پاکستان بمقابلہ انڈیا – دوسرا ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ بروز 28 دسمبر 2012

آج بروز جمعہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوسرا بین الاقوامی ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا۔ پہلا میچ پاکستان نے 5 وکٹوں سے بڑی آسانی سے جیت لیا تھا جو کہ 25 دسمبر 2012 کو کھیلا گیا تھا۔ یاد رھے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانچ سال کے بعد کرکٹ کا آغاز دوبارہ سے ھوا ھے اور دونوں ملکوں کے شائقین اس کرکٹ کو بہت جوش و خروش کے ساتھ دیکھ رھے ھیں۔ نتیجہ کچھ بھی ھو مگر کرکٹ اپنے عروج پر نظر آرھی ھے جو کہ ایک بہت اچھی علامت ھے پاکستان اور پاکستان کی کرکٹ کے لئے۔

پہلے میچ کی طرح پاکستان کے کپتان محمد حفیظ نے ٹاس جیت کر انڈیا کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ھوئے 192 رنز سکور کئے جو کہ بظاھر تو ایک اچھا سکور نظر آتا ھے مگر اس میدان کی وکٹ ایک مکمل بیٹنگ وکٹ ھے جس وجہ سے یہ سکور اتنا زیادہ اچھا سکور نہیں ھے۔ ایک مکمل بیٹنگ وکٹ ھونے کے باوجود انڈیا صرف 192 رنز ھی سکور کر سکا ھے جو کہ اتنا زیادو مشکل نظر نہیں آیا۔

انڈیا کی طرف سے یووراج سنگھ نے اچھی بلے بازی کا مظاھرہ کیا اور 36 گیندوں پر 72 رنز سکور کئے جس میں 7 چھکے اور 4 چوکے شامل ھیں۔ پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ کامیاب گیند باز عمر گل رھے جنہوں نے 37 رنز دے کر 4 آئوٹ کیے۔ انڈیا کے صرف 5 کھلاڑی ھی آئوٹ ھوئے تھے پانچویں کھلاڑی کو سعید اجمل نے رن آئوٹ کیا یعنی عمر گل کے علاوہ کوئی اور گیند باز کوئی وکٹ نہ لے سکا۔ محمد عرفان جو کہ اپنا دوسرا ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیل رھے تھے انہوں نے اچھی گیند بازی کا مظاھرہ کیا مگر مکمل بیٹنگ وکٹ ھونے کی وجہ سے وہ بھی کوئی وکٹ نہ لے سکے۔

انڈیا کی اننگ کے بعد پاکستان کے بلے باز جب میدان میں اترے تو ان کا آغاز نہایت شاندار رھا۔ احمد شہزاد بہت اچھا کھیلتے رھے اور انہوں نے میچ بلکہ پورے ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا چھکا مارا جو کہ 99 میٹر لمبا تھا اور انہوں نے یہ چھکا انڈیا کے ایک معمولی سے گیند باز اشانت شرما کو مارا۔ اشانت شرما کو معمولی سا گیند باز میں اس لئے کہوں گا کہ کبھی بھی اشانت کی طرف سے کوئی میچ وننگ کارکردگی دیکھنے میں نہیں نظر آئی اور نہ ھی ان کی گیند بازی میں کچھ خاص نظر آتا ھے مگر انڈیا کو انہیں کھلانا مجبوری ھے کیوںکہ انڈیا کے پاس اچھے تیز گیند بازوں کی کمی ھے۔

74 کے مجموعی سکور پر ناصر جمشید، ایشون کی گیند پر کوھلی کو کیچ دے کر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ ناصر جمشید نے ایک چھکا اور چار چوکوں کی مدد سے 41 رنز سکور کئے تھے۔

ناصر جمشید کے باھر جانے کے بعد عمر اکمل آئے اور پہلی ھی گیند پر شاندرا سامنے کا چھکا لگایا مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ رھی۔ اسی آور میں احمد شہزاد جو کہ 99 میٹر لمبا چھکا لگا چکے تھے وہ یووراج سنگھ کی گیند پر سٹمپ آئوٹ ھو گئے۔ ان کے جانے بعد پاکستان کے کپتان محمد حفیظ کھیلنے کے لئے آئے۔ محمد حفیظ نے بھی جارحانہ بلے بازی کا آغاز کیا۔ مجھے محمد حفیظ اس وقت بہت ھی اچھے لگے جب انہوں نے انڈیا کے کامیاب گیند باز ایشون کو مسلسل 2 چھکے مارے۔ ایشون کی قسمت آج کل عروج پر ھے کہ انہیں خوامخواہ ھی انڈیا کے نام نہاد میڈیا نے مشہور کر دیا۔ میں ایک کرکٹر نہیں ھوں مگر میں بھی ایشون کو شاید بہت اچھا کھیل سکوں۔ ایشون نے اس میچ میں اپنے 4 آورز پورے کئے اور 28 رنز سکور دے کر 1 وکٹ حاصل کی۔

پہلے میچ کی طرح اس میچ میں بھی کپتان محمد حفیظ نے ذمے دارانہ بلے بازی کا مظاھرہ کیا۔ دوسری طرف عمر اکمل ڈنڈا کی ایک معمولی سی گیند پر اپنی غلطی سے چھکا مارنے کی کوشش میں آئوٹ ھو گئے۔ انہوں نے 17 گیندوں پر ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 24 رنز سکور کئے تھے۔ اس کے بعد شاھد آفریدی آئے اور اپنی اننگ کا آغاز چوکا مار کر کیا۔ محمد حفیظ نے 23 گیندوں پر اپنی نصف سینچری مکمل کی۔ آفریدی نے ایک خوبصورت چھکا مار کر ایک اور چھکا مارنے کی کوشش میں کمار کی گیند پر شرما کو کیچ دے دیا۔ انہوں نے 5 گیندوں پر 11 رنز سکور کیے۔

محمد حفیظ ڈٹے رھے اور اچھا کھیلتے رھے۔ آخری 2 آورز میں 26 رنز درکار تھے اور محمد حفیظ اور کامران اکمل میچ کی باگ ڈور سمبھالے ھوئے تھے۔ اس نازک موقع پر محمد حفیظ بھی اپنی وکٹ گنوا بیٹھے اور چھکا مارنے کی کوشش میں ڈنڈا کی گیند پر رائنا کو اپنا کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے شاندار بیٹنگ کی اور 26 گیندوں پر تین چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 55 رنز سکور کئے۔ ان کے فورا بعد ھی کامران اکمل بھی چھکا مارنے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ انہوں نے 3 گیندوں پر 5 رنز سکور کیے جس میں ایک چوکا شامل ھے۔

پاکستان کی 6 وکٹیں گر چکی تھیں اور آخری آور میں 20 رنز درکار تھے۔ عمر گل اور شعیب ملک کھیل رھے تھے۔ یہ دونوں کھلاڑی صرف 8 سکور ھی بنا سکے اور انڈیا نے یہ میچ 11 رنز سے جیت لیا۔ پاکستان کے 7 کھلاڑی آئوٹ ھوئے تھے اور پاکستان نے 181 رنز سکور کئے تھے۔ پاکستانی ھونے کے ناطے مجھے اس میچ کے ھار جانے کا نہایت دکھ ھے مگر خوشی اس بات کی ھے کہ پاکستان کے کھلاڑیوں نے بہت محنت کی اور انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے۔ ہار یا جیت تو میچ کا حصہ ھے ان میں سے ایک چیز تو حصہ میں آنی ھی ھوتی ھے۔

پاکستان کے کھلاڑیوں نے اس میچ سے بہت کچھ سیکھا ھو گا جو کہ آنے والے وقت میں ان کے کام آئے گا۔ پاکستان یہ سیریز ھارا نہیں بلکہ برابر کی ہے۔ اس لیے ھمارا پلڑا اگر اونچا نہیں تو برابر ضرور ھے اگر زیادہ قریب سے دیکھا جائے تو پاکستان کا پلڑا بھاری ھے۔ انڈیا کو ھوم گرائونڈ کا فائدہ بھی تھا اور پاکستان نے میچ 5 وکٹوں سے جیتا تھا اور انڈیا نے میچ صرف 11 رنز سے جیتا ھے۔ بین الاقوامی رینکنگ میں بھی پاکستان کو زیادہ فائدہ ھوگا۔

اب ہمیں اس شکست کو بھول کر پاکستان اور انڈیا کے درمیان شروع ہونے والی ایک روزہ میچز کی سیریز کی طرف دیکھنا چاہیے جو کہ صرف 2 دن بعد یعنی 30 دسمبر 2012 سے چنائی میں شروع ہو رہی ہے اور 3 میچز پر مشتمل ہے۔ پہلا میچ اتوار والے دن ہے اور پاکستان کے وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا۔ میری بلکہ ہر پاکستانی کی دعا یہی ہو گی کہ اللہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

سدا خوش رھیں۔
اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو۔
والسلام