دادا ابو اور فہد

 فہد فہد ارے فہد۔۔۔۔۔

 ثناء نے زور زور سے پکارا۔

 آپی میں نے کتنی بار کہا ہے میرا نام فہد نہیں ہے۔ میں نے اپنا نام تبدیل کر کے صارب رکھ لیا ہے۔ برائے مہربانی آئندہ سے مجھے صارب کے نام سے پکارا کریں، فہد نے تھوڑا غصے میں کہا۔ ہاں بتائیے کیا کام ہے؟

 ثنائ: مما کہہ رہی ہیں یشفین کو اسکول سے لے کر آئیں؟

فہد: ہاں جاتا ہوں۔

 ثناء کچن میں چلی گئی۔

 مسٹر اور مسزخالد کے تین بچے تھے۔ ثناء ایف اے کی ایک ہونہار طا لبہ تھی۔ فہد بھی ہشتم جماعت کا لائق اسٹوڈنٹ تھا اور یشفین چہارم جماعت میں پڑھتی تھی۔ دو تین دنوں سے فہد پر ایک بھوت سوار تھا۔ وہ کہتا تھا میں نے اپنا نام فہد سے تبدیل کر کے صارب رکھ لیا ہے۔

جب فہد یشفین کو لے کر آیا تو دادی نے کہا۔فہد میرے بیٹے تم آگئے۔

فہد نے کہا: اوہو دادی میرا نام صارب ہے۔ دادی محلے کے بچوں کو قرآن شریف پڑھاتی تھیں۔

دادی نے کہا: کیوں؟ فہد نام تو اچھا ہے۔

 فہد: اچھا تو ہے دادی لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

 دادی : کتنا پیارا نام ہے ” فہد ” تمہارا نام تمہارے دادا نے رکھا تھا۔

فہد: دادی وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن صارب نام بھی اچھا ہے اس کا مطلب ہے عمدہ۔

دادی: میں نے کیا کہا ہے نام تو سارے اچھے ہوتے ہیں لیکن مجھے فہد نام زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اتنے میں مسٹر خالد یعنی فہد کے بابا آگئے۔

فہد: بابا آپ ہی دادی کو سمجھائیں۔

مسٹر خالد: کیا ہوا؟

 یوں فہد نے ساری بات بابا کو بتا دی۔

بابا: فہد بیٹا! دادی درست تو کہہ رہی ہیں۔ فہد ایک اچھا نام ہے۔ ہر نام کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ پھر یہ نام تمھارے داداابو نے رکھا تھا۔ بڑے قسمت والے ہوتے ہیں وہ بچے ، جن کے دادا ان کے نام رکھتے ہیں۔ اب دیکھو ثناء اور یشفین بھی اپنے نام سے خوش ہیں نا۔۔۔۔

فہد: اگر میں اپنا نام تبدیل کر لوں تو کیا دادا ابو مجھ سے ناراض ہو جائیں گے؟

مسٹر خالد: آپ اُن کے لاڈلے پوتے ہیں۔ یہ بات آپ اُن ہی سے پوچھ لیں۔فہد کے ابو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اب فہد بے چینی سے دادا ابو کے گھر واپس آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی وہ آئے تو فہد فوراً پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے ان کے کمرے میں پہنچ گیا۔

 دادا ابو: جیتے رہو۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے، آج کچھ اداس نظر آرہا ہے ہمارا پیارا پوتا؟

 فہد: جی دادا بو۔۔۔۔۔ میں اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہوں گے نا؟

 دادا ابو: نہیں ۔۔۔۔۔ میں آپ سے بالکل ناراض نہیں ہوں گا۔۔۔۔۔ مگر یہ تو بتائیے کہ آپ اپنا نام کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟

 فہد: دادا ابو ۔۔۔۔۔ دراصل کلاس میں کچھ لڑکے میرے نام کا مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور مجھے چڑاتے بھی ہیں، اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں اپنا نام ہی تبدیل کر لوں گا۔

دادا ابو: لیکن بیٹا ۔۔۔۔۔ اگر چند شرارتی لڑکے آپ کی اچھی عادتوں اور کسی نیکی کا مذاق اڑائیں گے تو آپ اپنی اچھی عادتیں تو ترک نہیں کر سکتے نا؟ اسی طرح کسی کو یہ حق نہیں کہ دوسروں کا نام بگاڑیں یا اس کا مذاق اڑائیں۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے فہد نام کے معنیٰ کیا ہیں؟ اس کا مطلب ہے ”چیتا” ۔۔۔۔ مجھے امید ہے آپ اپنے نام کی طرح چیتے جیسے بہادر بنیں گے۔۔۔۔۔ ہے نا؟

فہد: جی دادا ابو ! آپ نے آج میری آنکھیں کھول دیں۔ سچ ہے ہر نام کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ میں کو شش کروں گا کہ میں چیتے جیسا بہادر بنوں ۔ اب مجھے صبح کا انتظار ہے جب میں اپنے دوستوں کو اپنا نیا نام بتائوں گا۔

دادا ابو: نیا نام۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب؟

فہد: یہی کہ صارب تبدیل کر کے میں نے اپنا نام فہد رکھ لیا ہے۔

یہ سن کر سب ہنسنے لگے۔ سچ ہے ہر نام کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، ہمیں یہ حق نہیں ملتا کہ ہم کسی کا نام بگاڑیں یا کسی نام کی اہمیت کو تسلیم نہ کریں۔