے آگے اور زلیخاں پیجھے پیچھے

کچھ سمجھا نہیں ماں جی!

بڑی زمینوں والی عورت تھی زلیخاں۔ ابھی تین (3) سال ہی ہوئے تھے شادی کو کے ایک حادثے میں اُسکا بندہ مر گیا۔ زلیخاں بہت ہی خوبصورت اور حسین تھی شوہر کے نا ہونے کی وجہ سے زمینوں کا سارا کام کاج اُسے خود ہی دیکھنا پڑتا تھا ۔ہر وقت آگے پیچھے نوکر گھومتے رہتے ، بڑی مغرو ر اور ناز نخرے والی تھی۔

صفحہ نمبر 4 پڑھیں