نیکی کا سفر

“ناصر برگر جلدی سے ختم کرو، سر معین کلاس کی طرف جارہے ہیں۔” عدیل کی آواز پر ناصر جلدی جلدی برگر منہ میں ٹھونسنے لگا۔” یہ سر معین بھی نا! “قریب کھڑا حمزہ دہی بھلوں کے دو تین چمچ اکٹھے منہ میں ٹھونستے ہوئے بولا۔”

“پتا نہیں رات کو سکول آنے کی خوشی میں سوتے بھی ہیں یا نہیں۔” ناصر نے پانی کا گلاس پی کر عدیل کے ساتھ کلاس کی طرف دوڑ لگائی۔ پیچھے پیچھے حمزہ اور سرمد بھی ہانپتے کانپتے آنے لگے۔ “میں تو سر کے پاس شام کو پڑھنے بھی جاتا ہوں” سرمد دوڑتے ہوئے بولا: “یقین مانو! اپنی طرف سے جتنی جلدی چلا جائوں، سر ہمیشہ پہلے سے بیٹھے ہوتے ہیں، تیار۔ پتا نہیں گھر کا کوئی کام کرتے ہی نہیں ہیں۔” وہ جلدی سے کلاس میں داخل ہوئے، سر معین ہمیشہ کی طرح پورے وقت پر کلاس میں موجود تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ دسویں جماعت کے استاد صاحب پچھلی قطار میں اونگھتے حامد کو زور و شور سے ہلا کر کہتے، “معین صاحب کلاس کی طرف جارہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے۔ پیریڈ کا وقت ہوگیا ہے۔ جائو جا کر گھنٹی بجائو” اکثر پہلے سے موجود استاد صاحب جماعت میں ہوتے اور سر معین اپنے وقت پر کلاس تک پہنچ جاتے۔ باہر کھڑے ہو کر انتظار کرتے مگر وقت سے ادھر ادھر نہ ہوتے۔

وہ کلاس کے لڑکوں کو ہمیشہ سمجھاتے، بچو جب تک تم اپنے کام کو اہمیت نہ دو گے۔ وہ تمہیں نفع نہیں پہنچا سکے گا۔ بہت سے ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ملیں گے، یا دنیا میں بہت کام کرنے والی لوگ، مگر ان کے علم ان کے ہنر نے ان گا گھر روشن کیا۔ دل روشن نہیں کیا۔ بچے ان کی بات کان لگا کر سنتے، کوئی اس اہمیت دیتا کوئی اسے بے فکری سے اڑا دیتا۔

سکول کی خوش قسمتی کہ وہ اس سکول کے پرنسپل بنا دیئے گئے۔ ان کا زمانہ سکول کا سنہری دور تھا۔ ہر کسی میں کام کرنے کا ایک شوق، ایک جذبہ نظر آتا۔ اس وقت استاد نت نئے کپڑے پہن کر صاف کھانے پینے، وقت گزارنے یا حاضری لگانے سکول نہیں آتے تھے۔ ایک تڑپ تھی، مسلم امہ کے بچوں کی تربیت کی تڑپ جو پرنسپل صاحب سے لے کر تمام اساتذہ، طلباء اور ملازمین تک میں سرایت کر گئی تھی۔ کچھ بہتر کرنے کا جذبہ۔ جسے صرف نکمے اور سست قسم کے لوگ ہی نا پسند کرتے ہیں۔

آج پچیس سال بعد اسی سکول کے سٹاف روم میں اساتذہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ “سب ٹھیک چل رہا ہے، پر وہ بات نہیں ہے جو معین صاحب کے دور میں تھی۔ تب ہر شخص میں کچھ اچھا کرنے کا جنون تھا۔” سر عبدالباسط جن کے بال سفید ہو چکے تھے۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولے۔ “صحیح کہتے ہیں آپ، یہ کسی کا خلوص ہوتا ہے جو ہمیشہ محسوس ہوتا ہے۔ جس کا لوگ ذکر کرتے ہیں جو اس قابل ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔” پچیس سال پہلے کے طالب علم ناصر صاحب کرسی سے اٹھ کر جاتے ہوئے بولے:

قریب ایک گائوں میں درختوں سے گھرے، چار کمروں کے سکول میں پانچویں کلاس کا طالب علم اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا:

“جلدی کھان ختم کرو، سر عدیل کلاس کی طرف جارہے ہیں۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں۔ “جس علم سے تم اپنی دنیا روشن کرو، اگر وہ تمہاری آخرت روشن نہ کرے تو تمہاری بدقسمتی ہے۔” یہ وہ تڑپ تھی جو سر معین سے سفر کرتی ہوئی عدیل تک آئی اور اسی طرح سفر کرتی رہے گی۔ وہ تڑپ جو کوہ صفا پر کھڑے اس عظیم الشان انسان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پکار میں تھی۔ جو بلال کی اذان میں تھی۔ جو اول العزم مجاہدین کے سینوں میں تھی۔ نیکی کا سفر جاری رہے گا۔ اس دنیا میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی۔ دنیا اچھے انسانوں سے کبھی خالی نہیں ہوئی۔

“اور در حقیقت باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے رب کے ہاں۔ ثواب کے اعتبار سے اور بہتر ہیں جن سے امید وابستہ کی جاتی ہے۔”