چینی کے بارے میں معلومات

چینی کو عرف عام میں شکر یا شوگر بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری روز مرہ استعمال ہونے والی اشیاء میں سے ایک ہے۔ قدیم یونانی اقوام جن کے ہاں کھانے پینے کی ہر چیز کا نام ملتا ہے، ان کے ہاں چینی کا ذکر تک نہیں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چینی کے استعمال سے ناواقف تھے۔ ان کی روز مرہ خوراک میں چینی کا قابل ذکر حصہ شامل ہوا کرتا تھا۔ مسلمانوں کے یورپ پر حملے کے بعد سے یورپ گنے کی فصل سے آشناء ہوا اور آج وہاں سے چینی برآمد ہو رہی ہے۔

پاکستان میں چینی کا بہت کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں چینی کے استعمال کا اندازہ تقریباً ۵۰ لاکھ ٹن سالانہ ہے جب کہ آج سے دس سال پہلے تعداد صرف ۲۸ لاکھ ٹن سالانہ تھی۔ اس وقت پاکستان میں ۲۵ کلو گرام فی کس کے حساب سے چینی استعمال ہو رہی ہے جو کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ چینی دو طرح سے تیار کی جاتی ہے، گنے سے اور چقندر سے لیکن دنیا کے قریباً ۱۰۰ ملک اس وقت گنے سے چینی تیار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ سستی پڑتی ہے۔ تقریباً دنیا کی چینی کا 78 فی صد گنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ چینی پیدا کرنے والے ملک اپنی پیدا شدہ چینی کا زیادہ تر حصہ خود استعمال کرتے ہیں جب کہ باقی برآمد کر دی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان چینی پیدا کرنے والا دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے۔ لیکن یہاں چینی درآمد کرنا پڑتی ہے۔

برازیل دنیا میں سب سے زیادہ چینی پیدا کرتا ہے۔ تقریباً تین کروڑ، تیرہ لاکھ پچاس ہزار ٹن اس میں سے دو کروڑ دس لاکھ ٹن چینی برآمد کر دی جاتی ہے۔

طبی نقطہ نظر سے اگر چینی کے استعمال کا جائزہ لیں تو حیرت انگیز نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چینی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسولین کی مقدار خون میں بڑھا دیتی ہے جس سے گروتھ ہارمونز یعنی وہ ہارمونز جو جسم کی نشوونما اور بڑھوتی کا ذمہ دار ہوتا ہے کی پیداوار رک جاتی ہے۔ جس سے دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ انسولین جسم میں چکنائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھادیتی ہے جو وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

سفید چینی جو کہ عموماً بازاروں میں دستیاب ہوتی ہے، کوئی غذائی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ کیوں کہ نہ ہی اس میں نمکیات ہوتے ہیں، نہ وٹامنز۔ گلوکوز کو ماہرین کینسر کے لیے ایندھن قرار دیتے ہیں۔ اگر ان بیماریوں کی فہرست بنائی جائے جن میں کہیں نہ کہیں شوگر کردار ادا کرتی نظر آتی ہے تو یہ خاصی طویل ہے۔

شوگر دماغی نظام کو کمزور کرتی ہے جس سے تمام بیماریوں کو حملہ آور ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ نمکیات کے توازن میں خلل پیدا کرتی ہے۔ دانتوں کو خراب اور کمزور کرتی ہے۔ بال جلد سفید ہونا، کولیسٹرول میں اضافہ سر درد کا باعث بنتی ہے۔ جب آپ چینی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وٹامن سی کو خون سفید خلیوں میں جانے سے روک رہا ہے اور اس طرح سے آپ خود اپنے دفاعی نظام کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔

گنے سے جب ریفائن شوگر تیار کی جاتی ہے تو اس میں موجود تمام اہم اجزاء علیحدہ کر دئیے جاتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وٹامنز، نمکیات، پروٹین، اینزائمنر وغیرہ۔ جو کچھ چینی کی شکل میں ہم استعمال کرتے ہیں، وہ سوائے ہمارے انہضام کے مسائل کے اپنے اندر کچھ نہیں رکھتی ہے۔