جنوبی افریقہ بمقابلہ بھارت دوسرا ایک روزہ میچ دسمبر ٢٠١٣

پہلے ایک روزہ میچ کی طرح دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی بھارت اپنی بے وقوفی سے باز نہیں آیا اور ٹاس جیتنے کے باوجود جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت دے ڈالی۔ بھارت کا یہ خواب کہ وہ ایک اچھی بلے باز ٹیم ہے، پہلے ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ نے بری طرح توڑ دیا تھا۔آج جب جنوبی افریقہ کی ٹیم بلے بازی کے لیے میدان میں اتری تو جنوبی افریقہ کے کھلاڑی یہ سمجھ کر اترے کہ وہ بچوں سے میچ کھیلنے جا رہے ہیں۔ اور ان کا ایسا سمجھنا کچھ غلط ثابت بھی نہ ہوا۔

جنوبی افریقہ کے افتتاحی بلے باز Q de Kock اور Hashim Amla نے بھارتی گیند بازوں کا وہ حال کیا کہ وہ کئی روز تک روتے ہیں گے۔دونوں بلے بازوں نے ایک ایک سینچری سکور کر ڈالا۔اس طرح جنوبی افریقہ نے مقررہ 49 اوورز میں 280 رنز بنا کر بھارت کے لیے انتہائی مشکلات پیدا کر دیں۔ظاہر ہے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کے مخالف پاکستان جیسی مضبوط ٹیم نہیں ہے اس لیے 281 رنز کا ہدف بھارت کو مات دینے کے لیے کافی سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

میں اس بات پر بھی نہایت حیران ہوا کہ پہلے میچ میں بھارت نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت دی اور پھر بھی سبق حاصل نہیں کیا اور دوبارہ یہ غلطی کر ڈالی۔میں اسے تو صرف خوش فہمی ہی کہوں گا جو کہ بھارتی بلے بازوں کو ہے کہ وہ بھارت سے باہر جا کر اچھے بلے بازی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ پہلے میچ میں تو انہیں منہ کی کھانی پڑی اور ان کے بلے بازی کسی مٹی کے ڈھیر سے بھی نازک ثابت ہوئی۔

آج کے میچ میں بھی تقریباً ایسا ہی ہوتا نظر آیا۔

جب بھارتی بلے بازی کا آغاز ہوا تو کوئی بھی بلے باز جم کر کھیل سکنے کے قابل نظر نہ آیا۔افتتاحی بلے باز Rohit Sharmaنے صرف 19 رنز سکور کیے جس میں دو چوکے شامل تھے۔

Shikhar Dhawan نے کوئی سکور نہیں بنایا۔Virat Kohli نے کوئی سکور نہیں بنایا۔ Ahinkya Rahane نے صرف 8 سکور بنائے۔MS Dhoni نے صرف 19 رنز بنائے۔ Suresh Raina نے تین چوکوں کی مدد سے 36 رنز بنائے۔ Ravichandran Ashwin نے26 گیندیں ضائع کر کے 15 رنز بنائے جس میں ایک چوکا شامل تھا۔Ravindra Jadeja نے 34 گیندیں برباد کیں اور 26 رنز بنا کر واپسی کی راہ لی۔Umesh Yadav نے صرف ایک رن ہی بنایا۔Mohammed Shami نے صرف 8 رنز بنائے۔

بھارتی بلے بازی کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ بھارتی بلے باز مجبوری سے پچ پر گزارہ کر رہے ہیں اور جنوبی افریقہ کے گیند بازوں کا سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ بھارتی بلے باز مکمل طور پر بے بس نظر آرہے تھے۔ان کی بے بسی کا یہ عالم رہا کہ پوری ٹیم 281 رنز کے تعاقب میں صرف 146 رنز بنا سکی اور شکست بھارت کا مقدر رہی جیسا کہ بھارت کے ساتھ اکثر ہوتا ہے جب وہ اپنے ملک سے باہر کھیلتی ہے۔ ہاں اگر بھارت کا مقابلہ اپنے ملک سے باہر بنگلہ دیش یا زمبابوے جیسی ٹیموں سے ہو تو بھارت کے جیتنے کے کچھ مواقع موجود ہوتے ہیں۔

بھارت نے یہ میچ ہار کر نہ صرف اپنا منہ کالا کروایا بلک سیریز بھی ہار دی۔ اب صرف ایک میچ باقی ہے اس سیریز کا دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کلین سویپ کروائے گا یا ایک آدھا میچ جیتنے کی کوشش کرے گا۔ ویسے تو جنوبی افریقہ بھارت کو ایسا کرنے نہیں دے گا اور بھارت کے مواقع بھی بہت کم ہیں کہ وہ اگلا میچ جیت سکیں۔