سائوتھ افریقہ بمقابلہ بھارت پہلا ون ڈے انٹرنیشنل ٢٠١٣ دسمبر

اس میچ میں بھارت نے ٹاس تو جیتا مگر اپنی بے وقوفی کی وجہ سے سائوتھ افریقہ کو پہلے بلے بازی کی دعوت دے دی۔ سائوتھ افریقہ کو پہلے بلے بازی کی دعوت دینا ہی صرف بھارت کی بے وقوفی نہیں تھی بلکہ ابھی تو بھارت کی اس میچ میں ذلالت کا آغاز تھا۔ سائوتھ افریقہ کے مایا ناز بلے باز ہاشم آملہ نے نہایت عمدہ کھیل پیش کیا اور محمد شامی کی گیند پر نہایت شاندار 65 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے۔

افتتاحی جوڑی میں ہاشم آملہ کا ساتھ دینے والے Q de Kock نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے بھارتی گیند بازوں کی وہ دھلائی کی جیسے جاوند میانداد بھارتی گیند بازوں کو ناکو چنے چبوایا کرتے تھے۔ انہوں نے تین چھکوں اور اٹھارہ چوکوں کی مدد سے صرف 121 گیندوں پر 135رنز بنا کر انڈیا کے گیند بازوں کی دھلائی کی اور آئوٹ ہوگئے۔

JH Kallis صرف 10 رنز ہی بنا سکے اور انہوں نے 14 گیندوں کا سامنا کیا۔ اس میچ کے دوران مجھے یہ محسوس ہوا کہ شاید بھارتی گیند بازوں کو یہ چیز سکھانی پڑے گی کہ اگر کوئی گیند کسی بلے باز سے نہ کھیلی جائے اور وہ بلے باز کی ٹانگ سے لگ جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ آئوٹ ہے۔ بھارتی گیند باز اس طرح کی ہر گیند پر ایمپائر کے سامنے اپیل کرتے رہے مگر ظاہر ہے کہ کوئی فائدہ نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ صرف اپنے گھر میں ہی اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتی ہے اور میں بھی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ بھارتی بلے باز جو کہ اپنے گھر میں موجود خالصتاً بلے بازی کے لیے بنائی گئی پچوں پر ہی بلے بازی کر سکتے ہیں وہ جنوبی افریقہ میں جاکر جنوبی افریقہ کے بہترین گیند بازوں کا مشکل سے ہی سامنا کر سکیں گے۔

انڈیا کے گیند باز R Ashwin جو کہ شاید اپنے آپ کو بہترین سپنر سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہیں وہ بھی کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے 10 اوورز میں 58 رنز کھائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے بہترین گیند باز سعید اجمل اسی پچ پر سائوتھ افریقہ کی ٹیم کو ناکوں چنے چبوا چکے ہیں۔

Q de Kock کے آئوٹ ہونے کے بعد AB de Villiers اور Jean-Paul Duminy نے انڈیا کی ٹیم کو ذلیل کرنے کا ٹھیکہ اٹھایا۔ Ab de Villiers نے 39 گیندوں پر اپنی نصف سینچری مکمل کی جس میں دو چھکے اور چار چوکے شامل تھے۔ ابھی بھارت کا یہ زخم بھرا نہیں تھا کہ Jean-Paul Duminy جو کہ آنے والے نئے بلے باز تھے انہوں نے صرف اور صرف 25 گیندوں پر اپنی نصف سینچری بنا ڈالی جس میں انہوں نے پانچ چھکے اور ایک چوکا مارا۔ یہ ان کی انڈیا کے خلاف چوتھی اور اپنے کیریئر کی اٹھارویں نصف سینچری تھی۔

دونوں بلے باز نصف سینچریاں بنا کر سکون سے بلے بازی کرنے کے موڈ میں نہیں تھے بلک انہوں نے انڈین گیند بازوں کی ذلالت کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان دونوں بلے بازوں نے اننچاسویں اوور میں Mohit Sharma کو 23 رنز مار کر انڈیا کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا۔Ab de Villiers جارحانہ کھیل کھیلتے ہوئے آخری اوور کی تیسری گیند پر آئوٹ ہوگئے اور انہوں نے 47گیندوں پر چار چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 77 شاندار رنز بنائے۔ان کے آئوٹ ہونے کے بعد نئے آنے والے بلے باز تھے David Miller ۔ انہوں نے دو گیندوں پر پانچ رنز سکور کیے۔ اس طرح مقررہ 50 اوورز میں جنوبی افریقہ کی ٹیم نے 358 رنز بنائے اور ان کے صرف چار کھلاڑی آئوٹ ہوئے۔

جنوبی افریقہ کہ اننگ کے بعد بھارتی کھلاڑی یقینا یہ جان چکے ہونگے کہ اصل کرکٹ وہ نہیں جس میں گھر میں بیٹھ کر چھوٹی ٹیموں کے خلاف سکور کیا جائے اور اپنے ریکارڈز بنائے جائیں۔ بلکہ اصل کرکٹ تو وہ ہے جس میں دنیا کے ہر خطے میں بہترین کھیل پیش کیا جائے۔ حقیقت کا اصل روپ ابھی انڈیا کے سامنے آنا باقی تھا۔

جب انڈیا کی اننگ کا آغاز ہوا تو یہی ہوا۔ جنوبی افریقہ کے گیند باز ان کے لیے جانِ عذاب بن گئے۔ انڈیا کے افتتاحی بلے باز S Dhawan صرف 12 رنز بنا کر اپنا سا منہ لے کر واپس لوٹ گئے۔ انڈیا نے پہلے 10 اوورز کے کھیل میں ایک کھلاڑی کے نقصان پر صرف 36 رنز بنائے۔DW Steyn نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے پانچ اوورز میں سے دو اوورز میں کوئی سکور نہیں دیا اور صرف 15 رنز دئیے۔

Virhat Kohli نے 35 گیندوں پر 31 رنز بنا کر واپس جانا مناسب سمجھا۔ جس میں انہوں نے پانچ چوکے مارے۔اسی اوور میں نئے آنے والے بلے باز Yuvraj Singh بغیر کوئی رن بنائے Ryan McLaren کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ Yuvraj Singh کبھی بھی سائوتھ افریقہ کے خلاف اچھا نہیں کھیل سکے ہیں اور آج بھی ان کا یہ ڈر اور خوف ان کے ساتھ رہا۔ حالانکہ وہ اپنے گھر کی گرائونڈ میں کسی بلی کی طرح شیر بن جاتے ہیں مگر جب اصل کرکٹ کی باری آئی تو یہ حال ہے۔

Rohit Sharma کیا کر لیتے سائوتھ افریقہ کی گرائونڈ میں۔ یہ انڈیا کی گرائونڈ نہیں تھی جو وہ ایک لمبی اننگ کھیل سکتے۔ وہ انڈیا کے مجموعی سکور 65پر صرف 18 رنز بنا کر رن آئوٹ ہو کر واپس چل دیئے۔ انڈین کپتان MS Dhoni گرائونڈ میں اترے ایک اچھی امید لیے۔ جلد ہی Suresh Raina بھی صرف 14 رنز بنا کر رن آئوٹ ہو کر چل دیئے۔ 359 رنز کا ہدف انڈیا کے لیے ایک پہاڑ کی مانند لگ رہا تھا اور انڈین بلے باز، جنوبی افریقہ کے گیند بازوں کے سامنے کچی مٹی کے ڈھیر سے بھی نازک ثابت ہورہے تھے۔ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بین الاقوامی ٹیم کے گیند باز کسی گلی محلے میں کھیلنے والی ٹیم کو گیند بازی کر رہے ہیں۔

دھونی نے اچھا کھیلنے کی کوشش کی اور Ravindra Jadeja نے ساتھ دینے کی کوشش بھی کی مگر بے سود۔ Ravindra Jadeja کو Jacques Kallis نے 158 کے مجموعی سکور پر کلین بولڈ کر دیا۔ انہوں نے 30 گیندوں پر 29 رنز سکور کیے جس میں چھ چوکے شامل ہیں۔ان کے بعد آنے والے بلے باز Ravichandran Ashwin نے بہت کوشش کی کہ اچھا کھیل پیش کریں مگر وہ صرف 19 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے۔

نئے آنے والے بلے باز Bhuvneshwar Kumar بغیر کوئی سکور بنائے آئوٹ ہو گئے اس طرح انڈیا 190 کے مجموعی سکور پر اپنی 8 وکٹیں گنوا چکا تھا جبکہ سکور کی بہت زیادہ ضرورت تھی اور وہ انڈین بلے بازوں کے بس کی بات نظر نہیں آرہی تھی۔اس موقع پر میرا دل کیا کہ دھونی کو پیغام دوں کہ اپنی وکٹ اپنے گھر لے جائیں اگر سکور نہیں کر سکتے۔ بہت آہستہ کھیل کر اگر وہ اپنی نصف سینچری بنا بھی لیں تو وہ کس کام کی۔ وہ نصف سینچری اُن کے اپنے کام تو آسکتی ہے کہ اُن کی نصف سینچریز کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا مگر ان کی ٹیم کے کوئی کام نہیں آئے گی۔ بالآخر انہوں نے 53 گیندوں پر اپنی فضول اور بے کار نصف سینچری مکمل کی اور پھر دھونی کو بھی Dale Steyn نے بولڈ کر دیا۔ انہوں نے 65 سکور بنائے جس میں ایک چھکا اور آٹھ چوکے شامل تھے۔

جب Mohammed Shami بغیر کوئی رن بنائے آئوٹ ہوئے تو جنوبی افریقہ نے یہ جیت اپنے نام کرلی۔ ایک مرتبہ پھر انڈیا کو ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا۔ جو ٹیم اپنے گھر میں کھیل کر نمبر ایک ٹیم ہونے کی دعوے دار ہے۔ وہ اپنے گھر سے نکلتے ہی اتنی بری طرح شکست سے دو چار ہوگی یہ شاید کوئی بھی بھارتی سوچ بھی نہیں سکتا ہوگا، مگر یہی حقیقت ہے کہ ان کی ٹیم صرف اور صرف اپنے گھر میں کھیل سکتی ہے باہر نکل کر پاکستان کی طرح دوسری ٹیم کو اس کے گھر میں مارنا ایک الگ بات ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان نے اسی جنوبی افریقہ کی ٹیم کو اسی گرائونڈ میں نہ صرف شکست سے دو چار کیا ہے بلکہ سیریز بھی اپنے نام کی ہے۔