خط یمن والوں کے نام

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد ایک خط یمن والوں کے نام لکھا تھا۔ اس خط کے الفاظ یہ تھے۔

“بسم اللہ الرحٰمن الرحیم ۔ یہ خط خلیفہِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے یمن کے ان تمام مسلمانوں کے نام ہے جن کے سامنے یہ پڑھا جائے۔

السلام و علیکم! میں تمہارے سامنے اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ام بعد اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر جہاد کو فرض فرمایا اور انہیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا ہے، چاہے ہلکے ہوں یا بھاری اور اللہ کے راستے میں مال و جان لے کر جہاد کا حکم دیا ہے، جہاد اللہ تعالی کی طرف سے ایک زبردست فریضہ ہے۔ اللہ تعالی کے ہاں اس کا بہت ثواب ملتا ہے۔ ہم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ ملک شام جا کر رومیوں سے جہاد کریں، اس لیے وہ جلدی سے تیار ہوگئے اور اس میں ان کی نیت بہت عمدہ ہے ۔ کیوں کہ  وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے جا رہے ہیں اور جہاد کے اس سفر میں  اللہ سے ثواب لینے کے لیے ان کی نیت بہت بڑی ہے۔ تو اے اللہ کے بندو! جیسے یہاں کے مسلمانوں نے جلدی سے تیاری کر لی ہے، تم بھی جہاد کے اس سفر کی جلدی سے تیاری کر لو، لیکن اس سفر میں آپ کی نیت ٹھیک ہونی چاہیے۔ تمہیں وہ خوبیوں میں سے ایک خوبی تو ضرور ملے گی یا تو شہادت ملے گی یا فتح اور مال غنیمت، کیوں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ وہ  صرف باتیں کریں اور عمل نہ کریں۔ اللہ کے دشمنوں سے جہاد کیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ وہ دن حق کو اختیار کر لیں اور اللہ کی کتاب کے فیصلے کو مان لیں۔ اللہ تعالی تمہارے دین کی حفاظت فر مائے اور تمہارے دلوں کو ہدایت عطا فر مائے اور تمہارے اعمال کو پاکیزہ فر مائے اور جم کے مقابلہ کرنے والے مہاجرین کا ثواب تمہیں عطا فر مائے۔