شرارت کا انجام

صابر اور صادق دونوں بھائی تھے۔ صابر چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا جبکہ صادق پانچوں جماعت میں پڑھتا تھا۔ دونوں بھائی پڑھائی میں کافی ہونہار تھے اور کلاس میں نمایاں پوزیشن لیتے تھے۔ صابر نیک اور سمجھ دار لڑکا تھا اس کے برعکس صادق نہایت ضدی اور بے حد شرارتی تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کو پریشان کرنا اس کی عادت میں شامل تھا۔ بچہ ہو یا بوڑھا ، ہر ایک کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ صادق کی ماں اکثر اسے سمجھاتی کہ بیٹا بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کرنا چاہئے ۔ پر وہ ان کی باتوں کو نظر انداز کر دیتا ۔ ان کے محلے میں ایک بزرگ بھی رہتے تھے۔صادق انہیں بہت تنگ کرتا کبھی تو انہیں بہت غصہ آتا لیکن ان بزرگ کو بچوں سے بہت لگائو تھا اس لئے وہ صادق کو کچھ نہیں کہتے اور اس کی شرارتوں پر مسکرااٹھتے ۔

صادق کو بھی انہیں پریشان کرنے میں بہت مزہ آتا کہ یہ توکچھ کہتے ہی نہیں ہیں اور وہ ان کو مزید ستاتا اور تنگ کرتا، اسے اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ وہ اکیلے رہتے ہیں۔ کس قدر پریشان ہوتے ہوں گے۔ بس پھر تو یہ اس کا معمول بن گیا ۔ گھر سے آتے جاتے وہ ان کے دروازے کی گھنٹی بجاتا، ان کے گھر کے پاس کوڑا کرکٹ پھینکتا ، کبھی شور مچاتا۔ ایک دن حسب معمول وہ ان کے گھر کی گھنٹی بجا کر بھا گاہی تھا کہ سیڑھیوں سے پھسل گیا اور وہ زور سے جا گرا اور چیخنے لگا۔ پہلے تو ان بزرگ نے سمجھا کہ وہ جان بوجھ کر شور کر رہا ہے لیکن جب رونے کی آواز تیز ہوئی تو وہ فوراً باہر نکلے اور اسے اٹھایا۔ صادق بے ہوش ہو چکا تھا وہ اسے اسپتال لے گئے اور اس کے امی ، ابو کو بھی بلایا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کے پائوں کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور وہ چل نہیں سکتا جب تک کہ ٹھیک نہ ہو جائے۔ جب صادق کو ہوش آیا تو سب اس کے اردگرد جمع تھے۔ صادق نے جب ان بزرگ کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا تو ان سے لپٹ گیا اور رونے لگا اور کہا ، مجھے معاف کر دیں، میں نے آپ کو بہت تنگ کیا، ہر وقت پریشان کیا اور پھر بھی آپ یہاں آئے ۔ مجھے معاف کر دیں۔ مجھ سے غلطی ہو گئی ، آئندہ کبھی آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔ ان بزرگ نے صادق کو چپ کرایا، کہا تم تو میرے بیٹے جیسے ہو۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ صادق نے مسکرا کر پوچھا۔ کیا میں آپ کو دادا جان بلا سکتا ہوں؟ انہوں نے جواباً کہا کیوں نہیں اور وہ ان سے گلے لگ گیا۔
پیارے بچو ! ہمیں کسی کو بلاوجہ تنگ نہیں کرنا چاہئے، خاص کر اپنے بڑوں کو بلکہ ان سے تو ہمیں دعائیں لینی چاہئیں۔