نافرمان لڑکا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گائوں میں ایک کسان رہتا تھا اس کا صرف ایک ہی بیٹا تھا، اس کا نام اسد تھا، وہ ہر وقت آوارہ گردی کرتا تھا، کوئی کام بھی نہیں کرتا تھا۔ کسان بہت غریب تھا لیکن اس کی بیوی بہت ذہین تھی، وہ اپنے بیٹے اسد کو ہر وقت سمجھاتی، اسد تم اب بڑے ہو گئے ہو، اپنے باپ کے ساتھ کھیتوں میں کچھ کام کروایا کرو، تمہارا باپ اب بوڑھا ہو چکا ہے، کوئی کام نہیں کر سکتا ، تمہارے والد کو آرام کی سخت ضرورت ہے۔

اسد ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا تھا۔ وہ اپنی ماں کی باتوں پر توجہ نہیں دیتا تھا، ایک دن وہ گھومتے گھومتے کسی گھنے جنگل میں جا پہنچا ، وہ آرام کے لئے ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچا نک اس نے درخت پر بیٹھے دو طوطے بھائیوں کی باتیں سنیں ۔ طو طے کہہ رہے تھے کہ جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے، ان کا کہنا نہیں مانتا اور ان سے لڑتا جھگڑتا ہے، اسے کوئی پسند نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں سے ناراض ہوتا ہے، یہ سن کر اسد کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس نے اپنے گھر واپس آکر والدین سے معافی مانگی ۔ اسد کے والدین بھی یہ دیکھ کر خوش ہو گئے اور کہا کہ اسد کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ پیارے بچو! نافرمانی کر نے سے ماں باپ کا دل دکھتا ہے اور لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے والدین کی عزت کریں۔