اللہ کی قدرت

زیبرے کی دھاریاں اسے دشمن سے بچانے کے لیے کیموفلاج (Camouflage) کا کام کرتی ہیں۔ کیموفلاج کا مطلب ہے۔ انسان یا چیزوں کو دشمن کی نظر سے چھپانے کے لیے انھیں ایسے کپڑے پہنانا یا ان پر رنگ و روغن کرنا یا ان پر درخت کی شاخیں رکھ دینا کہ وہ ارد گرد کے قدرتی ماحول کا حصہ معلوم ہوں اور آسانی سے پہچان میں نہ آئیں، اسی لیے جو فوجی میدانی حصوں یا جنگلوں میں جنگ کرتے ہیں، انھیں عام طور پر انہیں خاکی وردی پہنائی جاتی ہے جس پر سبز رنگ کی پھول پتیاں بنی ہوتی ہیں۔ اس طرح دشمن انہیں آسانی سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہاں چڑیا گھر وغیرہ میں زیبرے کو دیکھ کر سب فوراً پہچان لیں گے مگر زیبرے کو یہ سیاہ بھورے رنگ کی دھاریاں اصل میں اس وقت کام دیتی ہیں جب وہ درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپا ہوا ہو اور شیر اسے پھاڑ کھانے کے لیے ڈھونڈ رہا ہو۔ اب ایک اور دلچسپ بات بھی جان لیں کہ جیسے ایک انسان کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات دوسرے انسان کی انگلیوں کے نشانات سے نہیں ملتے، اسی طرح قدرت نے لاکھوں زیبروں کی دھاریاں بھی الگ الگ بنائی ہیں۔ ایک کی دھاریاں دوسرے سے نہیں ملتیں۔ اللہ اکبر۔