پاکستان بمقابلہ انڈیا – تیسرا ایک روزہ کرکٹ میچ – دہلی (6 جنوری 2013)

آج پھر انڈیا نے ٹاس جیت لیا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ کیوںکہ دوسرے ایک روزہ میچ میں ٹاس جیت کر پاکستان کو بلے بازی کی دعوت دینا انڈیا کو بہت مہنگی پڑی تھی، اس لیے انڈیا نے سوچا کے شاید اس طرح ہم یہ میچ جیت جائیں گے۔
اننگ کا آغاز پاکستان کے لئے بہت اچھا رہا محمد عرفان اور جنید خان کی عمدہ گیند بازی کے آگے انڈیا کے بلے باز مکمل بے بس نظر آئے، خاص طور پر وِرات کوہلی کو جنید خان نے اچھی طرح ذلیل کر کے آوٹ کیا۔ محمد عرفان نے تو کمال ہی کر دیا۔

پہلے 10آورز میں انڈیا کے مجموی 38 رنز پر اس کے 3 کھلاڑی واپس جاکر آرام کر رہے تھے جن میں نئے بلے باز راہانے، گمبھیر اور وہلی شامل ہیں، راہانے اور گمبھیر کو محمد عرفان نے واپسی کی راہ دکھائی جبکہ کوہلی کو جنید خان نے آوٹ کیا۔ یووراج سنگھ نے آکر کوشش کی کے اچھا کھیل سکیں اور یووراج ایسا دکھانے کی ناکام کوشش کررہے تھے کہ جیسا کہ وہ آوٹ نہیں ہوں گے مگر جب حفیظ کو سولہواں آور دیا گیا تو اپنے پہلے آور کی پانچویں ہی گیند پر یووراج سنگھ کو کلین بولڈ کر کے ان کے سارے خواب چکنا چور کر دیے اور ساتھ ہی گرائونڈ میں بیٹھے ہوئے سارے انڈین لوگوں کو سانپ سونگھ گیا۔ میچ مکمل طور پر پاکستان کے ہاتھ میں آگیا جب سعید اجمل نے انتیسویں آور میں مسلسل 2 گیندوں پر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے سریش رائنا اور ایشون کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ دھونی نے بہت کوشش کی کہ انڈیا کو اچھا سکور دے سکیں مگر 131 کے مجموعی سکور پر عمر گل کی گیند پر عمر اکمل کو کیچ دے کر وہ بھی واپس چل دیے۔ اس طرح دونوں عمروں نے مل کر دھونی اور انڈیا کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
انڈیا کے ائمپائیر سریش اسنانی جنہیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے وقت سے بہت پہلے بین القوامی کرکٹ کی ائمپائیرنگ کرنے آ گئے ہیں۔ حال ہی میں دنیا کے نمبر ایک ائمپائیر علیم ڈار نے لاہور میں کرکٹ اکیڈمی کا آغاز کیا ہے، اسنانی کو چاہیے کہ اُن کی شاگردی اختیار کرلیں تو شاید کچھ سیکھ سکیں گے، میری اس بات سے انڈین لوگ بھی متفق ہوں گے کیوںکہ علیم ڈار کی قابلیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے اور پچھلے میچ میں اسنانی نے نہ صرف یونس خان کا غلط آوٹ دیا بلکہ انڈیا کے بھی 2 کھلاڑی غلط آوٹ دے دیے جس سے زیادہ نقصان انڈیا کو خود ہی پہنچا ہے۔ دھونی کے جانے کے بعد انڈیا کا کوئی بھی کھلاڑی پاکستان کے گیند بازوں کا مقابلہ نہیں کر سکا اور انڈیا کی پوری ٹیم مجموعی طور پر 167 رنز بنا کر 43 اعشاریہ 4 آورز میں آوٹ ہو گئی۔ اب پاکستان کو 50 آورز میں 168 رنز درکار تھے۔ اس میچ میں بھی سعید اجمل نے انڈیا کی بلے بازی کی چتھڑیاں اڑا دیں اور آدھی ٹیم صرف انہوں نے آوٹ کی۔ انہوں نے 9 اعشاریہ 4 آورز میں 24 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور ثابت کیا کہ کوئی بھی ٹیم ہو اور کوئی بھی گرائونڈ، اُن کے جادو سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ پاکستان کی طرف سے آج ناصر جمشید کے ساتھ کامران اکمل نے اننگ کا آغاز کیا کیوںکہ آج فیلڈنگ کے دوران محمد حفیظ کے بائیں بازو میں گیند لگ گئی تھی اس لئے محمد حفیظ شروع میں بلے بازی کے لئے نہ آ سکے۔ آج انڈیا نے ایک اور نئے گیند باز شامی احمد کو متعارف کروایا۔ کامران اکمل امیدوں پر پورا نہ اتر سکے اور بغیر کوئی رن بنا کر کمار کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آوٹ ہو گئے۔ انڈیا کے کسی بلے باز نے بلے بازی تو کی نہیں تھی اس لئے اپنے استعمال میں نہ آنے والی طاقت کو فیلڈنگ میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کوئی بھی فیلڈر اگر گیند روک لیتا تو سارے اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کو ہاتھ پھنکتے رہتے کہ ہم نے بلے بازی تو کی نہیں چلو فیلڈنگ تو کر رہے ہیں نہ۔ ان سے کوئی پوچھے کہ تم فیلڈنگ کرنے کے لیے ہی تو کھڑے ہو بھلا ہر گیند روکنے کے بعد داد لینا ضروری ہے کیا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سبزی فروش ہر مرتبہ سبزی بیچنے کے بعد بھنگڑا ڈالے کہ میں نے ایک کلو آلو بیچے ہیں۔ بھلا یہ تو اس کا کام ہے، اسی طرح فیلڈنگ کر کے گیند روکنا ان کا کام ہے۔ یونس خان بھی زیادہ نہ کھیل سکے اور صرف 6 رنز بنا کر آوٹ ہو گئے۔ یونس خان کے جانے کے بعد کپتان مصباح الحق کھیلنے کے لیے آئے اور ناصر جمشید کے ساتھ مل کر 47 رنز کی ایک اچھی پارٹنر شپ بنائی۔
ناصر جمشید 34 رنز بنا کر ایک مرتبہ پھر ائمپائیر کے غلط فیصلے کا شکار ہوئے۔ اس سیریز میں ائمپائیرنگ کا میعار نہایت ہی گھٹیا رہا ہے۔ ناصر جمشید کے جانے کے بعد کپتان اور نوجوان بلے باز عمر اکمل انڈین گیند بازوں کی خبر لیتے رہے۔ اُن دونوں کے درمیان 52 رنز کی پارٹنر شپ بنی، مصباح الحق 39 رنز بنا کر آوٹ ہو گئے۔ ان کے بعد آنے والے شعیب ملک بھی جلدی آوٹ ہو گئے۔ اُن کے بعد زخمی محمد حفیظ بلے بازی کرنے کے بعد آئے۔ آخر کار ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد ائمپائروں کی مدد سے انڈیا یہ میچ جیت گیا مگر پاکستان نے یہ سیریز اپنے نام کر لی اور پاکستان نے انڈیا میں جا کار انڈیا کو چاروں شانے چت کیا اور 1-2 سے یہ سیریز اپنے نام کر لی۔
پاکستان کا یہ کامیاب دورہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان زندہ باد