اس کی بات

“مجھے حکومت کی طرف سے ایک بڑی عمارت بنوانے کا حکم ملا۔ اخبار میں اشتہار شائع کرادو۔ عمارت بنانے والے ٹھیکیدار رابطہ کریں”۔

صولت نسیم نے اپنے سیکرٹری کو ہدایات دیں اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ دوسرے دن کے اخبار میں اشتہار موجود تھا۔ صولت نسیم ٹھیک نو بجے دفتر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہی سیکرٹری خالد شریف کو بلا لیا۔ اخبارات وہ پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔

“ہاں شریف صاحب! کیا رپورٹ ہے؟”

“سر! کوئی بیس کے قریب ٹھیکے دار آئے ہیں ، انہیں تفصیلات بتا دی گئیں ہیں۔ یعنی عمارت کہاں بنائی جائے گی۔ اس کی لمبائی چوڑائی، اونچائی، کمرے غرض ایک ایک تفصیل انہیں تحریری طور پر دے دی گئی ہے ۔۔۔ اب وہ اپنا اپنا حساب لگانے میں مصروف ہیں ۔۔۔ آپ جس وقت پسند کریں، انہیں آپ کے کمرے میں بھیجنے کا پروگرام شروع کردیا جائے گا”۔

“ہوں ۔۔ ۔ انہیں حساب کتاب اور جائزے کے لیے وقت دے دیا جائے۔۔۔ اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کب تک اس بارے میں بات چیت کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔۔۔ جو ٹھیکیدار جو تاریخ بتائے، وہ لکھ لی جائے اور اسی کے مطابق انٹرویو کے لیے آجائے۔”

“او کے سر”

خالد شریف نے کہا اور اٹھ کر اس کمرے کی طرف چلے گئے جہاں ٹھیکیدار بیٹھے تھے۔ ایک ہفتے بعد ٹھیکیداروں سے انٹرویو شروع ہوا۔ عمارت بہت بڑی تھی اور معاملہ کروڑوں کا تھا۔ سب سے پہلے جس ٹھیکیدار کو لایا گیا۔ اس کا نام ارشد منیر جیلانی تھا۔ “تشریف رکھیں ۔۔۔ ارشد منیر جیلانی صاحب”۔

صولت نسیم نے اس کی فائل پر سے نظر ہٹا کر اس سے ہاتھ ملایا اور کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ ٹھیکیدار عاجزانہ انداز میں مسکین صورت کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

اپنے متعلقہ ہلکوں میں صولت نسیم کافی مشہور تھے، ان کے بارے میں خبریں بھی مختلف قسم کی تھیں۔ باز کے نزدیک وہ بہت دیانت دار تھے، جب کہ اکثر کا خیال تھا کہ وہ بہت بڑے رشوت خور ہیں۔

“آپ کی فائل میں نے دیکھی ہے ۔۔۔ 15 کروڑ میں ٹھیکہ چاہتے ہیں آپ ۔۔۔ یہی بات ہے۔”

“جی سر ۔۔ ” ارشد منیر جیلانی نے دبی دبی آواز میں کہا۔

“پندرہ کروڑ۔۔۔ یہ بات ذہن میں رہے جیلانی صاحب ۔۔۔ ابھی مجھے اوپر والوں کے سامنے بھی ساری تفصیلات رکھنی ہیں ۔۔۔ تمام ٹھیکیداروں کے حسابات ان کے علم میں لائے جائیں گے ۔۔۔ اب کس کا ٹھیکہ منظور ہوتا ہے ۔۔۔ یہ مجھے معلوم نہیں ۔۔۔ آپ اس بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ “انہوں نے نپ تلے الفاظ میں بات کی۔”

“کیوں نہیں سر ۔۔ آپ جو حصہ فرمائیں ۔۔ آپ کا رکھا جائے گا ۔۔۔ پندرہ میں کم سے کم ایک کروڑ آپ کے ہوں گے۔”

“بس ایک کروڑ ۔۔۔ میں اوپر والوں کو کیا دوں گا اور خود کیا رکھوں گا؟”

“سر معاملہ ایک بڑی عمارت کا ہے ۔۔۔ اس میں میٹی ریل ناقص تو لگایا نہیں جا سکتا۔۔۔ کل کلاں کو عمارت گر گئی تو کیا ہوگا۔۔۔ آپ اس پر غور کریں۔”

“سب باتیں ہماری نظروں میں ہیں۔۔۔ تمام ٹھیکیداروں نے جو جو رقم لکھی ہے ۔۔۔ میں ان سب کو پڑھ چکاہوں۔۔۔ اور میں اتنا بچہ نہیں ہوں ۔۔۔ محکمے نے مجھے اس سیٹ پر ایسے ہی نہیں بٹھا دیا۔۔۔ آپ کھل کر بات کریں۔”

“بہت بہتر سر ۔۔۔ پندرہ کروڑ میں سے پانچ کروڑ آپ کے اور اوپر والوں کے ہوں گے۔۔۔ اس سے کم میں میں یہ ٹھیکہ نہیں لے سکتا۔۔۔ کیوں کہ معاملہ بڑی عمارت کا ہے ۔۔ اور میٹی ریل غلط نہیں لگایا جا سکتا۔”

“اچھی بات ہے ۔۔۔ میں یہاں آپ کی فائل پر نوٹ لکھ لیتا ہوں۔۔۔ اوپر والوں کے سامنے ساری بات رکھی جائے گی ۔۔۔ اور تمام ٹھیکیداروں کی رقموں کا جائزہ لیا جائے گا۔۔۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوا، اسے بتا دیا جائے گا۔۔۔ آپ کے طرف سے آخری پیش کش یہی ہے نا ۔۔۔ پندرہ کروڑ کا ٹھیکہ ۔۔۔ اس میں پانچ کروڑ ہمارے۔”

“جی ہاںسر ۔۔۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔۔۔ معاملہ بڑی عمارت کا ہے۔”

“ٹھیک ہے ۔۔۔ آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔۔۔”

ارشد منیر جیلانی کے بعد جس ٹھیکیدار کو بلادیا گیا اس کا نام ابرار توصیف تھا۔۔۔ اس نے بیس کروڑ لکھے تھے ۔۔ اور معاملہ طے کرنے کے لیے دس کروڑ تک تیار تھا۔۔۔ یعنی دس کروڑ صولت نسیم اور اوپر والوں کے اور دس کروڑ اسے وصول کرکے عمارت بنوانی تھی۔۔۔ صولت نسیم صاحب نے اپنی بات اسے بتائی اور تیسرے ٹھیکیدار کو بلایا ۔۔۔ اس طرح ٹھیکیدار باری باری آتے گئے۔۔۔ کسی نے پندرہ ، کسی نے بیس میں تو کسی نے پچیس کروڑ میں ٹھیکہ دینے کی پیش کش کی تھی۔۔۔ اور ان سب کا حصہ بھی پانچ سے دس کروڑ تک رکھا گیا تھا۔۔۔ آخر میں ایک دبلے پتلے سے ٹھیکیدار اندر آئے ۔۔۔ ان کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے صولت نسیم نے ان کی فائل کو دیکھا، پڑھا ۔۔۔ پھر ان کے چہرے پر نظر ڈالی ۔۔۔ پھر فائل کو دیکھا ۔۔۔ ایسا انہوں نے کئی بار کیا ۔۔۔ چہرے پر حیرت کے بادل گہرے ہوتے جارہے تھے ۔۔۔

“آپ ہیں عبداللہ بن عامر۔”

“جی” وہ مسکرائے۔

“آپ نے ٹھیکے کے لیے دس کروڑ طلب کیے ہیں۔”

“جی ہاں! اس عمارت کا ٹھیکہ دس کروڑ سے کم کا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ میں نے تمام حساب کتاب لگا لیے ہیں۔۔۔ عمارت ایک سال میں تیار ہوگی۔۔۔ اور امکان یہی ہے کہ دس کروڑ میں مشکل سے پچاس لاکھ مجھے بچیں گے۔۔۔ لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ دس کروڑ ہی خرچ ہوجائیں۔۔۔ اور میں نہ نفع میں رہوں اور نہ نقصان میں۔۔۔ اور میری ایک سال کی محنت ضائع جائے۔۔۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں ہوگا ۔۔۔ میری وجہ سے نہ جانے کتنے مزدوروں کو ایک سال تک روزگار ملے گا۔۔۔

میں چاہوں تو دس کروڑ میں کافی کچھ کما سکتا ہوں ۔۔۔ لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔۔۔ کیوں کہ یہ انسانی زندگیوں کو دائو پر لگانے والی بات ہوگی۔۔۔ ناقص میٹی ریل استعمال کیا گیا تو تمام مرنے والوں کا خون میری گردن پر ہوگا ۔۔۔ ایسی روزی کا کیا فائدہ۔۔۔ “یہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔۔۔”

“اور ہمارا حصہ۔۔۔ آپ جانتے ہیں ۔۔ مجھے اپنے ساتھ اوپر والوں کو بھی حصہ دینا ہوگا۔۔۔ آپ سے پہلے تمام ٹھیکیدار نے پچیس سے پندرہ کروڑ تک طلب کیے ہیں اور میرے اور اوپر والوں کے لی اس میں سے ایک کروڑ سے دس کروڑتک کی پیش کش کی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں۔”

“جی میں ۔۔۔ میں اپنی بات کہتا ہوں۔” وہ مسکرائے۔

“اپنی بات، کیا مطلب؟”

“میں یہ کام نہیں کرتا۔۔ ۔ دس کروڑ کے ٹھیکے میں آپ کا اور اوپر والوں کا ایک پیسہ نہیں ہوگا۔ ایک سال بعد جو اخراجات ہوں گے۔ جو اس ساری محنت کے بعد بچتے ہوں گے۔۔ اس کا حساب بھی آپ کو دکھا دوں گا۔۔۔ آپ میرے لیے اس رقم کا جائز سمجھیے گا تو ٹھیک۔۔ ورنہ جتنی رقم آپ اس میں سے میرے لیے جائز خیال کریں، میرے پاس رہنے دیجیے گا۔۔۔ باقی میں سرکاری خزانے میں جمع کرادوں گا۔۔۔ یہ میری آخری بات ہے۔”

صولت نسیم لگے انہیں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے۔۔۔ پھر وہ اچھل کر کھڑے ہوگئے۔۔ ان کے نزدیک آئے اور انہیں اپنے گلے سے لگا لیا۔۔۔ ایسے میں انہوں نے کہا:

“اس عمارت کے لیے مجھے آپ کی ہی تلاش تھی۔ آپ کو یہ ٹھیکہ مبارک ہو۔”

سرور مجذوب