سوچ کی تبدیلی

آج تجمل حسین صاحب لاہور اپنے بڑے بیٹے کے پاس جا رہے تھے۔ وہ گزشتہ تین سالوں سے اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ ملتان میں رہائش پذیر تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو سب گھر والوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خاطر داری شروع کر دی۔ ان کو دیکھ کر ان کے پوتی پوتے بہت خوش تھے۔ انہوں نے دادا جان سے فرمائش کی۔ دادا جان ! آج کوئی کہا نی سنا دیں۔ دادا جان اب پریشان تھے کہ بچے تو اب بڑے ہو گئے ہیں، ان کو کون سی کہانی سنائی جائے۔

دادا کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے کہ آج تم سب مجھے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں بتائو گے۔ سب نے ایک آواز میں کہا۔ کیوں نہیں ۔ سب سے پہلے احمد بولا کہ میں بڑا ہو کر انجینئر بنوں گا اور خوب دولت جمع کروں گااور ایک بہت امیر ترین علاقے میں اپنا بنگلہ بنائوں گا۔ اتنے میں ذیشان بولا۔ میں پائلٹ بنوں گا اور احمد سے زیادہ دولت جمع کروں گا۔ اتنے میں ثناء جو کب سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی، بولی کہ میں ایک بڑا سا اسکول بنائوں گی جس میں امیر کبیر لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کریں گے۔ اب باری رضا کی تھی۔ رضا ان سب سے چھوٹا اور بہت معصوم تھا، وہ بولا ۔ دادا ! میں فوجی بنوں گا، ایک بہادراور طاقتورفوجی۔۔۔۔ ویسے بھی فوجی سے تمام لوگ ڈرتے ہیں۔

اب آخر میں نعمان رہ گیا تھا، وہ بولا۔ میں ڈاکٹر بنوں گا، دونوں ہاتھوں سے دولت کمائوں گا۔ دادا جان ! آپ دیکھئے گا کہ ان سب سے زیادہ بینک بیلنس میرا ہی ہو گا۔ دادا جان نے جب بچوں کی باتیں سنیں تو وہ بہت پریشان ہو گئے اور بولے کہ تم سب نے تو بہت اچھے پیشے اختیار کرنے کا سوچا ہے لیکن تمھارے خیالات کچھ غلط ہیں، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا اور ہماری زندگی کا مقصد تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے اور اسی کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرنی چائیے۔ ثناء نے دادا جان سے کہا کہ کیا آپ کی نظر میں ڈاکٹر، انجینئر اور اس طرح کے دوسرے پیشوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ دادا جان نے ثناء کو دیکھتے ہوئے کہا کہ بیٹا! تعلیم دو طرح کی ہوتی ہے، ایک دنیاوی فنون کو جاننا اور دوسری آخرت کے امتحان کیلئے حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے لیکن آج ہم دنیاوی کاموں میں اس قدر مگن ہو گئے ہیں کہ آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں، دنیا کی دولت کو سمیٹنے کی ہر وقت فکر رہتی ہے اور اسی کی خاطر بہت سے لوگ ناجائز کام کرتے ہیں ، اب رشوت ہمارے معاشرے کا ایک عام چلن بن چکا ہے اور مغربی برائیاں ہمیں ایک گہرے کنویں میں دھکیل رہی ہیں۔

میرے بچو ! اگر تم نے دولت کی ہی فکرکرنی ہے تو آخرت کی دولت کی فکر کرو اور جتنی نیکیاں کر سکتے ہو، کرو کہ وہ تمہیں آخرت کے امتحان میں پاس کروا سکیں۔ تمام بچے دادا جان کی باتیں بہت دھیان سے سن رہے تھے۔ سب بچوں نے وعدہ کیا کہ وہ دادا جان کی باتوں پر عمل کریں گے لیکن ابھی ننھے رضا کے دماغ میں ایک سوال باقی تھا۔ وہ بولا کہ دادا جان ! ہم کتنی نیکیوں سے آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟ دادا جان بولے ۔ اگر تمھاری ایک آنکھ یعنی صرف ایک نعمت لے لی جائے تو۔۔۔۔۔؟ رضا نے کہا ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ہوں، اگر ایسا ہو جائے تو میں تمام عمر روتا رہوں گا۔

دادا جان نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کی قیمت اس کی تمام عمر عبادت کریں تو بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ رضا نے کہا۔ تو دادا جان ہم تو لاکھوں کروڑوں زندگیوں میں بھی اس کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتے ہیں ، تو پھر ہم ایک زندگی میں کیا کر سکتے ہیں، یہ تو بہت چھوٹی سی مدت ہے۔ داد جان نے کہا۔ بالکل درست کہا رضا تم نے، لیکن ہم اس قدر دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو جاتے ہیں کہ اپنے خالق ، مالک اور اس کی نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ رضائے الٰہی کے تابع کر دیں۔