پراسرار حویلی

چار دوست ایک گاوں میں رہتے تھے۔ ان کے نام فیروز، علی، ہاشم اور خرم تھے۔ یہ چاروں دوست گاوں کے سب سے اچھے بچوں میں شمار کیے جاتے تھے اور ان کی دوستی بھی مثالی تھی۔ گاوں چھوٹا تھا اور آبادی بھی کم تھی۔ چاروں گاوں کے ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے جو گاوں کا واحد سکول تھا اور ان چاروں کا گھر ایک دوسرے کے قریب ہی تھا۔ گاوں میں ایک پراسرار حویلی تھی جو کہ “خوفناک حویلی” کے نام سے جانی جاتی تھی۔ گاوں کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ یہاں حویلی میں ایک راجہ رہا کرتا تھا۔ کسی نے اس کو مار دیا اور اس کا خاندان اور خزانہ غائب ہو گیا۔

جب بھی وہ چاروں یہ کہانیاں سنتے، ان کا دل چاہتا کہ وہ حویلی کہ جانچیں، لیکن جب انہوں نے اپنے والدین کہ اپنی اس خواہش کے بارے میں بتایا ہو انہوں نے منع کر دیا۔ ایک دن جب وہ چاروں سکول سے واپس آرہے تھے تو علی جو سب سے ہوشیار تھا، کہنے لگا کہ آج ہم اس حویلی میں جائیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں خوف محسوس ہوا۔ خرم جو سب سے بزدل تھا، واپس جانا چاہتا تھا لیکن ہاشم نے کہا۔ اب جبکہ ہم یہاں آ ہی گئے ہیں تو ہمیں پتہ لگا کر ہی جانا چاہیے۔ سب راضی ہو گئے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ وہاں کوئی دروازہ نہیں تھا صرف ایک بڑی دیوار تھی ان چاروں نے دیوار پھلانگی تو ہر طرف سوکھے پتوں کو دیکھا۔ وہاں بہت زیادہ کمرے تھے وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ یہ ایک بہت بڑا کمرہ تھا اور یہاں بہت سارے پرانے برتن پڑے تھے۔ وہ باہر آئے اور راہداری سے گزر ہی رہے تھے کہ فیروز جو سب سے آگے تھا گر پڑا۔ سب نے اس کو مل کر اٹھایا اور اٹھنے میں اس کی مدد کی۔ جب اس جگہ پر غور کیا گیا تو سب نے دیکھا کہ وہاں پر ایک سوراخ تھا جو کہ دھیمی روشنی ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ سکا تھا۔ جب ہاشم نے اپنا ہاتھ فیروز کی طرف بڑھایا تو اس کا ہاتھ کسی چیز سے چھوا۔ وہ ایک چھٹا صندوق تھا۔ چاروں نے اسے غور سے دیکھا۔ فیروز اسے کھولنا چاہتا تھا لیکن خرم نے خوفزدہ ہو کہا کہ صندوق کھولنے سے انہیں کوئی نقصان ضرور ہو گا، لیکن علی صندوق کھولنے کے لیے اسرار کرنے لگا۔ ہاشم نے صندوق کھولا تو اندر سے ایک کاغذ برآمد ہوا، وہ حیران رہ گئے۔ فیروز نے کہا: اس میں کچھ لکھا ہے۔ علی نے دلچسپی سے کہا کہ شاید یہ ایک خزانے کا نقشہ ہے جو راجہ چھوڑ گیا ہے۔

“وہ خزانہ، چلو اسے کھولو” ہاشم نے کہا۔ اب چاروں پر جوش ہو گئے تھے۔ علی نے کچھ نشان اس پر بنے دیکھے۔ سب نے اسے دیکھا تو کاغذ پر شیشم کا درخت اور مربع کی شکل والا پتھر بنا تھا۔ اس کے ساتھ تیر کا نشان تھا۔ انہوں نے حویلی کے درخت کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ انہوں نے حویلی کے ارد گرد دیکھا مگر انہیں وہ نہ مل سکا۔ انہوں نے دوبارہ کاغذ کو دیکھا۔ فیروز نے کہا، دیکھو یہ جنوب کی سمت ہے۔ ایک منٹ کی دیر کیے بغیر وہ جنوب کی سمت گئے، کچھ فاصلے پر انہوں نے درخت کو دیکھا وہ درخت کے پاس بھاگے تو انہوں نے مربع کی شکل والے پتھر کے ساتھ تیر دیکھا۔ انہوں نے پتھر اٹھایا تو اس کے نیچے ایک سوراخ سیڑھیوں کے ساتھ تھا۔ وہ چاروں نیچے اترے تو یہ ایک سرنگ تھی جہاں زیورات اور قیمتی پتھر موجود تھے۔ وہاں چند لاشیں بھی موجود تھیں جو اب ایک ڈھانچہ بن گئی تھیں۔ وہاں ایک بڑا کاغذ پڑا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ یہ راجہ کا خاندان ہے۔ اس نے میرے بیٹے کو مارا تھا تو میں نے بدلہ لیا اور جادوگر ہامل کی مدد سے اس کے سارے خاندان کو مار دیا۔ مجھے خزانہ نہیں چاہیے۔ جو کوئی بھی یہاں آئے گا وہ ہی اس کا حقدار ہو گا۔ یہ راز کھلنے کے لیے پندرہ سو سال لگیں گے۔ وہ چاروں خزانہ پا کر بہت خوش ہوئے۔ وہ واپس گاوں گئے اور وہاں کے لوگوں کو لے کر حویلی آئے۔

گاوں کے لوگ یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سب نے مل کر فیصلہ کیا کے اس خزانے کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس موقع پر علی، فیروز، ہاشم اور خرم کی خوشی دیدنی تھی۔ آخر انہی کی وجہ سے تو حویلی کا راز فاش ہوا تھا۔