کسان اور پری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گائوں میں ایک کسان رہتا تھا، وہ بہت مہربان تھا۔ ایک دن وہ اپنے کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا۔ کھیتوں کے راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا، وہ بہت پرانا کنواں تھا۔ ایک دن اس نے کنویں سے کسی کی آواز سنی، کوئی مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی۔ یہ کنواں ایک جادوگر کے قبضے میں تھا۔ کسان نے سوچا کہ شاید جادوگر عورت کاروپ بدل کر مجھے پھنسانے کی کو شش کر رہا ہے۔

جب یہ آواز مسلسل تین دن تک آتی رہی تو کسان نے ایک دن کنویں میں جھانک کر دیکھا تو یہ ایک خوبصورت پری تھی جو زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ اس پری نے کسان سے کہا کہ تم میری مدد کرو اور جب تک میںان زنجیروں میں جکڑی رہوں گی تب تک میرا کوئی جادونہیں چل سکتا۔ کسان اسی وقت گھر سے رسی لے آیا اور پری کو کنویں سے نکا لا۔ جب پری کنویں سے نکلی تو اس نے اپنی جادو کی چھڑی سے کنویں کو آگ لگا دی اور کنویں کے ساتھ جادوگر بھی مر گیا۔ پری نے کسان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب کبھی میری مدد کی ضرورت پڑے تو مجھے بلا لینا۔ پری نے کسان کو ایک انگوٹھی دی اور کہا کہ جب تم مجھے بلانا چاہو تو یہ انگوٹھی اپنے ہاتھ میں پہن لینا، میں فوراً وہاں آجائوں گی،اس کے بعد پری وہاں سے چلی گئی اور کسان اپنے گھر چلا گیا۔ ایک دن کسان کے کھیتوں میں ایک خوفناک بھیڑیا آگیا، وہ کسان کو کھانے کے لئے اس کے پاس آنے لگا، کسان بہت گھبرایا ہوا تھا، اچانک اسے پری کی بات یاد آگئی اور اس نے وہی انگوٹھی نکالی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا، پری وہاں آگئی اور اپنی جادو کی چھڑی سے اس بھڑئیے کو مار دیا، اس طرح کسان کی جان بچ گئی۔ کسان نے پری کا شکر یہ ادا کیا۔ پری وہاں سے چلی گئی۔

پیارے بچو۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہمیں بھی ایسے ہی ہر کسی کی بہادری اور دلیری کے ساتھ مدد کرنی چائیے۔