مسیحا

2012 ء اختتام کو پہنچا تو عمر کے کزنز اور اس نے مل کر ایک پلان بنایا۔ وہ سب چاہتے تھے کہ کچھ ایسا کریں کہ 2012 ء یاد گار بن جائے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نا ایک ڈنر کا اہتمام کیا جائے جس میں تمام رشتہ داروںکو مدعو کیا جائے، چنانچہ انہوں نے پیسے جمع کرنے شروع کر دیئے۔مختلف باتوں پر وہ امی، ابو یا خالہ، خالو سے پیسے بٹورتے رہتے تھے۔

31 دسمبر کو وہ ہوٹل کا معائنہ کرنے جا رہے تھے جہاں ڈنر ہونا تھا۔ راستے میں انہیں ایک بوڑھی عورت نظر آئی، وہ کہہ رہی تھی۔ ‘یہ سال بھی گزر گیا، ان یتیم بچوں نے نہ عید پر کپڑے لیے اور نہ ویسے کبھی کوئی اچھے کپڑے پہنے ۔ مدت سے اسی آس پہ ہوں کہ شاید کوئی ہم پر رحم کھا کر ہی ہمیں کچھ دے جائے اور وہ رونے لگی۔ یہ آوازیں ایک خستہ حال جھونپڑی سے آرہی تھیں۔ یہ باتیں سن کر عمر لمحہ بھر کو سُن ہو گیا، پھر خود ہی سے باتیں کرنے لگا۔ ‘ہمارے ملک میں ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک کپڑے کے لیے ترستے ہیں اور کچھ ہم جیسے ہیں جو فضول خرچی سے باز نہیں آتے اور ہوٹلوں پر ڈنر کرتے پھرتے ہیں، کیا یہ لوگ ہماری مدد کے مستحق نہیں ہیں؟ کیا ہم ان کے مسیحا نہیں بن سکتے ؟ بن سکتے ہیں ضرور بن سکتے ہیں اور بنیں گے۔’ عمر نے یہ سوچتے ہی باقی کزنز سے کہا کہ’ یہ پیسے جو ہم نے ڈنر کے لیے جمع کیے ہیں کیوں نہ ہم ان لوگوں کو دے دیں، اللہ بھی ہم سے خوش ہو گا اور یہ لوگ بھی ہمیں دعائیں دیں گے۔
‘ یہ بات سب کو پسند آئی اور وہ سب اس عورت اور یتیم بچوں کا مسیحا بننے کے لیے تیار ہو گئے۔انہوں نے سارے پیسے اس عورت کو دیئے اور ان گنت دعائیں لیں اور یہ لمحہ ان کے سال 2012 ء کو یادگار بنا گیا، جس کو وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے تھے۔