مار نہیں پیار

آج دعا جب اسکول سے واپس آئی تو بے حد پریشان نظر آرہی تھی۔ مما کے بار بار پو چھنے پر آخر اس نے بتا دیا کہ آج میں جب سکول گئی تو بہت خوش تھی۔ میں اور ثناء (اس کی کلاس فیلو)تفریح تک خوش رہیں پھر تفریح کے بعدمیڈم نے آکر دھماکہ کیا کہ کل سے آپ کے سالانہ امتحان شروع ہوں گے اور مما آپ یہ تو سنیں کہ پہلا پیپر ریاضی کا ہے؟

Continue reading “مار نہیں پیار”

کبھی ہم خو بصورت تھے

یہ دیکھو! یہ اس وقت کی بات ہے، جب ہم اکثر زمین پہ جاتے تھے اور انسانوں کے مختلف کام آتے تھے۔ ان کی مدد کرتے تھے مگر اکثر ہم لوگ خود ہی ان سے متاثر ہو جاتے تھے کیونکہ اللہ نے انسان کو تما م مخلوقات سے افضل بنایا ہے۔ انسان کے اندر وہ خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں کہ ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ”نیلم پری نے کہا۔ ستارہ اور گل پری بہت اشتیاق اور حیرانگی کے ساتھ دیکھ رہی تھیں ۔ ایک کے بعد ایک منظر بدل رہا تھا، ستارہ کا جوش و خروش بھی بڑھتا جا رہا تھا۔” دیکھا! میں نہیں کہتی تھی کہ ” انسان” کتنے اچھے ہیں۔” ستارہ پری نے جذباتی ہو کر کہا۔

Continue reading “کبھی ہم خو بصورت تھے”

درزی اور سپاہی

ایک درزی اپنی چالاکی اور ہوشیاری میں مشہور تھا۔ کچھ لوگ ایک جگہ پر بیٹھے اس درزی کی چالاکی کے قصے ایک دوسرے کو بڑھا چڑھا کر سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ وہ درزی تو بڑے کمال کا آدمی ہے۔ ہم نے اس قدر عیار اور چالاک درزی نہیں دیکھا ، کوئی کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو اور درزی کے سامنے بیٹھ کر اپنا کپڑا کٹوائے پھر بھی اپنی چالاکی سے کام لے کر تھوڑا بہت کپڑا چوری کر ہی لیتا ہے اور کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔

Continue reading “درزی اور سپاہی”

احساس

شاہینہ دس سال کی ایک ذہین لڑکی تھی۔ سونے پہ سہاگہ وہ خوبصورت بھی تھی۔ اس کا ایک بھائی تھا جس کا نام ذیشان تھا اور وہ سات سال کا تھا۔ وہ امیر والدین کی اولاد تھے۔ دونوں بہن بھائی نہایت لائق تھے۔ ہر سال فرسٹ آنے والے بچوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

Continue reading “احساس”

حسین شہزادی

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک نیک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنی رعایا کے ساتھ بہت نیک سلوک کرتا تھا، اس کی چار بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک شہزادی بہت حسین تھی، جس کی خوبصورتی پر باقی شہزادیاں نفرت کرتی تھیں۔ اس شہزادی کا نام شہزادی سوہانہ تھا۔ ایک دفعہ ان کا باپ کسی کام کی غرض سے بیرون ملک گیا، اس نے اپنی ساری بیٹیوں سے ان کی خواہشات پوچھیں۔ ان تین بہنوں نے قیمتی زیورات لانے کو کہا جب بادشاہ نے چوتھی بیٹی سے پوچھا کہ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دو ؟

Continue reading “حسین شہزادی”

کسان اور پری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گائوں میں ایک کسان رہتا تھا، وہ بہت مہربان تھا۔ ایک دن وہ اپنے کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا۔ کھیتوں کے راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا، وہ بہت پرانا کنواں تھا۔ ایک دن اس نے کنویں سے کسی کی آواز سنی، کوئی مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی۔ یہ کنواں ایک جادوگر کے قبضے میں تھا۔ کسان نے سوچا کہ شاید جادوگر عورت کاروپ بدل کر مجھے پھنسانے کی کو شش کر رہا ہے۔

Continue reading “کسان اور پری”

ایماندار لڑکا

آفتاب ایک بہت ہی ایماندار لڑکا تھا۔ روز کی طرح آج بھی وہ اسکول جا رہا تھا کہ اسے راستے میں ایک خوبصورت لال رنگ کی تھیلی ملی۔ اس نے سوچا کہ تھیلی اٹھائوں ، پھر اس نے سوچا کہ کسی نے دیکھ لیا تو وہ مجھ پر چوری کا الزام لگا دے گا پھر اسے خیال آیا کہ یہ تھیلی اٹھالو ں، جس کی ہو گی پھراسے ضرور واپس کر دوں گا۔ اس نے ادھراُدھر دیکھا کوئی نہیں تھا، اس نے تھیلی اٹھالی اور جب اسے کھول کر دیکھا تو اس میںدس روپے تھے۔ اس نے سوچا ابھی یہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں، اسکول کے لئے دیر ہو رہی ہے، جب چھٹی کے وقت آئوں گا تو جس کی ہو گی ، اسے دے دوں گا، چنانچہ وہ اسکول چلا گیا۔ وہ اسکول میں سارا دن سوچتا رہا کہ آخر یہ تھیلی کس کی ہو گی اور ہیں بھی اس میں دس روپے ۔۔۔! چنانچہ کچھ ہی دیر میں اسکول کی گھنٹی بج گئی۔ وہ فوراًاسکول کے گیٹ سے باہر نکلا اور تھیلی کے اصلی مالک کو ڈھونڈنے لگا۔

Continue reading “ایماندار لڑکا”

انوکھا انعام

کسی گائوں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔کسان سارا دن اپنے کھیت میں محنت کرتا۔ کسان کے پڑوس میں ایک سنار کا گھر تھا۔ یہ سنار امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد لالچی بھی تھا۔ ایک مرتبہ کسان نے اپنے کھیت میں کدوئوں کی فصل اگائی ۔ فصل بہت اچھی ہوئی اور کھیت بڑے بڑے کدوئوں سے بھر گیا۔ ایک کددو تو اتنا بڑا ہو گیا کہ اس جیسا کدو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ کسان بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ غیر معمولی کدو بادشاہ سلامت کو پیش کر دوں۔ وہ اسے ایک گاڑی میں رکھ کر بادشاہ کے دربار میں لے گیا اور بادشاہ سے عرض کیا۔

Continue reading “انوکھا انعام”

مٹھو چاچا کی میٹھی جیت

ایک گائوں میں ایک آدمی رہتا تھا۔ اُس کا نام حیدر تھا۔ حیدر بہت غریب تھا۔ مگر اس کی ایمانداری کے چرچے پورے گائوں میں تھے۔ دراصل وہ ایک حلوائی تھا۔ وہ ایسے ‘ میٹھے پکوان’ بناتا تھا کہ جو ایک بار کھاتا بار بار آتاتھا ۔ میٹھی چیزیں بنانے کی وجہ سے اسے لوگ مٹھو چاچا کہتے تھے۔ وہ ایک رحم دل آدمی بھی تھا ۔اس کے سارے گھر کا خرچہ اسی دکان سے نکلتا تھا۔ اس کی دکان کے قریب اس کے بھائی کی بھی دکان تھی۔ وہ مٹھو چاچا سے بہت نفرت کرتا تھا۔ مٹھو چاچا کی ایمانداری کے چرچے پورے گائوں میں پھیل گئے تھے۔ گائوں کا سر دار اسے آزمانا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ جائواس کی دکان کے آگے ایک برتن میں لڈو رکھ آئو۔

Continue reading “مٹھو چاچا کی میٹھی جیت”