پھول اور خوشبو

پھول اور خوشبو میں جھگڑا ہو رہا تھا کہ ایک اڑتی ہوئی تتلی ان پر آ بیٹھی۔ تتلی نے پھول سے پوچھا کیوں جھگڑتے ہو، پھول نے کہا، میں ایک خوبصورت ترین رنگوں اور بہترین بناوٹ کا مالک ہوں۔ میں سجاوٹی لحاظ سے بہت اعلیٰ ہوں، مجھے ہر کوئی اپنے گھروں ، کمروں ، دفتروں، غرض محلوں میں سجاتے ہیں۔ میں قابل ذکر ہوں بہ نسبت خوشبو کے۔

خوشبو یہ تاب نہ لاسکی ۔ اس نے اپنی داستان شروع کی کہ میں ہر کسی کے سانسوں میں بستی ہوں۔ میری منزل لامحدود ہے۔ لوگ مجھے میری مہکتی خوشبو سے محسوس کرتے ہیں۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا میں سیر کرتی ہوں۔ میری پہچان یہی ہے کہ میں گلاب میں بستی ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ میں دکھائی نہیں دیتی۔ میری کوئی ظاہری شکل وصورت نہیں ہے۔ میں گلاب پر عاشق ہوں، مگر گلاب مجھ سے ناراض ہے۔ اگر میری خوشبو نہیں مہکتی تو پھول کی کوئی خاصی قدر نہیں ہوتی۔ میں پھول کی خاطر اپنی زندگی پھول ہی میں بسر کرتی ہوں۔ میں پھول ہی سے پیدا ہو کر پھول ہی میں فنا ہوتی ہوں۔ میں پھول سے مہک کر تتلیوں کو اڑاکر لاتی ہوں اور پھول کی خوبصورتی کو اور بھی قابل ناز بنا تی ہوں۔ مگر پھول مجھ سے خفا ہے کیونکہ وہ خوبصورت ہے۔ سچ ہے کہ اکثر خوبصورت لوگ بھی بے وفا ہوتے ہیں، جس طرح پھول مجھ سے خفا ہے۔

تتلی نے کہا اگر پھول نہ ہوتا تو تم بھی نہ ہوتیں اور اگر خوشبو نہ ہوتی تو پھول کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ تتلی پھول سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ خوشبو ہی مجھے مائل کر کے تجھ تک پہنچاتی ہے تو حسین تو ہے لیکن خوشبو مہک رہی ہے لیکن پھر بھی تو ناراض ہے۔ آئو یہ جھگڑا ختم ہی کر دیتے ہیں۔ اس طرح تتلی نے دونوں کی صلح کی اور پھول اور خوشبو کا جھگڑا ختم ہوا۔ مگر لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ وہ سمجھ جائیں۔ اکثر لوگ بھی پھول کی طرح خود کی خوبصورتی پر فخر کرتے ہیں لیکن وہ دوسروں کی خوبیوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہمیں پھول اور خوشبو سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور کبھی غرور نہیں کرنا چاہئے۔