قرض

دانیال ، شہر کا ایک بڑا اور مشہور بزنس مین تھا۔ انتہائی دولت مند ہونے کے باوجود وہ ذرا مغرور نہیں تھا، بلکہ وہ بہت نیک اور ایماندار شخص تھا۔ ایک روز وہ اپنی شاندار گاڑی میں دفتر سے گھر جا رہا تھا، اس نے گاڑی ایک زیر تعمیر عمارت کے پاس روکی ۔ جہاں بہت سے مزدور کام کر رہے تھے، انہی مزدوروں میں اس کی نظر ایک کم عمر لڑکے پر پڑی جو اپنی ناتوانی کے باوجود اینٹیں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ رہا تھا، نہ جانے کن مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس عمر میں مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔ دانیال اسے کافی دیر تک کام کرتے دیکھتا رہا پھر اس کا ذہن ماضی کی گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔

دانیال کے ماں باپ اس کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ وہ ایک دور کیے رشتہ داروں کے پاس رہنے لگا تھا جو اس پر بہت ظلم کرتے تھے۔ انہوں نے اسے بچپن میں ہی تعلیم دلوانے کے بجائے کام پر لگا دیا تھا۔ دانیال محنت مزدوری کرتا تھا اور جو تھوڑے بہت پیسے اسے ملتے تھے وہ اس کے رشتہ دار لے لیتے تھے۔ اسی طرح ایک روز سخت گرمی کا دن تھا۔ دانیال ایک جگہ کام میں مصروف تھا کہ ایک آدمی جو لباس سے بہت امیر لگ رہا تھا اس کے پاس آیا۔ اس نے دانیال سے پوچھا کہ تم اسکول کیوں نہیں جاتے۔ مزدوری کیوں کر رہے ہو۔ دانیال نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتایا۔ پھر اس شخض نے پوچھا تم میرے ساتھ جائو گے میں تمہیں اچھے کپڑے لے کر دوں گا، اچھا کھانے کو دوں گا، اور اچھے سے اسکول میں داخل کرائوں گا اور بالکل اپنے بچوں کی طرح رکھوں گا۔ دانیال کو اسکول میں پڑھنے کا ویسے ہی بہت شوق تھا۔ اس نے فوراً حامی بھر لی اور کہا کہ پہلے میرے رشتے داروںسے پوچھ لیں۔ وہ شخص دانیال کو لے کر اس کے رشتے داروں کے پاس آیا، جب ان سے دانیال کو ساتھ لے جانے کی بات کی تو وہ نہ مانے مگر وہ لالچی تو تھے ہی ۔ اس شخص نے کچھ رقم دے کر ان کو راضی کر لیا اور دانیال کو اپنے ساتھ لے گئے۔

وہ آدمی سیٹھ ہاشم تھا جس کے شہر میں کئی کارخانے تھے۔ وہ ایک نہایت امیر شخص تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ سیٹھ ہاشم نے واقعی دانیال کا بہت خیال رکھا۔ اسے بالکل اپنے بچوں کی طرح پیار دیا۔ اسے اچھی تعلیم دلوائی اور اس کی بہت اچھی تربیت کی۔ دانیال بھی بہت لائق اور ہونہار ثابت ہوا، اس نے اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کی۔ اس کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے سیٹھ ہاشم نے آہستہ آہستہ سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ کیونکہ وہ خود اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس نے دانیال کی تر بیت اس طرح کی تھی کہ اسے دانیال پر مکمل بھروسہ اور اعتماد تھا۔ دانیال نے بھی کبھی سیٹھ ہاشم کے اعتماد کو ٹھیس نہیں لگنے دی اور اس نے سیٹھ ہاشم کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ آخر وہ سیٹھ ہاشم کی خدمت کیوں نہ کرتا۔ وہ دانیال کے لئے فرشتے سے کم نہ تھے۔ انہوں نے دانیال کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔

ایک روز سیٹھ ہاشم نے دانیال کو اپنے پاس بلایا اور کہا بیٹا میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں ، دانیال کو متوجہ پا کر انہوں نے بولنا شروع کیا۔ دانیال بیٹا میں بھی بچپن میں بہت غریب تھا۔ میرے والدین بھی میرے بچپن میں ہی اللہ میاںکو پیارے ہو گئے تھے۔ میں بالکل بے آسرا ہو گیا تھا کیونکہ میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہ تھا۔ میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا تھا کہ ایسے میں سیٹھ اکبر نے مجھے سہارا دیا۔مجھے پالا پوسا۔ مجھے تعلیم دلوائی اوراپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے مجھے اپنا کاروبار شروع کروادیا، انہی کی تربیت اور قدم قدم پر رہنمائی کی بدولت میں نے خوب ترقی کی اور میرا کاروبار پورے شہر میں پھیل گیا۔ دانیال بہت غور سے سن رہا تھا اور اس انکشاف پر حیران تھا۔ سیٹھ ہاشم نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔ دانیال بیٹا اب میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور اکثر بیمار رہنے لگا ہوں۔ کسی وقت بھی اللہ کی طرف سے بلاوا آسکتا ہے۔ ایسے میں تم سے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں۔

”انکل آپ حکم کریں ، آپ کے مجھ پر بہت احسانات ہیں۔ آپ نے کبھی مجھے یتیم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ میری زندگی آپ کی امانت ہے۔ آپ جان بھی مانگیں گے تو حاضر کر دوں گا۔” دانیال جذباتی ہو گیا۔

سیٹھ اکبر کا مجھ پر قرض تھا جو میں نے تمہیں اپنا بیٹا بنا کر اور تمھاری تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھا کر ادا کر دیا۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ تم بھی کسی بے سہارے کا سہارا بنو، کسی لاوارث کو اپنا لو اور اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دو۔ میں ضرور آپ کی خواہش پوری کروں گا اور اس قرض کو ادا کروں گا۔ دانیال نے جواب دیا۔

اس کے چند روز بعدسیٹھ ہاشم انتقال کر گئے۔ دانیال کے ماں باپ زندہ ہوتے تو وہ بھی اس کا سیٹھ ہاشم جتنا خیال نہ رکھ سکتے ۔ دانیال نے تہیہ کر لیا کہ وہ سیٹھ ہاشم کی خواہش ضرور پوری کرے گا۔

اور آج اسے وہ کم سن مزدور نظر آیا تو دانیال کو سیٹھ ہاشم سے کیا ہوا وعدہ یاد آگیا، اس نے دل ہی دل میں اس بچے کو اپنا نے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ گاڑی سے اترکر اس بچے کی طرف بڑھنے لگا۔