دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 2

صفحہ نمبر 1 پڑھیں

کون ہو تم اور میرے پاس کیا لینے آئے ہو؟ جس نے بلایا ہے اُسکے پاس جائو ، جو مانگنا ہے اُن سے مانگو، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔

بھٹکا ہوا مسافر ہوں ماں جی !میں کسی منت کی خاطر یہاں نہیں آیا، اور نہ ہی میں جانتا ہوں کہ میں یہاں کیسے آگیا ، میں تو متلاشی ہوں ۔

کیا کھوجتا پھر رہا ہے؟

پتہ نہیں ماں جی۔ شاید مجھے ٹھیک سے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ میری تلاش کیا ہے؟

وہ بوڑھی عورت مسکرائیں اور بولیں دیکھ بیٹا اگر راستے کا علم نہ ہو تو خیر ہے مگر منزل کی خبر نہ ہو تو راستہ بھی بے کار ہوتا ہے۔ منزل کا نام پتہ معلوم ہو تو راستہ دکھانے والا کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے ،اگر منزل ہی معلوم نہیں ہوگی تو راستے کا تعین کیسے ہوگا؟

کیا کوئی راستہ ہے جو مجھے خود سے باہر تک لے جائے؟ اپنا یہ وجود مجھے کھوکھلا لگتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بلبلے کی مانند پھٹ جائے گا، میرا دم گھٹتا ہے ، مجھے اس فانی جسم سے فرار چاہیئے ماں جی ! مجھے اس فنا کی بستی سے نکل کر بقا کے در پار جانا ہے ، کوئی تو راستہ ہوگا؟

آجا بیٹھ جا ادھر ! تھوڑا سانس لے ۔ یہ پانی پی بہت گرمی ہے اور پھر تو ، تو بہت دنوں کا تھکا ہوا لگتا ہے آجا بیٹھ جا۔

بیٹا یہ مزار دیکھ رہا ہے؟ لوگ یہاں اپنی حاجتیں لے کر آتے ہیں، منتیں مانتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ خدا کو بھول گئے ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ خدا کے خاص بندے ہیں اور خدا انکی بات کبھی رد نہیں کرتا ۔ہم یہاں آکر جو دُعا مانگتے ہیں جو بات کرتے ہیںجو عمل کرتے ہیں وہ سب صاحبِ مزار کے علم میں ہوتا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور سن رہے ہوتے ہیں اور دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں ، تو بیٹا دیکھتے سنتے اور عطا تو وہی کرتے ہیں نا جو زندہ ہوں ۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے فنا ہو کر بقا حاصل کی ۔ کیا تو سمجھا نہیں جو میں کہہ رہی ہوں؟ کیسے مل گئی یہ بقاء کبھی سوچا ہے تو نے؟

سمجھ سکتا تو یوں بھٹکتا پھرتا ماں جی۔بقاء کا راستہ فنا میں ہے جب تک خود کو مرنے سے پہلے مارے گا نہیں بقاء حاصل نہیں ہوگی۔

مگر کیسے ماں جی؟

اپنی خواہشات کا گلا خود اپنے ہاتھ سے گھوٹ دے۔ اپنی نفس پر قابو پا لے۔خواہشات فنا نہیں ہونے دیتیں اور فنا کے بغیر بقاء ممکن نہیں۔ جو جتنی جلدی یہ پردہ چاک کر لیتا ہے اتنی ہی جلدی مقام پر پہنچ جاتا ہے۔

دوئی کو چھوڑ دے اور وحدت کے سمندر میں چھلانگ لگا دے اپنی مرضی کو چھوڑ اور اس کی مرضی میں گُم ہو جااس کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ وہ جو دے اسے مضبوطی سے پکڑ اور شکر بجا لا اور جو تیرے پاس نہیں ہے اسکا غم چھوڑ دے۔اسکی رسی کو مضبوطی سے پکڑ اور چاروں پاسے دیکھنا چھوڑ دے۔بس اُس کا ہی پاسا رکھ ادھر اُدھر دیکھ کر تفرقے میں نا پڑ۔

جب تک تو فانی کی محبت میں مبتلا رہے گا تجھے بقاء کا راستہ نہیں ملے گا۔ کیونکہ بیٹا جو بقاء کی تلاش میں ہو اور اس کا رجوع فانی چیزوں کی طرف ہو تو یہ دوئی ہے۔ شرک ہے۔ منافقت ہے۔ دوئی کی نہیں وحدت کی سیڑھی چڑھ اور اپنا آپ بھول جا۔

صفحہ نمبر 3 پڑھیں