پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ ، پہلے ٹیسٹ میچ کا پہلا دن

یکم فروری ۲۰۱۳ سے شروع ہونے پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا کھیل نہایت دلچسپ رہا۔  جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ظاہر ہے پاکستان کی مضبوط گیند بازی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور پاکستان کی نسبتاً کمزور بلے بازی کا اندازہ بھی سبھی کو ہے۔ اسی لیے جنوبی افریقہ کی جانب سے دیکھا جائے تو ان کا فیصلہ درست تھا۔

کھیل کا آغاز مناسب سا تھا جنوبی افریقہ کے کپتان سمتھ اور مایا ناز بلے باز الویرو پیٹیرسن نے اچھے کھیل کا آغاز کیا اور جنوبی افریقہ کو ۴۶ رنز کا آغاز دیا۔ ۴۶ رنز کے مجموعی سکور پر جنید خان کی گیند بازی کا جادو  چل گیا اور محمد حفیظ نے ان کی گیند پر پیٹیرسن کا کیچ لیا اس طرح پاکستان کو پہلی کامیابی حاصل ہوئی۔ میچ کے دوران ایک موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جنوبی افریقہ کے بلے باز آئوٹ ہونے کے موڈ میں بالکل نہیں ہیں اور پاکستان کو بہت بڑا ٹارگٹ دے کر ہی رہیں گے۔ حال ہی میں جنوبی افریقہ نے اپنے ہی گھر میں نیوزی لینڈ کو بہت بری طرح شکست دی ہے۔ مگر انہیں یہ بھی یقیناً یاد رکھنا ہو گا کہ یہ پاکستان ہے، نیوزی لینڈ یا انڈیا نہیں ہے۔  جنوبی افریقہ کے بلے بازوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ ایک بڑا سکور کریں مگر دنیا کی مضبوط ترین بائولنگ کا سامنا ان کے لیے بھی ممکن نہیں رہا اور پوری ٹیم صرف ۲۵۳ رنز سکور کر کے آئوٹ ہو گئی۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے زیادہ سکور جیک کیلس نے کیے جو کہ ۵۰ رنز تھے۔ ان کو عمر گل کی گیند پر اسد شفیق نے کیچ لے کر آئوٹ کیا۔ اسد شفیق نے جس طریقے سے کیچ لیا اس کی تعریف نہ کرنا ، نا صرف اسد شفیق کے ساتھ زیادتی ہو گی بلکہ کرکٹ پاکستان کی پوری ٹیم کے ساتھ ہی زیادتی ہو گی۔ کیلس نے ایک اچھلی ہوئی گیند پر اچھی شارٹ لگائی جو کہ چار رنز کی طرف جا رہی تھی مگر اسد شفیق بہت تیزی سے دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے گرتی ہوئی بہت تیز گیند کو اپنے مضبوط پنجوں میں دبوچ لیا ایک لمحے کو جیک کیلس بھی حیران رہ گئے اور پھر واپسی کی راہ لی۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے سکور بنانے کی تفصیل کچھ اس طرح سے رہی۔

کپتان سمتھ ۲۴ رنز، ۵۹ گیندیں کھیلیں اور ۲ چوکے مارے
الویرو پیٹیرسن ۲۰ رنز، ۵۳ گیندیں کھیلیں اور ۲ چوکے مارے
ہاشم آملہ ۳۷ رنز، ۶۷ گیندیں کھیلیں اور ۶ چوکے مارے
جیک کیلس ۷۸ گیندوں پر ۵۰ رنز، ۹ چوکے شامل
اے بی ڈیویلیرز ۸۴ گیندوں پر ۳۱ رنز اور ۳ چوکے شامل
پلیسس ۱۰۷ گیندوں پر ۴۱ رنز اور ۲ چوکے شامل
ایلگر ۴۰ گیندوں پر ۲۷ رنز جس میں ۳ چوکے اور ایک چھکا شامل
رابن پیٹیرسن ۱۱ گیندیں کھیل کر کوئی سکور نہیں کر سکے
فیلندر ۲ گیندیں کھیل کر صرف ۱ سکور کیا اور رن آئوٹ ہو گئے
مورکل ۲ گیندیں کھیلیں مگر کوئی بھی سکور کرنے میں ناکام رہے
ڈیل سٹین ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے ۱۰ گیندوں پر ۱۲ سکور بناسکے اور آئوٹ نہیں ہوئے

پاکستان کی نپی تلی  گیند بازی کا جادو دنیا کے اس خطے میں بھی چلا۔ ناصر جمشید جنہوں نے اپنے کیرئیر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا ان کے ساتھ جوان گیند باز راحت علی نے بھی اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ پاکستان کی طرف سے بہت سی امیدیں ناصر جمشید سے وابستہ ہیں کیوں کہ بہت عرصہ سے پاکستان کو جاوید میانداد  اور انضمام الحق کا نعم البدل نہیں مل سکا ہے۔

جادوگر گیند باز سعید اجمل جو کہ کوئی وکٹ نہ لے سکے مگر جنوبی افریقہ کے بلے باز انہیں صحیح سے کھیل نہیں سکے، انہوں نے ۲۳ اوورز میں صرف ۶۸ رنز دیئے۔ محمد حفیظ جنوبی افریقی کے بلے بازوں کی سمجھ میں نہیں آئے۔ انہوں نے ۷ اعشاریہ ۲ اوورز کیے، ۴ کھلاڑی آئوٹ کیےاور صرف ۱۶ رنز دیئے۔ یونس خان بھی گیند بازی میں نمایاں رہے۔ انہوں نے ہاشم آملہ کی قیمتی وکٹ حاصل کی۔ انہوں نے ۴ اوورز میں ۱۶ رنز دیئے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان کی گیند بازی کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

عمر گل: ۱۹ اوورز، ۲ وکٹیں، ۵۶ رنز
جنید خان: ۱۸ اوورز، ۲ وکٹیں، ۳۳ رنز
راحت علی:  ۱۴ اوورز، ۵۶ رنز اور کوئی وکٹ نہیں لے سکے
سعید اجمل: ۲۳ اوورز، ۶۸ رنز اور کوئی وکٹ نہیں لے سکے
یونس خان: ۴ اوورز، ۱۶ رنز اور ایک وکٹ حاصل کی
محمد حفیظ: ۷ اعشاری ۲ اوورز، ۱۶ رنز اور چار وکٹیں حاصل کیں

فیلڈنگ کے شعبے میں بھی پاکستان نے کمال کیا اور یقیناً جنوبی افریقہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہوگا کہ پاکستان ایک آسان ہدف نہیں ہے۔ پہلے دن کے اختتام تک پاکستان نے صرف ۲ اوورز کا کھیل کھیلا تھا اور پاکستان کا مجموعی سکور ۶ تھا اور اس کا کوئی کھلاڑی آئوٹ نہیں ہو ا تھا۔ محمد حفیظ ۶ رنز پر اور ناصر جمشید صفر رنز پر کھیل رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسرے دن کیا حالات ہوتے ہیں؟

اللہ پاکستان کی اس سرتوڑ کوشش کو جاری رکھے گا اور پاکستان ضرور سرخرو ہو گا۔ پاکستان زندہ باد۔