تابوت میں کیل

آج میں بہت خوش تھا۔ خوشی میرے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ کسی اعلیٰ مقصد میں کامیابی کا نشہ کیا ہوتا ہے، یہ میں آج ہی جان پایا تھا۔ شادمانی کا احساس رگوں کے اندر تک سرایت کر رہا تھا۔

کالج میں کامران سے میری رسمی سی علیک سلیک تھی۔ میرا گروپ کالج کا سب سے مشہور گروپ تھا۔ اس میں ہم آٹھ دوست شامل تھے۔ ہر کام میں ہم آٹھوں دوست پیش پیش ہوتے۔ چند دنوں سے میں کامران کو ایک نئے دوست کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ میرے ایک گروپ فیلو قاسم نے بتایا کہ وہ نیا لڑکا سلیم قادیانی ہے۔ کیوں کہ سلیم کا خاندان قاسم کے محلے میں چند دنوں تک کرائے پر رہے تھے۔ بعد میں وہ کہیں اور شفٹ ہو گئے تھے۔ یہ سن کر میری رگیں تن گئیں تھیں، کیوں کہ کامران سلیم کے ساتھ ساتھ نظر آتا اور دونوں اکثر کالج کنٹین سے اکٹھے ہی کھاتے پیتے۔ یہ سب میری برداشت سے باہر تھا کہ ایک مسلمان ایک مرتد غدار سے برادرانہ تعلقات رکھے، چنانچہ میں نے کامران سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور میری توقعات کے عین مطابق کامران سلیم کے قادیانی ہونے سے ناواقف تھا اور میرے بتانے پر وہ سٹپٹا گیا اور بتایا کہ سلیم تو اپنے آپ کو قادیانی کی بجائے مسلمان کہتا ہے۔ یہ سن کر میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا اور پھر میں نے کامران کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ تشکیل دیا۔

کالج میں داخلہ فارم پر ہو رہے تھے اور کامران سلیم کے پاس بیٹھا ہو بظاہر ادھر ادھر کی ہانک رہا تھا مگر اس کی نظریں سلیم کے فارم پر ہی تھیں۔ کامران نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سلیم سے دوستی برقرار رکھی تھی اور اس پر قطعاً یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ اس کے مرزائی ہونے سے واقف ہو چکا ہے۔ جونہی سلیم نے فارم پر مذہب کے خانے میں اپنا مذہب اسلام شو کیا تو ہمارے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔

میں نے ایک تفصیلی خط پرنسپل کے نام تحریر کیا۔ جس میں میں نے انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس خط میں میں نے مرزائیوں کی اسلام اور پاکستان دشمن سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور دیگر اکابر کے مرزائیوں کے بارے میں تاثرات مختصر قلمبند کیے اور آخر میں لکھا کہ “پاکستانی قانون کے مطابق مرزائی ایک غیر مسلم اقلیت ہیں، لیکن یہ اپنے آپ کو اکثر مسلمان ظاہر کر کے اعلیٰ عہدوں پر قبضہ کرکے مسلمان اکثریت کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہورہے ہیں۔ لہذا میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ اس برائی کے پودے کو درخت بننے سے پہلے ہی اکھاڑ پھینکا جائے تو بہتر ہوگا اور سلیم جو کہ قادیانی ہے، اسے داخلہ فارم پر غیر مسلم ظاہر کیا جائے۔

بات پرنسپل کی سمجھ میں آچکی تھی۔ انھوں نے مجھے آفس میں طلب کرلیا اور بذات خود سارے حالات سنے، پھر وہیں سلیم کو بھی طلب کر لیا گیا۔ میں نے چند گواہ پرنسپل کے سامنے پیش کیے۔ قاسم کی پختہ گواہی پر سلیم اپنے قادیانی ہونے سے انکار نہ کرسکا اور پھر پرنسپل نے سلیم کے داخلہ فارم پر مذہب کے خانے سے اسلام مٹا کر قادیانی غیر مسلم کا لفظ خود اپنی نگرانی میں لکھوایا۔ سلیم کا چہرہ اپنی شکست پر حد درجے تاریک نظر آرہا تھا۔ آفس سے باہر نکلتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں کو مجاہد ختم نبوت پیر مہر علی کا یہ قول سنایا: “فتنہ مرزائیت کے خلاف کام کرنے والے کی پشت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ہوتا ہے”۔

اب تو میرے سبھی دوستوں کے چہرے خوش بختی کے احساس سے تمتمانے لگے تھے۔ امیہ صدیقی – گوجرہ