اصلاح کا راز

ولید کو محلے کی مسجد کے اندر پہلی صف میں باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ اہلِ محلہ حیران تھے کہ آخر اس قدر انقلاب کیسے آگیا۔ دراصل ولید 23 سالہ ہٹا کٹا نوجوان تھا، اس کی ویڈیو کیسٹوں کی دکان تھی۔ اس کا کردار بہت گندا تھا۔ کیا اہلِ خانہ اور کیا اہلِ محلہ سب ہی اس کی شر انگیزیوں سے بیزار تھے۔ اسے مسجد میں دیکھ کر یوں بھی حیرت ہو رہی تھی کہ یہ جمعہ تو جمعہ عید کی نماز میں بھی مسجد میں نظر نہیں آتا تھا۔ آخر ہمت کرکے اس کے ایک پڑوسی نے اس عظیم مدنی انقلاب پر مبارکباد دیتے ہوئے اس سے اس کی اصلاح کا راز پوچھ ہی لیا۔ اس پر اس کی آنکوں میں آنسو آگئے، برستی ہوئی آنکھوں سے بتایا کی میرے اصلاح کر راز ایک سنسنی خیز خواب ہے۔

تھوڑے دنوں پہلے کی بات ہے، رات کو حسبِ معمول V.C.R. پر ماردھاڑ سے بھرپور ایک فلم دیکھنے کے بعد میں پلنگ پر لیٹا، نہ جانے کوں نیند اچاٹ ہو گئی تھی۔ مار دھاڑ کے فلمی مناظر میرے ذہن کے پردے سے ہٹتے نہیں تھے۔ بہت دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعد جب کچھ اونگھ آئی تو میں خواب کی دنیا میں پہنچ گیا۔ خواب ہی خواب میں سخت بخار آگیا حتی کہ مجھے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ اتنے میں ایک نہایت قد آور خوفناک کالا آدمی آیا جس کے جسم کے سارے بال کانٹوں کی طرح کھڑے تھے، اس کی آنکھوں، کانوں، ناک کے نتھنوں اور منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ آتے ہی اس نے مجھے اپنے فولادی ہاتھوں اٹھا کر فضا میں اچھال دیا۔ میں ایک کھولتے ہوئے تیل کی دیگ میں جاپڑا اور میری روح قبض ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران مجھے طرح طرح کی اذیتوں سے گزرنا پڑا، کبھی محسوس ہوتا کہ تیز چھری سے میرے کھال ادھیڑی جارہی ہے تو کبھی میرے جسم سے کانٹے دار شاخیں انتہائی سختی کے ساتھ کھینچ کر نکالنے کا عمل ہو رہا ہے۔ کبھی ایسا لگتا کہ بہت بڑی قینچی سے میرے وجود کے ٹکڑے کیے جارہے ہیں۔ میرے ہر عضو بلکہ بلکہ رُوئیں رُوئیں کو گویا باندھ دیا گیا تھا، نہ میں ہل سکتا تھا، نہ چیخ سکتا تھا۔ بہت دیر تک اس درد و کرب میں مبتلا رہا۔ بالآخر میری روح پرواز کر گئی۔ میرے گھر والوں نے رونا دھونا شروع کر دیا۔ شور مچ گیا کہ ولید جسے کڑیل جوان کا یکا یک انتقال ہو گیا۔ میرے غسل و کفن اور نمازِ جنازہ کے مراحل طے ہو گئے اور مجھے تاریک قبر میں اتار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ایسا گھپ اندھیرا پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ لوگ دفنا کر چل پڑے اور میں ان کے قدموں کی چاپ سنتا رہا۔ اتنے میں قبر کی دیواریں ہلنا شروع ہو گئیں۔ لمبے لمبے دانتوں سے قبر کی دیوار چیرتے ہوئے خوفناک شکلوں والے دو فرشتے (منکر نکیر) میری قبر میں آپہنچے، ان کا رنگ سیاہ، آنکھیں کالی اور نیلی اور شعلہ زن تھیں، ان کے کالے کالے مہیب (ہیبت ناک) بال سر سے پائوں تک لٹک رہے تھے۔ انہوں نے مجھے جھنجھوڑا اور جھڑک کر اٹھا دیا اور نہایت ہی سخت لہجے میں سوالات شروع کر دیے۔ ہائے میری بدنصیبی، اتنے میں ایک آواز گونج اٹھی، اس بے نمازی کو کچل دو۔ بس پھر کیا تھا قبر کی دیواروں نے مجھے بھینچنا شروع کر دیا اور میرے پسلیاں چٹاخ چٹاخ کی آواز کی ساتھ ٹوٹنے اور ایک دوسرے میں پیوست ہونے لگیں، میرا کفن آگ کے کفن سے بدل گیا، مرے نیچے آگ کا بستر بچھ گیا، اتنے میں قبر میں میری خالہ زاد بہن آگئی، قریب ہی ایک بے ریش لڑکا بھی کھڑا تھا۔ یک لخت ان دونوں کی شکلیں بے حد ڈرائونی ہو گئیں اور ان کے ہاتھوں میں دیو ہیکل مشینیں کپکپانے لگیں اور ان کی سلاخوں سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنے لگیں۔ ایک گرجدار آواز گونج اٹھی ۔۔۔ ولید اپنی خالہ زاد بہن سے بے تکلف تھا اور اس سے اپنی نگاہ کی حفاظت نہیں کرتا تھا، بے ریش خوبصورت لڑکوں میں دلچسپی لیتا تھا۔ لذت کے ساتھ ان کو دیکھتا اور لذت ہی کے ساتھ ان سے ملاقات کرتا تھا۔ خود بھی فلمیں ڈرامے دیکھتا اور دوسروں کو بھی دکھاتا تھا۔ اسے بد نگاہی اور شہوت پرستی کا مزہ چکھا دو۔

بس پھر کیا تھا ان دونوں نے ڈرل مشین کی آتشی سلاخیں میری آنکھوں میں گھونپ دیں جو کرخت آواز کے ساتھ گھومتی ہوئیں آنکھوں کو پھوڑتیں ہوئیں گدی سے آر پار ہو گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ میرے ہاتھوں اور جسم کے ان حصوں پر بھی ڈرل مشین چلنے لگیں جن سے میں شہوت کو تسکین دیا کرتا تھا۔ اس قدر خوفناک عذاب کے باوجود نہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہوتی تھی اور نہ ہی نظر آنا بند ہوتا تھا۔ یہی آواز کیا کم تھا کہ پھر آواز آئی یہ گانے باجے سننے کا شوقین تھا، جب کبھی دو آدمی خفیہ بات کرنے کی کوشش کرتے تو یہ کان لگا کر ان کی باتیں سن لیا کرتا تھا۔ جوں ہی آواز بند ہوئی ڈرل مشینوں نے میرے کانوں کا رخ کیا اور آہ۔ اب میرے کانوں میں بھی سلاخیں زور زور سے گھومنے لگیں۔ کافی دیر تک یہ اذیت ناک عذاب ہوتا رہا کہ آواز گونج اٹھی: یہ ماں باپ کو ستاتا تھا ۔۔۔ مسلمانوں کے دل دکھاتا تھا ۔۔۔ جھوٹا تھا وعدہ نہ نبھاتا تھا ۔۔۔ جب غصہ آتا تو گالی گلوچ اور مار دھاڑ پر اتر آتا تھا ۔۔۔ لوگوں پر طنز کرنا، ان کا مزاق اڑانا، اِدھر کی اُدھر لگانا، لوگوں کے عیب اچھالنا، تاش، شطرنج، لڈو اور ویڈیو گیمز کھیلنا، نشہ کرنا اور پتنگ اڑانا یہ سب اس کے محبوب مشغلے تھے۔ لوگوں کا حق دبانا، ناجائز کمانا اور حرام کھانا اس کا وَتِیرہ تھا ۔۔۔ یہ داڑھی بھی منڈھاتا تھا ۔۔۔ اس کے عذاب میں اضافہ کر دو۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت سارے لمبے لمبے کالے بچھو ڈنک اٹھائے میری طرف لپکے اور میری ٹھوڑی کی کھال کے اندر گھسنے شروع ہو گئے اور جہاں داڑھی ہوتی ہے اس حصے میں کھال اور گوشت کے درمیان داخل ہو کر مجھے ڈنک مارنے لگے۔ خوفناک سیاہ سانپوں نے مجھے کاٹنا شروع کر دیا، میں دنیا میں جن جن چیزوں سے ڈرتا تھا وہ سب مثلاً کتے، کن کھجورے، چھپکلیاں، چوہے وغیرہ یکبارگی مجھ پر ٹوٹ پڑے، نیز میری قبر آگ کی بھٹی بن گئی۔ اتنے میں کسی نے بہت بڑے آتشیں ہتھوڑے سے مجھ پر ایک زور دار ضرب لگائی اور میں گیند کی طرح اچھلا، دھڑام سے گرا اور میری آنکھ کھل گئی۔ میں اپنے پلنگ سے نیچے گر پڑا تھا، گھر والے گھبرا کر جاگ اٹھے تھے، دہشت کے مارے میرا بدن بری طرح کانپ رہا تھا۔

جب حواس کچھ بحال ہوئے تو میں نے رو رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی، ماں باپ اور دیگر افرادِ خانہ کو راضی کیا، راتوں رات عشاء کی نماز ادا کی اور میں نے پانچوں وقت تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز کا اہتمام شروع کر دیا ہے۔ نمازِ قصر عمری بھی ادا کر رہا ہوں اور ایک مٹھی داڑھی سجانے کا بھی عہد کر لیا ہے۔ ویڈیو کا کاروبار ختم کر دیا ہے، جن لوگوں کے حقوق پامال کیے تھے۔ ان سے صلح کر لی ہے۔ جن کی رقمیں ذمے تھیں ادا کر دی ہیں۔ انشاءاللہ میں ایک اچھے مسلمان کی حیثیت سے سنتوں بھری زندگی گزاروں گا۔ میری اصلاح کا راز جس جس بے عمل مسلمان پر اشکار ہو، کاش اس کے لیے بھی وہ باعثِ اصلاح بن جائے۔