لاپرواہی

میرے گلی میں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے کوئی آفت ٹوٹ پڑی ہو۔ ہر طرف ایک افراتفری کا ماحول تھا۔ کچھ لمحوں تک تو سمجھ ہی میں نہ آیا کہ آخر کیا ہوا ہے ؟ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا چیخ وپکار کی آوازیں تیزی سے کانوں میں آنے لگیں۔ میں نے کچھ قدم تیز کیے اور چاہا کہ معلوم کیا جائے کہ آخر معاملہ کیا ہے ؟ میں نے سوچ کر محلے کے ایک بچے سے پوچھا کہ کیا ہوا، یہ شور وغل کیسا ہے؟ تو پتہ چلا کہ ” شرجیل” کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور حادثہ اتنا شدید ہوا ہے کہ جان خطرے میں ہے۔

میں یہ سن کر اپنی جگہ دم بہ خود رہ گیا اور سوچنے لگا اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ پروردگار شرجیل کی جان کی حفاظت کرے اور اس کو صحت عطا کر۔ شرجیل ہمارے پڑوس میں ایک گھر کے فاصلے پر رہتے تھے۔ گھر میں سب سے بڑے ہونے کے ساتھ والدین کے لاڈلے اور چہیتے بھی تھے۔ محلے والوں کے ہر دکھ، درد اور خوشی وغم میں برابر کے شریک رہتے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ دوستانہ ماحول رکھتے تھے نیز ہر کوئی ان کی شرافت کے گن گاتا تھا، لہٰذا ان کے حادثے کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد ہر چھوٹے ، بڑے کی حالت عجیب تھی اور گھر میں ایک سوگ کا عالم تھا اور ہر چھوٹا، بڑا ہی ان کی صحت یابی کیلئے دعا مانگ رہا تھا کہ اسی کشمکش میں کسی نے آکر یہ خبر دی کہ شرجیل بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

اس افسوسناک خبر کے ملتے ہی گویا ایسا لگا کہ سب پر بجلی گر گئی، سب کے دل ہی ڈوب گئے اور گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ کئی لوگوں کا تو غم سے اتنا برا حال تھا کہ بس! اور والدین کا تو شدت غم سے حال ہی برا ہو گیا کہ ان کی آنکھ کا تارا انہیں اس بڑھاپے میں یوں روتا ہوا چھوڑ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر میں شرجیل کا جسد خاکی اسپتال سے گھر لایا گیا تو محلے کی پر سوگ فضاء میں ایک بار پھر رونے اور چیخنے کی آوازیں گونجنے لگیں کہ صبح تو بچہ صحیح سالم گھر سے چلا تھا تو شام میں ایسے کیوںکر ہوا؟ ہر چھوٹا بڑا شرجیل کی میت کو دیکھ کر آنسوں بہا رہا تھا۔

مگر یہ سب ہوا کیسے ؟ کس وجہ سے شرجیل اس دنیا سے چلا گیا ؟ پتہ یہ چلا کہ حسب عادت شرجیل اپنے کام کے لئے گھر سے نکلا تھا کہ راستے میں کسی ٹرک والے نے شرجیل کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔اس ٹرک کی تیز رفتاری کے سبب لگنے والی ٹکر شرجیل کی موت کا سبب بنی اور شرجیل اپنے پیچھے ہزاروں سوگواروں کو روتا ہوا چھوڑ کر چلا گیا۔

یہ کہانی صرف ایک شرجیل ہی کی نہیں بلکہ معاشرے میں رہنے والے ہر اس فرد کی عکاسی کرتی ہے جس کے پاس دوران سفر ہاتھ میں ہینڈل اور اس کے پائوں یا ہاتھ میں رفتارکنٹرول کرنے والا آلہ ہوتا ہے اور ان کی ذرا سی لاپرواہی کسی بھی دردناک انجام کا سبب بن جاتی ہے۔ سڑک پر گاڑیاں لہراتے ہوئے ان تمام کم عمر بچوں اور نوجوانوں کے لئے یہ کہانی ایک ایسا سبق آموز واقعہ ہے جو اپنے ساتھ کسی بھی وقت ہونے والے ناخوش گوار واقعے سے نا آشنا ہیں۔