مجھے محبت ہے ان جوانوں سے

“مجھے محبت ہے ان جوانوں سے” اس جملے کو سنتے ہی ذہن میں ایک محبت کا احساس ہوتا ہے اور شاید یہ بات بھی ذہن میں آتی ہو کہ یہ جملہ خصوصاً فوج میں موجود جوانوں کے لیے ہے جو ہماری حفاظتوں پر معمور ہیں اور اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ جوان بے شک عظیم ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر آج میں ان جوانوں کی بات نہیں کر رہا بلکہ میں ان محنت کش جوانوں کی بات کر رہا ہوں جو نہایت ایمانداری کے ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ آج یعنی ۸ فروری ۲۰۱۳ کو میرا ٹکرائو بھی کچھ اسی قسم کے نوجوان سے ہوا۔ میں اس ٹکرائو کے بارے میں یہاں پر ذکر کرنے جا رہا ہوں۔

میں عموماً اپنے دفتر سے رات کو دیر سے گھر جاتا ہوں۔ بسا اوقات رات کو ۱۰ بج جاتے ہیں اور بعض اوقات تو ۱۱ بھی بج جاتے ہیں۔ سردیوں کے دنوں میں ۱۱ بجے کا وقت کافی وقت ہوتا ہے۔ ویسے عموماً لاہور جیسے بڑے شہر میں ۱۱ بجے کا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا اور ۱۱ بجے بھی سڑکوں کی رونقیں برقرار ہوتی ہیں۔ میں تقریباً ایک دن چھوڑ کر ایک دن بعد دفتر سے گھر جاتے ہوئے راستے میں آنے والے بازار چلا جاتا ہوں اور اگلے دن گھر میں پکنے والی سبزی ترکاری خرید لیتا ہوں اس طرح ایک تو میرا وقت کافی بچ جاتا ہو اور دوسرا گھر میں میرے علاوہ کوئی اور بازار جا کر سامان لانے والا بھی نہیں ہے۔ والدہ ضعیف ہیں اور والد پہلے ہی خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ میرے بچے بہت چھوٹے ہیں سو میں ہی یہ فریضہ انجام دیتا ہوں۔

رات کے وقت زیادہ تر سبزی بیچنے والے گھر کو جا چکے ہوتے ہیں بہت کم سبزی فروش سبزی بیچ رہے ہوتے ہیں جو کہ کم داموں میں سبزی بیچ کر جلد گھر جانا چاہتے ہیں۔ میں ایک سبزی فروش کے پاس گیا اور گاجر کا بھائو پوچھا، سبزی والے نے کہا: ۲۰ روپے کلو، مجھے اچانک یاد آیا کہ صرف دو روز پہلے ہی تو میں نے ۱۵ روپے کلو کے حساب سے گاجر خرید چکا ہوں۔ میں نے کچھ زیادہ گاجر خریدنی تھی کیوں کہ مجھے گھر میں بچوں کو گاجر کا جوس پلانا ہوتا ہے۔ میں نے اس سبزی فروش کو چھوڑ کر آگے قدم بڑھائے۔ سبزی فروش نے آواز لگائی: ۱۵ روپے کلو کے حساب سے دے دینا۔ میں نے یہ سوچ کر اسے چھوڑ دیا کہ اس نے پہلے ہی مجھ سے غلط بیانی کی ہے ۱۵ روپے کی چیز کی قیمت ۲۰ روپے بتائی ہے۔ میں عموماً سبزی فروشوں سے ان کی بتائی ہوئی قیمت پر ہی سبزی خریدتا ہوں اور ان سے قیمت کے معاملے میں بحث نہیں کرتا۔ میں چلتے چلتے ایک اور سبزی فروش کے پاس پہنچا، اس کے پاس گاجریں نظر آرہی تھیں۔ دیکھنے میں ہی وہ جوان اور محنتی نظر آتا تھا۔ میں نے اس کے پاس رک کر پوچھا کہ گاجر کی قیمت کیا ہے؟ سبزی فروش نے جواب دیا: ۱۰ روپے کلو، میں ایک لمحے کو تو حیران ہی رہ گیا کہ قیمت میں اتنا زیادہ فرق۔ میں نے کہا کہ تین کلو دے دو پھر سوچا کہ اچھی قیمت میں مل رہی ہے زیادہ لے لیتا ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ پانچ کلو دے دو۔ سبزی فروش نے کہا: میں آپ کو یہ ساری گاجریں ۵۰ روپے میں دے دیتا ہوں۔ یعنی کہ وہ مجھے پانچ کلو کی قیمت میں تقریباً سات کلو گاجریں دے رہا تھا یعنی قیمت پہلے ہی کم تھی اور گاجریں بھی مزید زیادہ دے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس کی مدد کرنے کے لیے میں اس سے مزید کچھ چیزیں خرید لیتا ہوں۔

میں نے کچھ کھیرے، مولی وغیرہ خرید لیے اور میرا کل بل بنا ۱۰۰ روپے۔ میں نے سبزی فروش کو ۱۱۰ روپے دے دئیے۔ سبزی فروش نے کہا کہ بھائی یہ ۱۰ روپے زیادہ ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے خود اپنی خوشی سے دئیے ہیں۔ اس کا یہ سننا تھا کہ وہ بہت خوش ہوا میرا سامان جو کہ وہ پہلے ہی پیک کر چکا تھا کھولنے لگا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا تو کہنے لگا کہ اگر آپ نے محبت کا ہاتھ بڑھایا ہے تو میں بھی اس کا بھرپور جواب دوں گا۔ اس نے میرے سامان میں ایک گڈی دھنیے کی، ایک گڈی پودینے کی، کافی ساری ہری مرچیں اور ہری پیاز رکھ دی اور کہنے لگا کہ یہ میری طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہے۔ اس نے اتنا سارا سامان رکھ دیا تھا جتنا میں نے اسے رقم بھی نہیں دی تھی۔ مجھے شرمندگی محسوس ہونے لگی اور ایک عجیب سی خوشی بھی کہ کیا ابھی بھی ایسے محنت کش اور خود دار لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے شاید احسان نہیں رکھنا چاہتے۔ میں نے سوچا کہ ایسے ایماندار اور خود دار لوگ نہیں ملتے میں آئندہ اسی سے سبزی خریدا کروں گا۔ وہ سبزی فروش ایک ریڑھی پر بیچ سبزی رہا تھا میں نے پوچھا کہ کیا یہیں پر سبزی بیچتے ہو یا کہیں اور بھی ریڑھی لگاتے ہو تو کہنے لگا کہ رات کے وقت ادھر ہی ہوتا ہوں اور دن کے وقت اس طرف، “ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا”۔

میں نے اس کونے کو ذہن نشین کرتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے اور اسے سلام کرکے واپسی کی راہ لی۔

میرے وطن پاکستان میں آج بھی اچھے لوگ موجود ہیں جن کی وجہ سے پاکستان قائم ہے ورنہ تو وہ وقت پہنچ ہی چکا ہے جس میں کوئی اعتبار کرنے والا نہیں بچا۔ جہاں ہر کوئی ایک دوسرے کو کسی نہ کسی طرح لوٹنے کی فکر میں ہے۔ اللہ ایسے ایماندار لوگوں کو اس بے حس معاشرے کی دھوپ میں کسی سائے کی طرح قائم رکھے۔

آمین