دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 1

جب کبھی میں پریشان ہوا کرتا تھا تو کراچی کی ایک بندرگاہ پر چلا جاتا وہاں جا کر مجھے بہت سکون ملتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی انجانی طاقت مجھے اپنی جانب کھینچ رہی ہے کئی گھنٹوں بیٹھا سمندر کو تکتا رہتا کبھی خاموش سمندر میں پھیلا سکوت تو کبھی شور مچاتی لہروں کی بے چینی۔ ایسا ہی سکوت اور بے چینی مجھے بھی اپنے اندر محسوس ہوتی تھی ۔ میں ایک پڑھا لکھا اور معاشرے کے فرسٹ کلاس لوگوں کی فہرست میں شامل انسان تھا۔میرا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھاکام کی نوعیت یہ تھی کہ اپنے بارے میں بھی سوچنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا۔اور شاید یہی وجہ تھی تھی کہ مجھے ساحلِ سمندر پر جا کر سکون ملتا تھا اچانک سے یہ دنیا فانی محسوس ہونے گتی تھی دل کرتا تھا سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جائوں ۔ کسی ایسی زندگی میں جہاں سکون ہی سکون ہو۔ مگر یہ زندگی مجھے کیسے مل سکتی ہے؟ کیا دنیامیں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں یہ سب موجود ہو؟ جہاں حوس نہ ہو کچھ بھی پانے کی بس سکون ہو اور میرا قلب مطمئن ہو۔ ایسے کئی سوال یک دم میرے ذہن میں آتے اور مجھے سمندر کی لہروں کی طرح بے چین کر دیتے۔

ایسے ہی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی تگ و دو میں بے چینی سے ٹہلتے ہوئے میری نظر ایک چٹان پر پڑی دور بہت دور ایک چٹان پر مجھے ایک سبز گنبد دکھائی دیا۔ یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی دور۔۔۔۔۔ اس ویرانے میں!۔۔۔ کیا یہ کوئی مزار ہے؟

کیا کوئی اتنی دور آکر بھی بس سکتا ہے؟ اور پھر کیا یہ ویرانا ہی اُس کی آخری آرام گاہ ٹھہرا ہوگا؟ اور کیا ویرانا یا پھر سکون؟ ؟؟؟؟

اپنے آپ سے سوال کرتا جواب پانے کی تلاش میں چلتا گیا۔۔چلتا گیا ، نا جانے کتنی دیر چلنے کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو میں اِس مزار کے احاطے میں کھڑا تھا ۔ احاطہ کافی وسیع تھا ۔ ایک سائیڈ پر وضو کرنے والوں کے لیے پانی کا وافر انتظام موجود تھا ۔ مزار کے دائیں جانب چراغ اور اگر بتیاں جلانے کا مناسب انتطام کیا گیا تھا۔

مزار کے سرہانے ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔اُسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وقتِ شباب میں بہت خوبصورت اور دلنشین رہی ہوگی۔

ماں جی! ماں جی! میری پہلی دو آوازوں پر اس بوڑھی عورت نے سر نہیں اُٹھایا ۔ اپنا سر دو ٹانگوں میں دبائے وہ اس مزار کے سرہانے بیٹھی تھی۔ جس کے اوپر ایک بہت بڑا درخت کسی چھتری کی مانند سایہ کیے ہوئے تھا، درخت کی شاخیں جھک کر کافی نیچے تک آتی تھیں۔ اور ان پر بندھے دھاگے اس بات کی علامت تھے کہ یہاں لوگ اپنی منتیں مانگنے آتے ہیں۔مزار کے دائیں جانب (3) تین چراغ بھی رکھے ہوئے تھے شاید دن کا وقت ہونے کی وجہ سے روشن نہیں تھے مگر ان میں کافی تیل موجود تھا۔ مزار کے اُوپر سبز رنگ کی چادر چڑھی ہوئی تھی اور اس چادر کے اوپر گلاب کے پھولوں کی پتیاں موجود تھیں۔ جنہیں دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کافی دنوں سے انہیں تبدیل نہیں کیا گیا۔

تیسری آواز پربوڑھی خاتون نے سر اُٹھایا اور میری جانب دیکھا مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اُن خاتون کی آنکھوں میں کوئی سوال نہیں تھا۔ ہاں مگر اُنہیں دیکھ کر لگا کہ وہ ضرور کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

ماں جی کیا میں کچھ دیر کے لیے آپ کے پاس بیٹھ سکتا ہوں؟

صفحہ نمبر 2 پڑھیں