اللہ کی قدرت

زیبرے کی دھاریاں اسے دشمن سے بچانے کے لیے کیموفلاج (Camouflage) کا کام کرتی ہیں۔ کیموفلاج کا مطلب ہے۔ انسان یا چیزوں کو دشمن کی نظر سے چھپانے کے لیے انھیں ایسے کپڑے پہنانا یا ان پر رنگ و روغن کرنا یا ان پر درخت کی شاخیں رکھ دینا کہ وہ ارد گرد کے قدرتی ماحول کا حصہ معلوم ہوں اور آسانی سے پہچان میں نہ آئیں، اسی لیے جو فوجی میدانی حصوں یا جنگلوں میں جنگ کرتے ہیں، انھیں عام طور پر انہیں خاکی وردی پہنائی جاتی ہے جس پر سبز رنگ کی پھول پتیاں بنی ہوتی ہیں۔ اس طرح دشمن انہیں آسانی سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہاں چڑیا گھر وغیرہ میں زیبرے کو دیکھ کر سب فوراً پہچان لیں گے مگر زیبرے کو یہ سیاہ بھورے رنگ کی دھاریاں اصل میں اس وقت کام دیتی ہیں جب وہ درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپا ہوا ہو اور شیر اسے پھاڑ کھانے کے لیے ڈھونڈ رہا ہو۔ اب ایک اور دلچسپ بات بھی جان لیں کہ جیسے ایک انسان کے ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات دوسرے انسان کی انگلیوں کے نشانات سے نہیں ملتے، اسی طرح قدرت نے لاکھوں زیبروں کی دھاریاں بھی الگ الگ بنائی ہیں۔ ایک کی دھاریاں دوسرے سے نہیں ملتیں۔ اللہ اکبر۔

شاھراہ ریشم یا شاھراہ قراقرم

شاھراہ ریشم کا دوسرا نام شاھراہ قراقرم ہے۔ یہ 1300 کلومیٹر طویل ہے۔ اس کا پاکستانی حصہ 860 کلومیٹر ہے۔ جو ایبٹ آباد سے خنجرآب تک ہے، جب کہ چین میں اس کی لمبائی 494 کلومیٹر ہے۔ اس کی انتہائی بلندی 15397 میٹر ہے۔ اس سڑک کی تعمیر میں پاکستان کی جانب سے جدید انداز میں 1966 میں پاک فوج نے شروع کی جو 13 برس میں 1979 میں مکمل ہوئی، اس کی تعمیر میں ہر کلومیٹر پر ایک سپاہی شہید ہوا۔ یہ شاہراہ یکم مئی سے 31 دسمبر تک کھلی رہتی ہے۔ جولائی اگست میں بارشوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے خطرناک ہو جاتی ہے اور دسمبر کے آخر میں دوبارہ برف باری کی وجہ سے بند کردی جاتی ہے۔

Continue reading “شاھراہ ریشم یا شاھراہ قراقرم”