مولوی صاحب کا گھر

“ارے ۔۔۔ آج تم نے دعوت میں مولوی حبیب کے گھر والوں کو دیکھا؟ ان کی عورتیں کیسے عمدہ لباس پہنے بیٹھی تھیں۔ ماں نے اچھا کاٹن کا سوٹ پہن رکھا تھا اور بیوی نے بھی مشین کی کڑھائی کا جارجٹ کا سوٹ پہنا تھا۔ اور وہ بیٹی کا سوٹ ۔۔۔ ارے وہ تو وہی بنارسی سوٹ تھا جو پچھلے مہینے میں نے اپنی رابعہ کو دلایا ہے۔”

میں نجمہ خالہ کے گھر رابعہ سے ملنے گئی تو وہ اپنی پڑوسن صفیہ آنٹی سے محو گفتگو تھیں۔ کچھ دیر میں صفیہ آنٹی کی آواز آئی۔

“ہاں تو اور کیا ۔۔۔ یہ مولوی لوگ بس یوں ہی صوفی بنتے ہیں۔ مسجد میں بیٹھ کر کہیں گے سادگی، سادگی ۔۔۔ اسراف نہ کرو اور خود کو دیکھو۔ مولوی حبیب بھی خود جمعہ جمعہ کو ایسا کاٹن کا سفید کلف لگا سوٹ پہنتے ہیں کہ ہمارے میاں کے پاس بھی نہیں ۔۔۔ عمامہ جب دیکھو نیا لگتا ہے۔ چپل بھی پالش کر کے پہنتے ہیں اور پتا ہے میرا بیٹا کاشی بتا رہا تھا کہ مولوی صاحب کے بیٹے نے سائیکل بھی لے لی ہے ۔۔۔ ہونہہ اور لوگوں کہ لیکچر کہ فضول خرچی نہ کرو، اللہ کی راہ میں بھی دیا کرو اور خود کی حرکتیں دیکھو۔ یہ سارے مولوی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں”۔

“ہاں جی ۔۔۔ اور پچھلے ہفتے یہ خدیجہ کی بیٹی رملہ مجھے لے گئی ان کے گھر کہ خالہ چلو ۔۔۔ مولانا حبیب صاحب کی بیٹی ہر بدھ کو بیان کرتی ہے۔ ارے میں چلی گئی۔ وہاں بیان تو کیا سنتی، ان کے قول و عمل میں تضاد ہی دیکھتی رہی۔ کہہ رہی تھیں کہ یہ دنیا رہنے کی نہیں۔ زندگی اس دنیا کی نہیں آخرت کی زندگی اصل ہے۔ یہاں جیسی تیسی بھی زندگی گزار لیں لیکن اللہ کے حکموں پر زندگی گزاریں گے تو وہاں جنت میں عیش ملیں گے۔ اور خود کا گھر ۔۔۔ دو کمرے، پردے، بیڈ، قالین، شوکیس میں سجے برتن، غرض سب تو ہے ان کے پاس، خود عیش کرتے ہیں اور دوسروں کو ورغلاتے ہیں۔ پورے دن تو مسجد میں ہوتے ہیں۔ ملا، ملانی ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ نجانے کس کو لوٹتے ہیں۔ اب خود دیکھ لو۔ خود کیسے اچھے کپڑے پہنتے ہیں وہ لوگ۔”

نجمہ خالہ، صفیہ آنٹی سے اور نجانے کیا کیا کہتیں میں فورًا کھڑی ہو گئی۔ رابعہ نے روکا۔ “رملہ بعد میں چلی جانا”۔

مگر مجھ سے ٹھہرا ہی نہ گیا۔ گھر آ کر میں سوچتی رہی کہ لوگوں کا دین دار لوگوں کے بارے میں یہ غلط نظریہ کیوں ہے؟ اسلام پردے میں رہ کر عورت کو سجاوٹ اور سنگھار سے منع نہیں کرتا۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی خوبصورت ہیں اور خوب صورتی کو پسند فرماتے ہیں۔

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالی کو پسند ہے کہ بندے اس کی نعمت کا اظہار کرے۔

سادگی کا خیال رکھتے ہوئے خوب صورتی اور زیب و زینت اختیار کرنا اسلام میں منع نہیں۔ اگر کوئی عمدہ لباس، عمدہ رہن سہن وغیرہ کو اختیار کرے کہ یہ اللہ پاک کی دین ہے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے اوپر ظاہر کرنا بھی مستحب ہے اور اس کے دل میں ریا بھی نہ ہو تو اسلام اس سے روکتا نہیں۔ رہی بات گھر میں بیڈ، قالین، پردوں اور برتنوں کی تو زندگی گزارنے کے لیے تو سامان ضرورت چاہیے ہی۔ مولوی حضرات اور دین دار طبقہ بھی تو انسان ہیں ان کی بھی بشری ضروریات ہیں جس سے وہ کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں مولوی صاحب کے گھر تو اس قدر سادگی ہے۔ ان کے ہاں تو ایسا کچھ سامان نہیں وہ تو پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں اور فلاں مولوی اتنے اچھے طریقے سے رہتے ہیں۔ تو کیا پہلے مولوی صاحب صحیح اور دوسرے غلط ہوئے؟ نہیں جناب۔ دونوں اپنی جگہ صحیح ہیں۔ بات یہ ہے کہ پلے حضرت عزیمت پر عمل کرتے ہیں جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا شیوا ہے اور دوسرے حضرت رخصت پر۔ اور رخصت اس امت کے لیے آسانی ہے اور اس پر عمل کرنے والا بھی دین پر ہے۔ ہم اہل عزیمت کی وجہ سے اہل رخصت کو غلط نہیں کہہ سکتے۔

راحیلہ ذاکر