احساس

شاہینہ دس سال کی ایک ذہین لڑکی تھی۔ سونے پہ سہاگہ وہ خوبصورت بھی تھی۔ اس کا ایک بھائی تھا جس کا نام ذیشان تھا اور وہ سات سال کا تھا۔ وہ امیر والدین کی اولاد تھے۔ دونوں بہن بھائی نہایت لائق تھے۔ ہر سال فرسٹ آنے والے بچوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

ہر سال ان کے پاپا مسٹر بلال ان سے کہتے تھے کہ اگر اس بار تم دونوں فرسٹ آئے تو کچھ نہ کچھ گفٹ دوں گا۔ اپنے پاپا سے گفٹ حاصل کرنے کے لیے وہ بہت زیادہ محنت کرتے اورلازماً فرسٹ آتے تھے۔ اس بار پیپرز شروع ہونے میں ایک ہفتہ باقی تھا تو وہ دونوں بہت شدت سے اس بات کا انتظار کر رہے تھے جو ان کے پاپا نے انہیں بتانی تھی۔ خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ایک رات پاپا نے ذیشان اور شاہینہ کو اپنے کمرے میں بلایا اور ان سے کہا۔ آپ کے پیپرز شروع ہونے والے ہیں، اگر ہر بار کی طرح آپ دونوں فرسٹ آئے تو میں آپ کو لاہور گھمانے لے چلوں گا۔ ویسے تو وہ دونوں کئی بار لاہور گئے تھے اور ہر بار خوب سیرو تفریح کی تھی۔ اس لیے لاہور کانام سن کر وہ بہت خوش ہوئے کیونکہ ایک بار پھر وہ خوب تفریح کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے خوب محنت کی آخر ان کے پیپرز ہو گئے۔ اب رزلٹ کا شدت سے انتظار تھا، آخر کار رزلٹ بھی آگیا جو ان کے حق میں تھا یعنی دونوں ایک دفعہ پھر فرسٹ آئے تھے۔ ان دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ کیونکہ انہوں نے اب لاہور جانا تھا۔ گھر پہنچ کر جب یہ خبر اپنے پاپا اور مما کوسنائی تو وہ بھی بہت خوش ہوئے ، اور پاپا نے ان سے کہا کل ہم لاہور چلیں گے، اس لیے پیکنگ کر لینا۔ دونوں بچے خوش خوش اپنے کمرے کی طرف چل دیئے ۔ پیکنگ مکمل ہو چکی تھی، وہ لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔ دو، تین دن وہ سارا لاہور گھومے۔ مما نے نوٹ کیا کہ شاہینہ کسی بات پر اداس ہے۔ مما کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ مما کل داتا دربار گئے تھے، وہاں میں نے ایک اپاہج کو دیکھا تھا۔ جس کے نہ تو پائوں تھے اور نہ ہی ہاتھ، اس لیے مجھے اس پر بہت ترس آیا، میں اس کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ اُس کی مما اپنی بیٹی کی باتیں سن کر بہت خوش ہوئیں اور اُس سے کہا۔ ہم کل اس کی مدد کریں گے۔ یہ باتیں اُن کے پاپا بھی سن رہے تھے۔ اگلے دن وہ سب دوبارہ داتا دربار گئے اور اس اپاہج عورت کے ساتھ ساتھ سب کی مدد کی۔ اس کے پاپا اپنی بیٹی کی سوچ سے بہت خوش بھی تھے اور حیران بھی۔

اسی طرح ہمیں بھی ہمیشہ دوسروں کی مدد کونی چاہیے ۔ ہمیں اپنے اندر یہ ”احساس ” پیدا کر لینا چاہیے، اسی طرح ہمیں دلی خوشی حاصل ہو گی۔