چند لطیفے – 27 جنوری 2013

فقیر سردار سے: آپ کے ہمسایوں نے مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ہے۔
آپ بھی مجھے کچھ دے دیں۔
سردار: یہ لو ہاجمولا۔

ایک شخص نارا لگاتے ہوئے: کتا ہے ۔۔۔ کتا ہے۔۔۔صدر سب سے بڑا کتا ہے۔۔
پولیس والا: اوئے چل تھانے۔ تو صدر کو برا بھلا کہتا ہے۔ تجھے تھانے چل کر پوچھتا ہوں۔
وہ شخص: اوہ جی میں تو انڈیا کے صدر کو کہہ رہا ہوں۔
پولیس والا: ہمیں تو بے وقوف بناتا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کون سا صدر کتا ہے۔

بیوی شوہر سے: تم سوتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہے تھے۔
شوہر: تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔
بیوی: کیا غلط فہمی ہوئی ہے۔
شوہر : یہی کہ میں سو رہا تھا۔

پٹھان: ہم کو جلسے میں جماعت اسلامی والوں نے بہت مارا۔
دوست: وہ کیوں۔
پٹھان: وہ کہہ رہے تھے۔
“گو امریکہ گو”
ہم نے تو بس اتنا کہا:
“بھائی ویزہ تو دو”۔

لڑکی: میری سالگرہ کا تحفہ کدھر ہے؟
لڑکا: وہ سامنے سرخ رنگ کی گاڑی دیکھ رہی ہو؟
لڑکی خوش ہوتے ہوئے: واہ جی واہ۔
لڑکا: اس رنگ کی نیل پالش لایا ہوں تمہارے لیے۔

پٹھان: لائٹ نہیں ہے تو پنکھا ہی چلا دو۔
بیوی: آخر پٹھان ہی ہو نہ۔ عقل تو ہے ہی نہیں۔
پنکھا چلا دیا تو موم بتی بجھ جائے گی پھر اندھیرے میں اپنا سر مارنا۔
پٹھان: اوہ سوری یاد نہیں رہا۔

ایک پٹھان پر بجلی کا تار گر گیا۔
وہ تڑپ تڑپ کر مرنے ہی والا تھا کہ اسے یاد آیا کہ
دو دن سے تو بجلی ہی بند ہے۔