آج کے لطیفے

گواہی

ایک دن ملا نصیر الدین کا پڑوسی ان کے پاس آیا اور کہا کہ ذرا اپنا گدھا تھوڑی دیر کے لیے دے دیں۔ ملا نے جواب دیا: ‘ مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں آپ کے کام نہ آسکوں گاکیوں کہ صبح ہی ایک صاحب گدھا مانگ کر لے گئے ہیں اور ابھی تک واپس نہیں لائے’۔

جس وقت ملا یہ بات کہہ رہے تھے ٹھیک اسی وقت اصطبل سے گدھے کے رینکنے کی آواز آئی، پڑوسی تاڑ گیا کہ ملا نے بہانہ کیا ہے، گدھا موجود ہے۔اس نے ملا سے کہا:

‘ میرے خیال سے گدھا اندر موجود ہے’

ملا نے جواب دیا:

‘جو شخص ایک انسان کے مقابلے میں گدھے کی بات کا یقین کرے وہ اس لائق نہیں ہے کہ اسے کوئی چیز دی جائے، آپ تشریف لے جا سکتے ہیں’۔

یہ جوتے میرے نہیں

ایک سکول میں نرسری کی ٹیچر اپنی کلاس کے 20 بچوں کے جوتے پہنا رہی تھی، جھک جھک کر اس کی کمر میں درد ہونے لگا، بیسواں بچی شرمیلا اور خاموش طبیعت کا تھا، جب ٹیچر اسے بھی جوتے پہنا چکی تو بچہ بڑے سکون سے بولا۔

” یہ میرے جوتے نہیں ہیں”

ٹیچر کا دل چاہا کہ وہ رو دے مگر خود پر قابو پا کر بچے کے جوتے اتارنے لگی۔ جوتے اتار کر کمر سیدھی کی ہی تھی کہ بچہ بڑے سکون سے بولا: ” یہ جوتے میرے بھائی کے ہیں مگر امی نے کہا تھا کہ آج تم یہ پہن کر چلے جائو۔”

لاجواب

ایک نوجوان نے بزرگ سے پوچھا: ” جب دنیا فانی ہے تو پھر لوگ اس کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں؟”

”پیسہ دنیا میں رہ جائے گا تو پھر لوگ اس کے پیچھے زندگی کیوں لٹا دیتے ہیں؟”

” فانی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوستوں کو دشمن کیوں سمجھتے ہیں”

بزرگ نے مسکراتے ہوئے زمین سے کانٹا اٹھایا اور نوجوان کے تینوں سوالوں کا جواب ایک خوبصورت جملے میں دیا۔

انہوں نے کانٹا اٹھایا اور منہ کے قریب لا کے دانتوں میں پھنسی ہوئی چھالیہ نکالی اور کہا:

” جا بھئی اپنا کام کر”

حساب برابر

پہلا پڑوسی: ”میں معافی چاہتا ہوں کہ میرے مرغی آپ کے لان میں نکلنے والے نئے پودے کھا گئی ہے”۔

دوسرا پڑوسی: معذرت کی ضرورت نہیں ہے میری بلی آپ کی مرغی کو کھا گئی ہے حساب برابر ہو گیا۔

پہلا پڑوسی (سر کھجاتے ہوئے) : حساب برابر ہونے کا اندازہ لگانا مشکل ہے، ابھی میں گھر آرہا تھا کہ آپ کی بلی اچانک میرے گاڑی کے نیچھے آکر کچل گئی۔

غائب دماغی

ایک شخص بہت غیر حاضر دماغ تھا۔ ایک روز وہ صبح سو کر اٹھا تو اسے یاد آیا کہ بدھ کو ایک خاتون کے ہاں کھانے پر جانا تھا۔ وہ بے حد پریشان ہوا اور فون کی طرف دوڑا۔

” مائی ڈئیر، میں بے حد معذرت خواہ ہوں۔”

اس کی سانس پھول رہی تھی۔

” بدھ کو نہ آنے کے باعث میں بے حد شرمندہ ہوں۔ نہ جانے میں کیسے بھول گیا۔ مہربانی کر کے اب کسی اور دن مجھے بلا لو۔میں ایک بار پھر معذرت چاہتا ہوں۔”

دوسری طرف دیر تک خاموشی رہی پھر خاتون کی سرد آواز سنائی دی۔

” کس بات کی معذرت؟ تم بدھ کو دعوت میں موجود تو تھے۔”

عقلمندی

ایک دفعی کا ذکر ہے کہ ایک ٹوپی بیچنے والا درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ اچانک کچھ بندر اس کی ٹوپیاں اٹھا کر لے گئے۔ اسے اپنے دادا کی سنائی ہوئی بات یاد آئی کہ بندر انسان کی نقل کرتے ہیں۔ اس نے اپنی ٹوپی اٹھا کر پھینکی ۔ ایک بندر آیا ، وہ ٹوپی بھی اٹھائی اور بولا۔

” تمہارا کیا خیال ہے، ہمارے دادا نے ہمیں کچھ نہیں بتایا؟”