یورپ کی ایک روایت جسے ہمیں اپنا لینا چاہیے

السلام و علیکم! یوں تو میں یورپ سے اتنا زیادہ متاثر نہیں ہوں۔ مگر یہ چیز جو میں آپ سے شیئر کرنے جا رہا ہوں۔ قابل تعریف  اور قابل ذکر ہے۔

یورپ کے اکثر قصبوں میں دلچسپ روایت چلی آرہی ہے۔ قصبوں کی کافی(coffee) کی دکانوں اور ریستورانوں پر دیوار پر وائٹ بورڈ نصب ہوتا ہے۔ ریستوران اور کافی شاپ کے گاہک اپنے لئے چائے ، کافی اور کھانا منگواتے ہوئے بیرے کو ایک چائے وائٹ بورڈ کے لیے، ایک کافی وائٹ بورڈ کے لئے یا فلاں کھانا وائٹ بورڈ کے لیے بھی آرڈر کر دیتے ہیں۔ بیرا ان کا آرڈر انہیں دے دیتا ہے اور اضافی چائے، کھانے یا کافی کی سلپ وائٹ بورڈ پر چپکا دیتا ہے۔ لوگ کھانا کھاتے ہیں، کافی پیتے ہیں اور آخر میں بل کے ساتھ وائٹ بورڈ کے اضافی بل کی بھی ادائیگی کر دیتے ہیں۔

کھانے، کافی اور چائے کی یہ چٹیں قصبے کے ان لوگوں کے لیے ہیں جو کھانا  کھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ یہ غریب لوگ بھی عام گاہکوں کی طرح ریستوران یا کافی شاپ میں آتے ہیں ، وائٹ بورڈ کے پاس رکتے ہیں، اپنی مرضی کی چٹ اتارتے ہیں ، میز پر آکر بیٹھتے ہیں، بیرے کو وہ چٹ تھما دیتے ہیں اور بیرا عام گاہکوں کی طرح انہیں بھی احترام کے ساتھ کھانا، چائے اور کافی  پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ اگر وائٹ بورڈ سے خود چٹ نہ اتارنا چاہیں تو بیرے کے کان میں سرگوشی کر دیتے ہیں۔ “مجھے وائٹ بورڈ کی ایک کافی دے دو” اور بیرا وائٹ بورڈ سے خود چٹ اتار کر انہیں کافی، چائے اور کھانا دے دیتا ہے۔

یہ بھوکوں کو کھانا ، چائے اور کافی پلانے کا مہذب ترین طریقہ ہے۔ ہم بھی اپنے ملک میں یہ طریقہ رائج کر سکتے ہیں۔

ہم اگر اسلام کی تاریخ کی طرف جائیں تو خلفائے راشدین  نے ایسی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی سخاوت کی شہرت تو دور دور تک تھی۔ ان کے علاوہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  کی بھی ایسے ان گنت واقعات تاریخ میں ملتے ہیں جن میں انہوں نے عوام اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہت کام کیا۔

اگر صرف ایک عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اس جدید دور میں آجائے تو کوئی بھی رات کو بھوکا نہ سوئے۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

والسلام