جانور ایک دوسرے کی بات کیسے سمجھتے ہیں؟

جانور بول نہیں سکتے ، اسی لئے ایک دوسرے سے گفتگو بھی نہیں کر سکتے ، لیکن اس کے باوجود ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ مختلف طریقوں سے اپنے جذبات احساسات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ان کے ذرائع ابلاغ کی نوعیت مختلف ہوتی ہے مثلاً غصے اور خوف کے وقت مختلف قسم کی زور دار آوازیں نکالتے ہیں اور جس طرح انسان ناپسندیدگی اور لاتعلقی کا اظہار اپنے کندھے اچکاتے ہوئے اپنے سر اور گردن کی جنبش سے اور اپنے ہاتھوں کو مختلف انداز سے ہلا کر کرتاہے، بالکل یہی طریقے جانور بھی استعمال کرتے ہیں۔

بندروں کو کسی خطرے سے خبردار کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنے منہ کھول کر پوری طاقت سے انتہائی زور دار آوازیں نکالتے ہیں۔اسی طرح مرغی اپنے بچوں کو خطرے کی نشاندہی کرنے کے لیے اچانک زمین پر پنجوں کے بل بیٹھ جاتی ہے اور زور زور سے بولنا شروع کر دیتی ہے۔ اس کے اس عمل سے بچے سمجھ جاتے ہیں کہ ماں ہمیں خطرے سے آگاہ کررہی ہے۔
کوے اپنے کسی ہم جنس کو مشکل میں دیکھ کر زور زور سے کائیں کائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس طرح آس پاس کے بے تحاشہ کوے اس جگہ جمع ہو جاتے ہیں، جہاں خطرے کا احساس ہوتا ہے۔