جن کا تحفہ

شاہانہ اپنے بڑے بھائی عارف کا ہاتھ پکڑے ساحل سمندر کی ریت پر چہل قدمی کر رہی تھی۔ اچانک اس کے پائوں سے کسی چیز کو ٹھوکر لگی۔ اس نے جھک کر دیکھا، وہ ایک گہرے سیاہ رنگ کے شیشے کی بوتل تھی جس کا منہ لکڑی کے ڈھکن کے ساتھ مضبوطی سے بند تھا۔ شاہانہ نے پورا زور لگا کر ڈھکن بوتل کے منہ سے علیحدہ کر دیا۔ ڈھکن الگ ہوتے ہی بوتل کے منہ سے دھواں نکلنے لگا۔ شاہانہ نے گھبرا کر بوتل دور پھینک دی۔ بوتل میں سے دھواں مسلسل نکل رہا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بوتل نے ایک پہلوان نما مخلوق کی شکل اختیار کر لی۔ کالا سیاہ رنگ، بڑے بڑے نوکیلے دانت، چہرے پر بڑی بڑی مونچھیں اور تربوز جیسے بڑے سے سر پر چھوٹے چھوٹے کان، جن میں بڑی بڑی بالیاں پہنی ہوئی تھیں۔ جسم کا اوپری دھڑ تو دیو ہیکل تھا جب کہ نچلا دھڑ نا ہونے کے برابر تھا۔

شاہانہ ڈر کر سہم گئی اور اپنے بھائی کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کا بھائی بھی قدرے سہما ہوا تھا، مگر اس وقت دونوں کا ڈر دور ہو گیا جب اس عجیب و غریب مخلوق نے دونوں ہاتھ باندھ کر گونج دار آواز میں پوچھا:
“کیا حکم ہے میرے آقا؟”
“اوہ ۔۔۔۔ تو تم جن ہو ۔۔۔ وہی الہ دین کا چراغ والے جن ۔۔۔” شاہانہ کی جان میں جان آئی تو وہ قدرے اطیمنان سے بولی۔
“نہیں میرے آقا ۔۔۔ میں اس جن کے ماموں کے ماموں کا چچا ہوں ۔۔۔ “بوتل سے نکلنے والے جن نے مودبانہ انداز میں وضاحت کی۔”
تو کیا تمہارا سارا خاندان ٹین ڈبوں اور بوتلوں میں رہتا ہے ۔۔۔ تم لوگ رہنے کے لیے کوئی ڈھنگ کی جگہ کیوں نہیں لے لیتے ۔۔۔ تم تو جن لوگ ہو، تمہیں کیا مشکل ہے۔ چاہو تو اسلام آباد کے بلیو ایریا میں بنگلہ بھی لے سکتے ہو اور چاہو تو پرائم منسٹر ہائوس اور پریذیڈینسی جیسی کوئی عمارت بھی لے سکتے ہو ۔۔۔ “شاہانہ جن کے مودبانہ انداز سے خوب چہکنے لگی”۔

میرے آقا میں جن ہوں کوئی وزیر شزیر نہیں ہوں جو اسلام آباد کے پلاٹ ہتھیا لوں، اور رہی بات پریذیڈنٹ ہائوس جیسے محلات کی تو وہاں تو پہلے ہی مجھ سے بھی بڑے جن رہتے ہیں، جو اربوں کے قرضے یوں ہڑپ کر جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے احتساب بیورو بھی ان کا سراغ نہیں لگا سکتے۔ “جن بھی کسی تھیٹر کا کامیڈین لگتا تھا”۔

“تو پھر بوتل میں کیوں گھسے پڑے تھے؟” عارف بھائی نے پوچھا۔

“میرے آقا! بات دراصل یہ ہے کہ چند سال پہلے میں نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا اور بھوک بھی بہت زور کی لگی ہوئی تھی، لیکن جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی کہ بازار سے کچھ کے کر کھا لیتا۔ دوسرے جنات کی طرح چوری کی مجھے عادت نہیں۔ چلتے چلتے یہاں ساحل پر پہنچا تو یہ بوتل مجھے نظر آئی۔ اس میں تھوڑا سا جوس بچا ہوا تھا اور جوس بھی آم کا۔ اسے دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا اور میری رال ٹپکنے لگی۔ میں نے آئو دیکھا نہ تائو اور فوراً دھوان بن کر اس بوتل میں گھس گیا اور لگا غٹا غٹ جوس پینے اور پھر مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ کب کس نا ہنجار نے بوتل کا ڈھکنا بند کردیا اور یوں میں اس میں قید ہو کر رہ گیا۔ “بوتل کے جن نے مزے لے لے کر اپنی داستان اسیری سنائی اور آخری جملے پر باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے بھی لگا”۔

“تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہوگی نا! جوس پینے سے پہلے، اسی لیے قید ہوگئے۔” عارف بھائی ناصحانہ انداز میں مداخلت کرتے ہوئے کہا تو جن نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ گویا اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہو۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد بولا۔
“میرے آقا! آپ نے مجھے قید سے رہائی دلائی ہے اور سابقہ جنات کے دستور کے مطابق میں آپ کا غلام ہوں، مجھے حکم دیں کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟”
“جائو! جا کر کوئی ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔ بوتل سے تو نکل نہیں سکے۔ ہماری کیا خاک خدمت کرو گے؟” شاہانہ نے منہ بنایا۔

“کھی ۔۔۔ کھی ۔۔۔ کھی ۔۔۔؟” بوتل کے جن سے کوئی جواب نا بن سکا تو دانت نکال کر ڈھٹائی سے ہنسنے لگا۔

“تمہارے سینگ کہاں گئے؟” شاہانہ نے اچانک پوچھ لیا۔

“وہ میں نے کٹوا دیے ہیں” جن نے دنیا جہان کی سنجیدگی چہرے پر لاتے ہوئے کہا۔

“کیوں ۔۔۔ ں ں ں ۔۔۔؟” مارے حیرت کے شاہانہ کا کیوں کافی لمبا ہوگیا۔

“ٹوپی نہیں پہنی جاتی تھی نا اس لیے ۔۔۔۔ “جن نے معصومیت سے جواب دیا” تو دونوں بہن بھائی کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

ہنسی رکی تو عارف بھائی بولے، دیکھو جن ہمیں تمہاری خدمت کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم اپنا کام خود کرنے کے عادی ہیں۔ ہمیں دولت وغیرہ بھی نہیں چاہیے کہ جو دولت بغیر محنت کے حاصل ہوتی ہے، اس میں برکت نہیں ہوتی۔ یہی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ اس لیے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں۔ جائو اور جا کر اپنے والدین کی خدمت کرو۔ عارف بھائی نے جن کو آزادی خوشخبری سنائی تو شاہانہ کو کچھ بے چینی ہوئی جسے عارف بھائی نے بھی محسوس کیا اور دوبارہ گویا ہوئے: “غلاموں کو آزاد کرنا اور کروانا صحابہ کرام کی محبوب سنت تھی اور پھر آج سے چودہ سو سال پہلے خلیفہ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اعلان فرمادیا تھا کہ ہر ماں نے اپنے بچے کو آزاد جنا ہے، اس لیے آج کے بعد کوئی کسی کا غلام نہیں۔ خواہ وہ جن ہو یا انسان اور شاہانہ ہمیں اپنے اسلاف کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ “عارف بھائی نے شاہانہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا تو بات شاہانہ کی سمجھ میں آگئی”۔

“ٹھیک ہے جن میاں ۔۔۔ اب تم آزاد ہو ۔۔۔ جائو اور مزے کرو، لیکن اپنے خرچ پر ۔۔۔ اور ہاں آزادی کی قدر کرنا ۔۔۔ تمہیں تو مفت میں مل گئی، لیکن اکثر یہ بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ “شاہانہ نے کہا اور بھائی کا ہاتھ پکڑ کے کھینچتے ہوئے بولی”: چلو بھائی ہم چلیں ۔۔۔ اچھا بھئی جن میاں ۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔ عارف بھائی بھی منہ موڑ کر چل پڑے۔

“بھائی اور کچھ نہیں تو ایک روبوٹ ہی منگوالینا تھا ۔۔۔ سنا ہے جاپانی سائنس دانوں نے ایک بڑا زبردست روبوٹ تیار کیا ہے جو بالکل انسانوں کی طرح کام کرتا ہے ۔۔۔”

“نہیں منا! جو مزہ ہاتھ سے کام کرنے میں ہے، وہ روبوٹ سے کرانے میں نہیں۔ ہاں! آئو بس اب چلیں”۔

دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے قدم اٹھانے لگے۔

محمد طارق سمرا – خانیوال