پاکستان بمقابلہ انڈیا – پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ بروز اتوار 30 دسمبر 2012

اس مرتبہ بھی پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر انڈیا کو پہلے بلے بازی کرنے کی دعوت دی۔ میچ موسم کی خرابی کی وجہ سے نصف گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا مگر میچ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور مکمل 50 آورز گیند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میچ کا آغاز پاکستان کے لئے نہایت شاندار ثابت ہوا جنید خان نے بہت اعٰلی گیند بازی کا مظاھرہ کیا اور بہت ہی جلدی انڈیا کے 4 بلے بازوں کو واپسی کا راستہ دکھادیا اور ان کا ساتھ دیا محمد عرفان نے۔ 29 کے مجموعی سکور پر انڈیا کی نصف ٹیم واپس جا کر آرام کر رہی تھی جس میں گمبِھیر، سھواگ، کوہلی، یووراج سنگھ اور روہِت شرما شامل ہیں۔

انڈیا کی بلے بازی کی تباہی کے بعد کپتان دھونی اور رائنا نے انڈیا کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا اور اچھی بلے بازی کرتے ہوئے انڈیا کو مشکلات سے باہر کر دیا۔ مھندر سنگھ دھونی نے ناقابلِ شکست  اننگ کھیلی اور 113 رنز بنائے جس میں 3 چھکے اور 7 چوکے شامل ہیں اُن کا ساتھ دیا سُریش رائنا نے جنہوں نے 43 رنز بنائے اور محمد حفیظ کی گیند پر کلیِن بولڈ ہوئے۔

انڈیا نے مجموعی طور پر 227 رنز بنائے اور 6 کھلاڑی اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے تھے۔ جنید خان کی نہایت عمدہ قسم کی گیند بازی نے بہت متاثر کیا انہوں نے تمام کھلاڑیوں کو جادو کی گیند پر آُوٹ کیا۔ انڈیا اپنے ہی گھر میں جنید خان کے سامنے بے بس نظر آیا۔

پاکستان کی اننگ کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا۔ محمد حفیظ پہلی ہی گیند پر کُمار کی گیند پر آوٹ ہو گئے، اظہر علی بھی زیادہ نہ کھیل سکے اور کُمار ہی کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ناصر جمشید اور یونس خان نے بہت اچھی پارٹنر شپ بنائی۔ یونس خان بہت اچھا کھیلتے رہے اور انہوں نے ثابت کیا کہ انہیں قومی ٹیم میں شامل نہ کرنا ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے صرف 60 گیندوں پر 58 رنزسکور کئے اور اپنی غلطی سے نہیں بلکہ انڈیا کی بے ایمانی سے آوٹ ہوئے۔ انڈیا کے ٹی وی ایمپائیراسنانی نے غلط فیصلہ دیتے ہوئے انہیں آوٹ قرار دیا۔ کرکٹ کی دنیا کا اصول ہے کہ اگر آوٹ میں شکوک و شبہات ہوں تو (Benefit of doubt) بلے باز کے حق میں دیا جاتا ہے مگر انہوں نے پہلی مرتبہ گیند کروانے والی ٹیم کے حق میں دے دیا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی کرکٹ انتظامیہ ہر صورت میں پاکستان کو ہرانا چاہتی ہے چاہے انہیں اِس کے لئے بے ایمانی کا ہی سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔ یونس خان کے آوٹ ہونے کے بعد بھی انڈیا، پاکستان کا کچھ خاص نا بگاڑ سکا۔ ناصر جمشید کسی مظبوط حریف کی طرح ڈٹے رہے اور انڈیا کے گیند بازوں کی پٹائی کرتے رہے۔ انہوں نے 127 گیندوں پر اپنے 100 رنز مکمل کئے جس میں ایک چھکا اور پانچ چوکے شامل تھے۔ اُنہوں نے مجموعی طور پر 132 گیندوں پر 101 رنز بنائے اور ناقابلِ شکست رہے۔

یونس خان کے جانے کے بعد کپتان مصباح الحق آئے مگر صرف 16 رنز ہی بنا سکے۔ اُن کے جانے بعد پُر اعتماد بلے باز شعیب ملک کھیلنے کے لئے آئے۔ شعیب ملک نے اس ٹورنامنٹ میں اچھی کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ کچھ دنوں سے ان کے بارے میں ایک موبائل پیغام گھومتا نظر آیا جو کہ انگریزی زبان میں تھا اور میں نیچے اس کا ذکر کر رہا ہوں۔

Only Shoaib Malik knows that
.
.
.
.
.
.
.
.
.
How to play with Indian pitches?

یقیننا میری طرح اور لوگ بھی اس سے مہظوظ ہوئے ہوں گے۔ شعیب ملک ایک موقع پر ایشون کی گیند پر دھونی کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے تھے مگر ایمپائر نے ٹی وی ایمپائر کی مدد سے نو بال چیک کر کے وہ والی گیند نو بال قرار دی اور شعیب ملک بھی واپس آ گئے۔ شعیب ملک کا واپس آنا بھی انڈیا کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔

پاکستان کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے انڈیا کے کھلاڑی دِل چھوڑ بیٹھے تھے شائد انہیں نظر آگیا تھا کہ پاکستان کو یہ میچ ہرانا مشکل ہے۔ ٹوٹے دل سے کھیلتے ہوئے کوہلی بھی زخمی ہو گئے، وہ گیند کرواتے ہوئے اپنا پائوں مڑوا بیٹھے اور انہیں مجبورًا واپس جانا پڑا۔

پاکستان کی عوام کو پر جوش مبارکباد قبول ہو۔ پاکستان نے 228 کا آسان ہدف 48٫1 آورز میں مکمل کر لیا۔ یقینناً ناصر جمشید مین آف دی میچ قرار پائیں گے۔

خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ نگہبان