مسلمان عیاش نہیں ہوتے – حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ

ایران کے بادشاہ قیصرا نے جب ساری دنیا کا بیشتر حصہ فتح کیا تو اس نے اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لیے  ایک تخت بنوایا ۔ اس تخت کی لمبائی ۱۷۰ ہاتھ اور چوڑائی ۱۱۰ ہاتھ تھی ۔ اس تخت پر ۵۳ من ۲۳ سیر سونا لگا تھا ۔ ایک لاکھ ۴۰ ہزار چاندی کی میخیں اس پر لگائی گئیں ان میخوں کا مجموع وزن ۱۲ سو تئیس من تھا اور اڑھائی من  وزنی تاج اس پر ایک زنجیر سے بندھا ہوا لٹکا رہتا تھا جس میں بادشاہ سر دے کر بیٹھا کرتا تھا۔ لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کہ میں بہت بڑا بادشاہ ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں وہ تخت اٹھا کر مدنیہ لایا گیا۔  حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مشورہ کیا کہ اس تخت کا کیا کیا جائے تو کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس تخت کو رکھا جائے یہ یاد گار نشانی ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ عیاشی کی نشانیاں ہیں۔ مسلمان عیاش نہیں ہوتے اس تخت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے تخت کے ٹکڑے ٹکڑے کروادئیے۔