لطیفے 16 فروری 2013

گاہک: حجام سے
آپ کا کتا میرے بال کٹتے ہوئے اس قدر توجہ سے کیوں دیکھ رہا ہے۔
حجام: کبھی کبھی کسی گاہک کا کان کٹ کر نیچے گر جاتا ہے۔ اس چکر میں کھڑا ہے۔

ایک دوست: تم بلا وجہ ہوائی سفر کرنے سے ڈرتے ہو جب تک انسان کا وقت نہیں آجاتا وہ نہیں مر سکتا۔
دوسرا دوست: فرض کیا میں ہوائی جہاز میں سفر کر رہا ہوں اور پائلٹ کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو میں کیا کروں گا۔

بہت لمبے بالوں والا ایک شخص بال کٹوا رہا تھا۔ اچانک حجام نے مقناطیس اٹھایا اور اس کے بالوں میں پھیرنے لگا۔ بال کٹوانے والے شخص نے حیران ہو کر پوچھا۔
“یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”
حجام نے فوراً کہا:
“جناب میری قینچی آپ کے بالوں میں گم ہوگئی ہے”

گاہک: آم کیسے لگائے ہیں؟
پھل والا: جوڑ کے۔
گاہک: ارے بھئی دے کیسے رہے ہو۔
پھل والا: تول کے۔

ڈاکٹر: تم نے ڈوبتے شخص کو بچا کر ثابت کر دیا کہ تم پاگل نہیں ہو مگر افسوس وہ شخص رسی سے لٹک کر مر گیا۔
پاگل: وہ تو میں نے اسے سوکھنے کے لیے لٹکایا تھا۔

لڑکا: بابا تم آخر بھیک کیوں مانگتے ہو۔
بابا: یہ دیکھنے کے لیے کہ سخی کون ہے اور کنجوس کون۔

ایک شخص: تم کون ہو؟
دوسرا شخص: میں وہ ہوں جس سے اچھے اچھے معافی مانگتے ہیں۔
پہلا شخص: میں سمجھا نہیں۔
دوسرا شخص: میں بھکاری ہوں۔

وکیل عدالت میں چور سے: جب تم مکان میں چوری کرنے گئے تو مالک مکان تم سے کتنی دور تھا۔
چور: جناب میں وہاں چوری کرنے گیا تھا۔ زمین کی پیمائش کرنے نہیں۔

ایک شخص نہایت تیزی سے ایک دکان میں داخل ہو اور بولا: ڈاکٹر صاحب مجھے کون سی بیماری ہے؟
“آنکھوں کی، کیوں کہ یہ سبزی کی دکان ہے”

ایک سیاست دان تقریر کرتے ہوئے: بھائیو لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت مغرور ہوں۔ آپ خود سوچیں اگر میں مغرور ہوتا تو آپ جیسے دو ٹکے کے لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہوتا۔

ایک شخص ڈاکخانے میں داخل ہو کر بولا: جناب میری بیوی کھو گئی ہے۔
ڈاکخانے والا: بھائی پولیس سٹیشن جائو۔ یہ ڈاکخانہ ہے۔
پہلا شخص: “خوشی میں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرنا ہے”