مختصر پُراثر

حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے احباب میں سے ایک صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا تھا کہ ری یونین کا عیسائی وزیر، حضرت سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ اسے لے آنا، آج وہ صاحب اس وزیر کو لے آئے اور انہیں کمرے میں لانے کی اجازت چاہی۔ حضرت والا نے فرمایا کہ انہیں دوسرے کمرے میں بٹھائو، کیوں کہ وہ اگر یہاں آیا تو مجھے اٹھنا پڑے گا جس سے اکرامِ کافر لازم آئے گا اور میں جائوں گا تو اس کو اٹھنا پڑے گا۔ سبحان اللہ! بظاہر تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، لیکن حفاظتِ دین کا خزانہ ہیں۔ (محمد طلحہ ابراہیم)

کبھی کبھی انسان کسی بات پر بہت زیادہ حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ یہ حیرت کبھی کبھی بہت خوش گوار ہوتی ہے اور کبھی انسان کو حد درجے خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک دن میں بس میں سوار کالج جر رہا تھا۔ مزار قائد کراچی پر بس سگنل پر رکی۔ مزارِقائد کے ساتھ ہی “عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت” کا مرکز ہے۔ یہاں یکم محرم کو چند حظرات نے توڑ پھوڑ کی تھی، حتیٰ کہ بیرونی دیوار گرا دی تھی۔ خدا ان حضرات کو ہدایت نصیب فرمائے۔ اسی جگہ سے میں گزرا تو میں نے ایک دل دہلانے والا منظر دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگوں نے وہاں مصنوعی خانہ کعبہ اور روزہِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم بنایا ہے اور کچھ لوگ اس کا طواف کر رہے ہیں۔ کچھ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر نا جانے کیوں میں خوف زدہ ہو گیا۔ میرا دل دہل گیا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ ہم مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے۔ کیا میرا خوف زدہ ہونا درست تھا؟ (وقاص یوسف بھڑنگ – کراچی)

ایک شخص نے اپنے باپ کے گلے میں رسی ڈال کر بسواری تک کھینچا، یعنی بانس کے درختوں تک کھینچ کر لے گیا۔ باپ نے بیٹے سے کہا: “اب آگے نہ کھینچنا ورنہ تو ظالم ہو جائے گا”۔ بیٹے نے کہا: “ابا دروازے سے یہاں تک جو چالیس پچاس قدم کھینچا، کیا وہ ظلم نہیں تھا؟”۔ باپ نے جواب دیا: “نہیں! کیوں کہ میں نے اپنے باپ یعنی تیرے دادا کو یہاں تک کھینچا تھا” (بنتِ مولانا سیف الرحمان – گجرانوالا)

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مجھے تم میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو اچھے اخلاق رکھنے والے ہوں۔ جو عاجزی کی وجہ سے گویا لوگوں کے سامنے بچھے جاتے ہوں۔ جو خود بھی دوسروں سے محبت رکھتے ہیں اور دوسرے بھی ان سے مانوس رہتے ہیں”۔ اور فرمایا “میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ لوگ ہیں جو چغلی کھاتے ہیں اور دوستوں دوستوں میں نفرت کا بیج بوتے ہیں اور شریفوں میں عیب ڈھونڈتے ہیں”۔ (طبرانی)

ایک مرتبہ کسی نے شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ “بچوں کی تربیت کیسے کریں؟” انہوں نے فرمایا: جب بچے کی عمر 10 سال ہو جائے تو اسے اجنبی لوگوں میں مت بیٹھنے دیں۔ اسے اچھے اخلاق کی تعلیم دیں۔ غیر ضروری پیار اور شفقت نہ دیں، بڑوں اور اساتذہ کا ادب سکھائیں۔ اسے ہر حال میں استاد کی سخت بات سہنے کی نصیحت کریں۔ بچے کی تمام ضروریات پوری کریں۔ کچھ ایسا کریں کہ وہ اپنی کسی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف نہ دیکھے۔ پڑھائی کے شروع کے دنوں میں اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ تعریف کریں اور شاباش دیں، سختی کم سے کم کریں۔ بچے کو کوئی ہنر لازمی سکھانا چاہیے، اگر اس کے پاس ہنر ہو گا تو برے دنوں میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا”۔ (محمد عبدالرحمان مظہر سرگانہ – باگڑ سرگانہ)