مٹھو چاچا کی میٹھی جیت

ایک گائوں میں ایک آدمی رہتا تھا۔ اُس کا نام حیدر تھا۔ حیدر بہت غریب تھا۔ مگر اس کی ایمانداری کے چرچے پورے گائوں میں تھے۔ دراصل وہ ایک حلوائی تھا۔ وہ ایسے ‘ میٹھے پکوان’ بناتا تھا کہ جو ایک بار کھاتا بار بار آتاتھا ۔ میٹھی چیزیں بنانے کی وجہ سے اسے لوگ مٹھو چاچا کہتے تھے۔ وہ ایک رحم دل آدمی بھی تھا ۔اس کے سارے گھر کا خرچہ اسی دکان سے نکلتا تھا۔ اس کی دکان کے قریب اس کے بھائی کی بھی دکان تھی۔ وہ مٹھو چاچا سے بہت نفرت کرتا تھا۔ مٹھو چاچا کی ایمانداری کے چرچے پورے گائوں میں پھیل گئے تھے۔ گائوں کا سر دار اسے آزمانا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ جائواس کی دکان کے آگے ایک برتن میں لڈو رکھ آئو۔

جب وہ برتن رکھ دو تو مٹھو چاچا کا دروازہ کھٹکھٹانا اور پھر ایک جگہ چھپ جانا۔مٹھو چاچا کی ایمانداری کا پتہ چل جائے گا۔ سپاہیوں نے ایسا ہی کیا۔ مٹھو چاچا نے دروازہ کھولا تو باہر ایک بڑے سے برتن میں لڈو دیکھے اور لوگوں سے دریافت کیا مگر معلوم نہیں ہوا کہ یہ لڈو کس کے ہیں۔۔۔؟ کوئی نہ آیا کیوں کہ لڈو تو کسی کے نہ تھے۔ جب اس کے بھائی کریمو نے دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آگیا، اس نے چپکے سے لڈو چرالیے۔ سپاہیوں نے اسے چوری کرتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے گرفتار کر کے لے گئے اور سردار کے سامنے پیش کیا۔ سردار نے مٹھو چاچا کو ایمانداری پر داد دی اور کر یمو کو سر زنش کر کے جانے دیا۔ ایک دفعہ اسی گائوں میں کھانا پکانے کا مقابلہ ہوا۔ جس میں لوگوں کو اچھے اچھے پکوان بنانے تھے۔ مقابلے میں مٹھو چاچا نے بھی حصہ لیا۔اسے خود پر اعتماد تھا۔ گائوں میں مقابلے کے لیے زور شور سے تیاریاں کی گئیں۔

آخر کاروہ دن آگیا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔ تمام حلوائی میدان میں داخل ہوئے۔ سردار کو یقین تھا کہ اس بار بھی مٹھو چاچا سب کے دلوں کو جیت لے گا۔ تمام حلوائیوں نے کڑھائی اٹھائی اور جلتے ہوئے چولہے پررکھ دی اور اپنے من پسند پکوان بنانے میں مصروف ہو گئے۔

مٹھو چاچانے بھی سب سے پہلے جلیبیاں بنائیں ۔ اس کے بعد مٹھو چاچا نے ہر وہ پکوان تیار کیے جو گائوں والوں کے پسندیدہ تھے۔ سب کی زبان پر صرف چاچا کا نام تھا۔یہ دیکھ کر اس کا بھائی حسد کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ اس کے میٹھے پکوان کو نمکین پکوان بنا دیا جائے۔ مٹھو چاچا پانی لینے کے لیے کچھ دیر کو باہر گیا تو اس کے بھائی کو موقع مل گیا۔ موقع ملتے ہی اس نے اپنا کام شروع کر دیا ۔ جیسے ہی وہ کڑھائی میں نمک ڈالنے لگا، سردار نے اسے دیکھ لیا اور میدان سے باہر نکال دیا۔ تھوڑی دیر میں مٹھو چاچاواپس آگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں سب حلوائیوں نے پکوان تیار کر لیے۔

سردار نے جب مٹھو چاچا کے بنائے ہوئے کھانے کو چکھا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھا ۔ ‘ واہ مٹھو چاچا واہ۔۔۔۔۔۔! ‘ اس طرح سے مٹھو چاچا جیت گئے اور کریمو کو اس کی نفرت کا صلہ مل گیا۔

دیکھا بچو! کس طرح سے مٹھو چاچا کی ایمانداری نے انہیں میٹھی جیت دلائی۔ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگوں کی بے حد ضرورت ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ نیکی اور ایمانداری کا صلہ ضرور ملتا ہے۔