تڑپتا مردہ

ایک ڈاکٹر کا بیان ہے: ایک رات میں نے ایک سنسنی خیز خواب دیکھا خواب ہی خواب میں، میں ایک قبر میں داخل ہوا، اس میں مجھے تڑپتا مردہ نظر آیا، چیخنے کے انداز میں منہ کھولنے کے باوجود اس کے منہ سے آواز نہیں نکلتی تھی! کافی دیر کے بعد وہ ساکن ہوا (یعنی تڑپنا بند ہو گیا)۔ اتنے میں ایک شخص نے چابک نما چمکدار تار اس کی پیشاب کی نالی کے سوراخ میں داخل کر دی۔ جس کی اذیت سے وہ مردہ ایک بار پھر پہلے کی طرح تڑپنے لگا۔ مردے کی اس اذیت ناک حالت پر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے عذاب دینے والے سے پوچھا: اس مردے کو یہ درد ناک عذاب کیوں دیا جارہا ہے؟ اس نے بتایا: یہ اپنی دنیاوی زندگی میں زانی تھا۔ اب جب سے مرا ہے، اسے یہی عذاب دیا جارہا ہے۔ مجھے اس مردے کی حالت پر بہت رحم آرہا تھا، اتنے میں کسی نے مجھے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور ویسی ہی باریک سلاخ میری پیشاب گاہ کے سوراخ میں بھی داخل کر دی۔ میں شدید تکلیف کی وجہ سے ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا، کافی دیر کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں سخت تکلیف میں تھا میرا بستر گیلا تھا مجھے محسوس ہوا کہ پیشاب نکل گیا ہے۔ مگر دیکھا تو بستر تکیے تک پسینے میں تر بر تھا ۔ میں نے جب اٹھ کر پیشاب کیا تو خون کی طرح سرخ تھا اور یہ خون والا پیشاب چھ ماہ تک جاری رہا، اس سے میں بہت کمزور ہو گیا، ہر قسم کے لیبارٹری ٹیسٹ، گردے مثانے کے ایکس رے وغیرہ کروائے، کئی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا نہ بیماری کی وجہ سامنے آئی نہ ہی مرض میں کمی ہوئی۔ اس دوران میں نے ملازمت سے لمبی چھٹی لے لی۔ جب ہر طرح کی دوا ناکام ہو گئی تو پھر میں نے دعا و استغفار کی طرف رجوع کیا اور اللہ نے مجھے اس مصیبت سے نجات بخشی۔ آج بھی جب وہ تڑپتا لاشہ یاد آتا ہے تو خوف کے مارے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔